بھارت میں جاری طلبا تحریک نے مودی سرکار کے چھکے کیسے چھڑائے؟

بھارت میں میڈیکل داخلہ امتحان نیٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف شروع ہونے والی طلبہ تحریک اب صرف تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ نہیں رہی بلکہ سیاسی، قانونی اور سفارتی بحث کا مرکز بن چکی ہے۔ دہلی پولیس کی جانب سے 480 پاکستانی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کرنے، غیرملکی فنڈنگ اور بیرونی مداخلت کے الزامات نے تنازع کو مزید گہرا کر دیا ہے، جبکہ احتجاجی طلبہ، منتظمین اور متعدد سیاسی مبصرین ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے اسے عوامی احتجاج کو کمزور کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ ادھر حکومت کا مؤقف ہے کہ بیرونی عناصر سوشل میڈیا کے ذریعے گمراہ کن مہم چلا رہے ہیں، جبکہ ناقدین کے مطابق احتجاج کی بنیادی وجہ امتحانی نظام میں مبینہ بے ضابطگیاں اور نوجوانوں کی بے چینی ہے۔
مبصرین کے مطابق بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں میڈیکل داخلہ امتحان (نیٹ) میں مبینہ پرچہ لیک اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف جاری طلبہ احتجاج نے اب ایک نئی سیاسی اور سفارتی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ جہاں ایک جانب ہزاروں طلبہ شفاف امتحانی نظام، ذمہ داران کے خلاف کارروائی اور تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں، وہیں دوسری جانب احتجاج کے پس منظر میں غیرملکی فنڈنگ اور پاکستانی سوشل میڈیا سرگرمیوں کے الزامات بھی زیرِ بحث آ گئے ہیں۔
دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے پاکستان سے منسلک 480 سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی نشاندہی کر کے انہیں بند کر دیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ اکاؤنٹس احتجاج سے متعلق مبینہ طور پر گمراہ کن معلومات اور پروپیگنڈا پھیلا رہے تھے، جبکہ طلبہ اور نوجوانوں کو بیرونی سوشل میڈیا مہمات سے محتاط رہنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
اسی دوران دہلی ہائی کورٹ میں ایک عوامی مفاد کی درخواست دائر کی گئی ہے، جس میں قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ 20 جولائی کو ہونے والے "پارلیمنٹ چلو” احتجاج کے پس منظر، مبینہ غیرملکی مالی معاونت اور ممکنہ سازش کی تحقیقات کی جائیں۔ درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ احتجاج کے باعث معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہوئے اور اس کے ممکنہ محرکات کی مکمل چھان بین ضروری ہے۔
دوسری جانب احتجاجی طلبہ تنظیموں اور نوجوان کارکنوں نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان کی تحریک مکمل طور پر مقامی اور عوامی نوعیت کی ہے۔ ان کے مطابق لاکھوں طلبہ کے مستقبل سے جڑے امتحانی تنازعات، بے روزگاری، تعلیمی نظام پر اعتماد میں کمی اور مبینہ پرچہ لیک جیسے مسائل نے نوجوانوں کو سڑکوں پر آنے پر مجبور کیا۔
احتجاج کے دوران پاکستانی سوشل میڈیا شخصیات کی جانب سے بھارتی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی بھی توجہ کا مرکز بنا۔ بعض پاکستانی انفلوئنسرز نے نوجوان مظاہرین کی حمایت میں پیغامات جاری کیے، جنہیں بھارت میں بھی بڑی تعداد میں دیکھا گیا اور بعض بھارتی فنکاروں اور عوامی شخصیات نے ان پر مثبت ردِعمل کا اظہار کیا۔ تاہم بھارتی حکومت کے بعض حامی حلقوں نے انہی سرگرمیوں کو بیرونی اثر و رسوخ کے تناظر میں پیش کیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق بھارت میں بڑے عوامی احتجاجوں کے دوران غیرملکی فنڈنگ یا بیرونی سازش کے الزامات ماضی میں بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ ان کے نزدیک موجودہ احتجاج کی بنیادی وجوہات امتحانی بے ضابطگیوں، نوجوانوں کی مایوسی، روزگار کے مسائل اور حکومتی پالیسیوں پر عوامی ردِعمل سے جڑی ہوئی ہیں، جبکہ غیرملکی مداخلت کے دعووں کے حوالے سے اب تک عوامی سطح پر کوئی مصدقہ شواہد پیش نہیں کیے گئے۔
دہلی یونیورسٹی کے سیاسی مبصر پروفیسر اپوروانند کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے الزامات ماضی کی کئی تحریکوں میں بھی لگائے گئے، تاہم ان کے بقول اس بار صورتحال مختلف ہے کیونکہ احتجاج میں مختلف سماجی اور سیاسی طبقات شریک ہیں، جس کے باعث حکومت کا بیانیہ پہلے کی نسبت کم مؤثر دکھائی دے رہا ہے۔
ادھر احتجاج کی بازگشت بھارت سے باہر بھی سنائی دے رہی ہے۔ لندن، برلن، نیویارک، ایڈنبرا اور دیگر شہروں میں مقیم بھارتی طلبہ اور پیشہ ور افراد نے بھی اظہارِ یکجہتی کے لیے مظاہرے کیے، جنہیں حامی عالمی حمایت قرار دیتے ہیں جبکہ ناقدین بعض اوقات انہیں بیرونی اثر و رسوخ سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔
دوسری جانب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے احتجاج کے تناظر میں امتحانی بے ضابطگیوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور تیز رفتار قانونی عمل کا وعدہ کیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ حکومت تعلیمی اصلاحات اور احتجاج کے مطالبات پر کس حد تک پیش رفت کرتی ہے اور آیا غیرملکی مداخلت سے متعلق الزامات کے حوالے سے مزید شواہد سامنے آتے ہیں یا نہیں۔
