دوستوں رشتہ داروں کو دبئی بلوائیں، ہزاروں درہم کا فائدہ اٹھائیں مگر کیسے؟

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ کے باعث خلیجی خطے میں سیاحت بری طرح متاثر ہوئی، جس کے نتیجے میں دبئی کے ہوٹل، ایئرلائنز اور کاروباری مراکز کو بھی نمایاں نقصان اٹھانا پڑا۔ اس صورتحال سے نمٹنے اور عالمی سیاحوں کو دوبارہ متوجہ کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات نے ‘دبئی انوائٹ’ کے نام سے ایک نئی سکیم متعارف کرائی ہے، جس کے تحت دبئی کے رہائشی اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت کے لیے مدعو کر کے تین ہزار درہم سے زائد مالیت کی رعایتیں اور خصوصی سہولیات حاصل کر سکتے ہیں۔ ہوٹلوں میں 45 فیصد تک رعایت، سستے ٹکٹ، ریستورانوں اور تفریحی مقامات پر خصوصی ڈسکاؤنٹس اس سکیم کا حصہ ہیں، جسے دبئی کی سیاحتی صنعت کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

مبصرین کے بقول امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگ کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی تک محدود نہیں رہے بلکہ اس نے متحدہ عرب امارات، خصوصاً دبئی کی سیاحتی صنعت کو بھی شدید متاثر کیا۔ فضائی آپریشنز میں رکاوٹ، کئی پروازوں کی معطلی، میزائل اور ڈرون حملوں کے خدشات اور غیر ملکی سیاحوں کے تحفظات کے باعث دبئی میں سیاحوں کی آمد میں نمایاں کمی دیکھی گئی، جس سے ہوٹل انڈسٹری، سفری شعبے اور کاروباری سرگرمیوں کو بڑا دھچکا پہنچا۔

اسی تناظر میں دبئی کے محکمہ معیشت و سیاحت نے ‘دبئی انوائٹ’ سکیم متعارف کرائی ہے، جس کا مقصد دنیا بھر سے سیاحوں کو دوبارہ دبئی کا رخ کرنے کی ترغیب دینا ہے۔ اس سکیم کے تحت متحدہ عرب امارات کے رہائشی اپنے خاندان اور دوستوں کو دبئی آنے کی دعوت دے سکتے ہیں، اور ان کی آمد پر میزبان کو تین ہزار اماراتی درہم سے زائد مالیت کے خصوصی فوائد اور رعایتی پیکجز فراہم کیے جائیں گے۔

یہ سکیم 20 جولائی سے 31 اکتوبر 2026 تک جاری رہے گی، جبکہ حاصل ہونے والی رعایتیں 31 دسمبر 2026 تک استعمال کی جا سکیں گی۔ ہر رہائشی زیادہ سے زیادہ تین ڈسکاؤنٹ پیکجز حاصل کر سکے گا، جن میں ہوٹلوں میں 45 فیصد تک رعایت، ریستورانوں میں خصوصی ڈسکاؤنٹس، سیاحتی مقامات کی سستی ٹکٹیں اور ٹرانسپورٹ سروسز پر خصوصی آفرز شامل ہیں۔

سکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ میزبان متحدہ عرب امارات کا قانونی رہائشی ہو، اس کی عمر 18 سال سے زائد ہو اور اس کے پاس اماراتی شناختی کارڈ موجود ہو۔ دوسری جانب مہمانوں کو سیاحتی ویزے پر دبئی آنا ہوگا اور ہر مہمان کو صرف ایک مرتبہ نامزد کیا جا سکے گا۔

رپورٹس کے مطابق جنگ کے بعد دبئی کے متعدد معروف ہوٹلوں میں کمرے خالی پڑے ہیں، کئی کاروباروں کی آمدن میں 50 فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی جبکہ بعض بڑے ہوٹل عارضی طور پر بند بھی کر دیے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ دبئی انتظامیہ نے سیاحت کی بحالی کے لیے اس خصوصی مہم کا آغاز کیا، جسے ابتدائی 48 گھنٹوں میں ہی زبردست پذیرائی ملی اور دس ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہو گئیں۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ منصوبہ کامیاب رہا تو نہ صرف دبئی کی سیاحتی صنعت کو دوبارہ سہارا ملے گا بلکہ ہوٹلنگ، ٹرانسپورٹ، ریٹیل اور دیگر کاروباری شعبوں میں بھی معاشی سرگرمیاں تیزی سے بحال ہونے کا امکان ہے۔

Back to top button