ٹرمپ ایران سے جنگ ختم کرنے کے بہانے کیوں ڈھونڈنے لگے؟

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے۔ سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک ایسی صورتِ حال کا سامنا کر رہے ہیں جہاں جنگ کو جاری رکھنا بھی مشکل ہے اور اس سے نکلنے کا راستہ بھی واضح دکھائی نہیں دیتا۔ ان کے بقول اسرائیل اور دیگر اتحادیوں کا دباؤ، داخلی سیاسی عوامل اور جنگی اخراجات امریکی قیادت کے لیے بڑے چیلنج بن چکے ہیں، جبکہ خطے میں سفارتی کوششیں بھی پس پردہ جاری ہیں تاکہ کشیدگی مزید نہ بڑھے۔
مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں عسکری دباؤ اور سفارتی رابطے بیک وقت جاری ہیں۔ سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت ایک پیچیدہ صورتحال سے دوچار ہیں کیونکہ انہیں ایران کے ساتھ جاری تنازع کے خاتمے کا کوئی واضح راستہ دکھائی نہیں دے رہا۔
نجم سیٹھی کے مطابق امریکی قیادت پر اسرائیل اور دیگر اتحادیوں کی جانب سے دباؤ موجود ہے کہ ایران کے خلاف کارروائی کا سلسلہ مزید جاری رکھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے لیے اس مرحلے پر پسپائی اختیار کرنا سیاسی اور سفارتی اعتبار سے آسان نہیں، کیونکہ کسی بھی بڑی طاقت کے لیے جنگ میں ناکامی کا تاثر قبول کرنا مشکل ہوتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر موجودہ حالات برقرار رہے تو امریکہ ایران کے خلاف مزید عسکری کارروائی پر غور کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق مختلف تجزیوں میں یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات یا دیگر اہم اہداف کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جا سکتی ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی سرکاری تصدیق موجود نہیں۔
نجم سیٹھی کے مطابق خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے اگر یمن میں سرگرم حوثی گروہ بھی کشیدگی میں فعال کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے بقول ایسی صورت میں باب المندب اور بحیرہ احمر کی اہم بحری گزرگاہوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی تجارت، تیل کی ترسیل اور بین الاقوامی معیشت پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ خطے میں مختلف ممالک کے درمیان پس پردہ سفارتی رابطے جاری ہیں تاکہ کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔ ان کے مطابق علاقائی طاقتیں اپنے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے مختلف سفارتی ذرائع استعمال کر رہی ہیں اور ممکنہ تصادم کو محدود رکھنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
دوسری جانب امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری تنازع کے طویل ہونے پر شدید برہمی کا اظہار کر چکے ہیں۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں ہونے والے حالیہ اجلاسوں کے دوران انہوں نے ایران کی قیادت پر سخت تنقید کی، جبکہ ان کے قریبی مشیروں کو خدشہ ہے کہ طویل جنگ داخلی سیاست اور آئندہ سیاسی منظرنامے پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں عسکری دباؤ اور سفارتی کوششیں ایک ساتھ جاری ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا مذاکرات کشیدگی کم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا خطہ مزید تصادم کی جانب بڑھتا ہے۔
