پاکستانی پاسپورٹ کمزور، اشرافیہ کیلئے بلیو پاسپورٹ اتنا اہم کیوں؟

پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی ساکھ کمزور ہونے، ہزاروں شہریوں کی ویزا درخواستیں مسترد ہونے اور اربوں روپے کی ناقابلِ واپسی ویزا فیس ضائع ہونے کے باوجود ملک کی سیاسی اور سرکاری اشرافیہ کی توجہ عام شہریوں کے سفری مسائل حل کرنے کے بجائے بلیو پاسپورٹ کی سہولتوں کو مزید وسعت دینے پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔ سینیٹ اور دیگر قانون ساز اداروں میں ایسے اقدامات سامنے آئے ہیں جن کے تحت نہ صرف منتخب نمائندوں بلکہ ان کے اہلِ خانہ کو بھی خصوصی سرکاری پاسپورٹ کی سہولت دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر بلیو پاسپورٹ میں ایسی کیا خصوصیات ہیں جن کے باعث اسے حاصل کرنے کی دوڑ تیز ہو گئی ہے، اور کیا یہ سہولت واقعی سرکاری ضرورت ہے یا پھر ایک نئی مراعاتی روایت؟
ناقدین کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی مسلسل کمزور ہونے، بیرونِ ملک ویزوں کے حصول میں بڑھتی مشکلات اور ہزاروں درخواستوں کے مسترد ہونے کے باوجود ملک میں ایک نئی بحث نے جنم لیا ہے۔ یہ بحث عام پاکستانی کے گرین پاسپورٹ کی مشکلات نہیں بلکہ بلیو پاسپورٹ کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور اس کے دائرۂ کار کو مزید وسیع کرنے کی کوششوں کے گرد گھوم رہی ہے۔
حالیہ عرصے میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے ایک ایسے بل کی منظوری دی ہے جس کے تحت سابق سینیٹرز کی بیویوں اور 28 سال سے کم عمر غیر شادی شدہ بچوں کو بھی بلیو پاسپورٹ دینے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ اسی طرح خیبرپختونخوا اسمبلی میں بھی ایسی سفارش کی جا چکی ہے کہ صوبائی اسمبلی کے موجودہ اور سابق ارکان کے اہلِ خانہ کو بھی تاحیات بلیو پاسپورٹ کی سہولت دی جائے۔ ان تجاویز نے یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ جب عام پاکستانی پاسپورٹ عالمی سطح پر مشکلات کا شکار ہے تو اشرافیہ کے لیے خصوصی پاسپورٹ کی سہولتیں کیوں بڑھائی جا رہی ہیں؟
اعداد و شمار اس مسئلے کی سنگینی کو مزید واضح کرتے ہیں۔ گزشتہ ایک سال کے دوران برطانیہ اور شنجن ممالک نے ایک لاکھ بارہ ہزار سے زائد پاکستانیوں کی ویزا درخواستیں مسترد کر دیں، جس کے نتیجے میں درخواست گزاروں کی اربوں روپے کی ناقابلِ واپسی ویزا فیس ضائع ہو گئی۔ ماہرین کے مطابق اس کی بنیادی وجہ پاکستان کے معاشی، سیاسی اور سکیورٹی حالات کے ساتھ ساتھ غیر قانونی قیام کے خدشات ہیں، جن کی وجہ سے پاکستانی شہریوں کو سخت جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اسی پس منظر میں بلیو پاسپورٹ کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ بلیو پاسپورٹ دراصل سرکاری یا آفیشل پاسپورٹ ہے جو منتخب نمائندوں، اعلیٰ سرکاری افسران، ججوں، فوجی حکام اور دیگر مخصوص سرکاری شخصیات کو ان کی سرکاری ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لیے جاری کیا جاتا ہے۔ اس پاسپورٹ کے حامل افراد کو متعدد ممالک میں ویزا فری یا آسان سفری سہولتیں میسر ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے بین الاقوامی سفر نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں پاسپورٹ قواعد میں متعدد ترامیم کے ذریعے بلیو پاسپورٹ کے اہل افراد کی فہرست میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ اب نہ صرف کئی اعلیٰ سرکاری عہدیدار بلکہ ان کے والدین، شریکِ حیات اور مخصوص عمر تک کے بچے بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ بعض ریٹائرڈ حکام اور سابق منتخب نمائندوں کو بھی تاحیات بلیو پاسپورٹ رکھنے کا حق حاصل ہے، جس پر شفافیت اور مساوات کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
اس کے مقابلے میں عام پاکستانی شہری گرین پاسپورٹ کے ساتھ دنیا کے محدود ترین ممالک میں ویزا فری سفر کر سکتے ہیں۔ پاکستان کی عالمی پاسپورٹ درجہ بندی بھی نسبتاً کمزور ہے، جبکہ خطے کے کئی ممالک اپنے شہریوں کے لیے زیادہ سفری سہولتیں حاصل کر چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک کے پاسپورٹ کی مضبوطی کا تعلق صرف سفارتی معاہدوں سے نہیں بلکہ اس کی معاشی استحکام، سیاسی ساکھ، قانون کی حکمرانی اور مؤثر خارجہ پالیسی سے بھی ہوتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر حکومت عام پاکستانی کے لیے ویزا سہولتوں میں اضافہ، بہتر سفارتی تعلقات اور پاسپورٹ کی عالمی ساکھ مضبوط بنانے پر توجہ دے تو لاکھوں شہری براہِ راست فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ تاہم اگر خصوصی سفری سہولتیں مسلسل محدود طبقے تک پھیلتی رہیں تو یہ تاثر مزید مضبوط ہوگا کہ پاکستان میں عام شہری اور اشرافیہ کے لیے الگ الگ نظام موجود ہے۔
اسی لیے بلیو پاسپورٹ سے متعلق جاری بحث صرف ایک سفری دستاویز تک محدود نہیں بلکہ یہ حکمرانی، مساوات، عوامی نمائندگی اور ریاستی مراعات کے استعمال جیسے اہم سوالات کو بھی جنم دے رہی ہے۔
