پاکستان میں بڑھتی دہشتگردی کی اصل وجہ کیا ہے؟

پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں کے باوجود حالیہ دہشتگردانہ حملوں نے ملکی سلامتی کے حوالے سے نئے خدشات کو جنم دے دیا ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ ملک کو صرف سرحد پار سے درپیش خطرات ہی نہیں بلکہ داخلی سیاسی اور انتظامی کمزوریاں بھی دہشت گرد عناصر کے لیے مواقع پیدا کر رہی ہیں۔ ٹانک میں فوج اور پولیس کی مشترکہ چیک پوسٹ پر حملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دہشت گرد منظم منصوبہ بندی کے ساتھ ریاستی اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق دہشت گردی کے خلاف کامیابی صرف فوجی کارروائیوں سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے سیاسی استحکام، قومی اتفاقِ رائے، مؤثر حکمرانی، مضبوط انٹیلی جنس نظام اور فعال سفارت کاری بھی ناگزیر ہے، تاکہ داخلی و خارجی دونوں محاذوں پر اس خطرے کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

 دفاعی ماہرین کے مطابق ٹانک میں فوج اور پولیس کی مشترکہ چیک پوسٹ پر خودکش حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں نہ صرف منظم انداز میں سرگرم ہیں بلکہ ریاستی اداروں کو مسلسل نشانہ بنانے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔ حملے میں متعدد سکیورٹی اہلکاروں کی شہادت اور اس کے بعد فورسز کی جوابی کارروائی میں دہشت گردوں کی ہلاکت اس جنگ کی سنگینی کو مزید اجاگر کرتی ہے۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ دہشت گردی کے متعدد واقعات کی منصوبہ بندی اور معاونت افغان سرزمین سے کی جا رہی ہے، جس کے شواہد مختلف مواقع پر افغان حکام اور عالمی برادری کے ساتھ بھی شیئر کیے جا چکے ہیں۔ اسلام آباد مسلسل یہ مطالبہ کرتا رہا ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین کسی بھی ہمسایہ ملک، خصوصاً پاکستان، کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔ تاہم پاکستانی حکام کے مطابق زمینی صورتحال اب بھی تشویش کا باعث ہے اور سرحد پار موجود دہشت گرد نیٹ ورک ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

دوسری جانب سفارتی سطح پر بھی پاکستان نے چین، سعودی عرب، قطر، ترکیہ اور دیگر دوست ممالک کے ذریعے افغان حکام پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کی تاکہ دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مؤثر کارروائی یقینی بنائی جا سکے۔ تاہم ان کوششوں کے باوجود سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات مکمل طور پر نہیں رک سکے، جس کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات میں بھی بداعتمادی برقرار ہے۔

سلامتی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کا مسئلہ صرف بیرونی عوامل تک محدود نہیں بلکہ اندرونی سیاسی عدم استحکام، کمزور انتظامی ڈھانچہ، ناقص حکمرانی اور بعض علاقوں میں ریاستی رٹ کی کمزوری بھی شدت پسند عناصر کو اپنے قدم جمانے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ خصوصاً بلوچستان اور خیبرپختونخوا جیسے حساس علاقوں میں دہشت گرد مقامی مسائل اور انتظامی خلا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق دہشت گردی کے خلاف کامیابی صرف عسکری کارروائیوں سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے سیاسی قیادت، ریاستی اداروں اور تمام قومی قوتوں کے درمیان وسیع تر قومی اتفاقِ رائے، مؤثر انٹیلی جنس نظام، بہتر سرحدی نگرانی، معاشی استحکام اور عوامی اعتماد پر مبنی حکمرانی ناگزیر ہے۔ اگر سیاسی اختلافات قومی سلامتی پر غالب رہے تو دہشت گرد عناصر ان کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔

معاشی ماہرین بھی خبردار کرتے ہیں کہ دہشت گردی کا تسلسل نہ صرف سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کرتا ہے بلکہ ملکی ترقی، روزگار اور عوامی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو صرف سکیورٹی مسئلہ نہیں بلکہ سیاسی، معاشی اور سفارتی حکمت عملی کے تناظر میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔

موجودہ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ پاکستان ایک جامع قومی حکمت عملی اختیار کرے، جس میں سرحدی تحفظ، مؤثر سفارت کاری، مضبوط داخلی نظم و نسق، سیاسی ہم آہنگی اور دہشت گردی کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کو یکجا کیا جائے۔ یہی عوامل ملک میں پائیدار امن، سیاسی استحکام اور معاشی ترقی کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

Back to top button