جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کی 9 نشستیں ختم،تمام اختیارات دوبارہ لاہور منتقل؟

مریم نواز کی پنجاب حکومت کی جانب سے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کی 9 نشستیں ختم کرنے کا فیصلہ شدید سیاسی و عوامی تنقید کی زد میں ہے ایک جانب جنوبی پنجاب کے عوام اسے اپنے حقوق پر کاری ضرب قرار دے رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ناقدین اس فیصلے کو تختِ لاہور کے انتظامی اور سیاسی اثر و رسوخ کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش سے تعبیر کر رہے ہیں۔ خیال رہے کہ پنجاب حکومت نے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ میں ڈپٹی سیکرٹری کی نو اہم آسامیاں ختم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے بعد ایک بار پھر یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ کیا جنوبی پنجاب کو انتظامی اختیارات دینے کا وعدہ عملی طور پر کمزور کیا جا رہا ہے؟ حکومت اس اقدام کو اخراجات میں کمی اور انتظامی اصلاحات کا حصہ قرار دے رہی ہے، تاہم جنوبی پنجاب کے سیاسی رہنماؤں، تجزیہ کاروں اور صوبے کے حامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ اس فیصلے سے اختیارات دوبارہ لاہور میں مرکوز ہوں گے، سیکرٹریٹ مزید غیر مؤثر ہو جائے گا اور الگ جنوبی پنجاب صوبے کے مطالبے کو بھی نئی تقویت مل سکتی ہے۔
پنجاب حکومت نے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ سے ڈپٹی سیکرٹری کی نو آسامیاں ختم کرنے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ محکمہ خزانہ کے مطابق یہ فیصلہ مالی سال 2026-27 کے دوران سرکاری اخراجات میں کمی، وسائل کے مؤثر استعمال اور انتظامی ڈھانچے کی ازسرِ نو تنظیم کے تحت کیا گیا ہے۔ تاہم اس اقدام نے جنوبی پنجاب میں اختیارات کی تقسیم، انتظامی خودمختاری اور علیحدہ صوبے کے مطالبے پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کا قیام 2020 میں تحریک انصاف کی حکومت نے اس مقصد کے تحت عمل میں لایا تھا کہ ملتان میں ایک ایسا انتظامی مرکز قائم کیا جائے جہاں جنوبی پنجاب کے لاکھوں شہریوں کے سرکاری معاملات لاہور جانے کے بغیر نمٹائے جا سکیں۔ سیکرٹریٹ میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری سمیت مختلف محکموں کے ایڈیشنل اور ڈپٹی سیکرٹری تعینات کیے گئے تھے، تاہم قیام کے ایک سال بعد ہی متعدد محکموں کے سیکرٹری واپس لاہور منتقل کر دیے گئے تھے۔
حالیہ فیصلے کے تحت بلدیاتی حکومت، خزانہ، خدمات و عمومی انتظامیہ، قانون اور دیگر محکموں میں ڈپٹی سیکرٹری کی نو آسامیاں ختم کر دی گئی ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام صرف جنوبی پنجاب تک محدود نہیں بلکہ پنجاب بھر میں انتظامی اصلاحات کے تحت مختلف محکموں میں بھی ایسی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں، اس لیے اسے سیکرٹریٹ کو غیر فعال کرنے سے تعبیر کرنا درست نہیں۔
دوسری جانب جنوبی پنجاب کے سیاسی اور سماجی حلقے اس فیصلے کو اختیارات کی مزید مرکزیت قرار دے رہے ہیں۔ سرائیکی رہنما ظہور دھریجہ کے مطابق جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ پہلے ہی محدود اختیارات کے ساتھ کام کر رہا تھا، جبکہ نئی آسامیوں کے خاتمے سے باقی ماندہ انتظامی اختیارات بھی عملاً لاہور منتقل ہو جائیں گے۔ ان کے مطابق خطے کے عوام کو برسوں سے علیحدہ صوبے کے وعدوں پر ٹالا جا رہا ہے اور سیکرٹریٹ بھی کبھی مکمل اختیارات حاصل نہیں کر سکا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ اپنے قیام کے بعد بھی وہ اہداف حاصل نہیں کر سکا جن کے لیے اسے بنایا گیا تھا، کیونکہ اہم انتظامی فیصلے، فنڈز کی منظوری، تقرریاں اور تبادلے اب بھی لاہور کی منظوری سے مشروط رہے۔ ان کے مطابق اگر اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہ کیے جائیں تو صرف دفاتر قائم کرنے سے عوامی مسائل کا مؤثر حل ممکن نہیں ہوتا۔
انتظامی ماہرین کا خیال ہے کہ ڈپٹی سیکرٹری کی آسامیاں ختم ہونے سے مختلف محکموں کے درمیان رابطہ کاری، فیصلہ سازی اور فائلوں کی بروقت منظوری جیسے معاملات متاثر ہو سکتے ہیں، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ جدید انتظامی اصلاحات کے ذریعے کم وسائل میں زیادہ مؤثر نظام قائم کرنا مقصود ہے۔
جنوبی پنجاب میں علیحدہ صوبے کا مطالبہ کئی دہائیوں سے موجود ہے اور مختلف سیاسی جماعتیں مختلف ادوار میں اس کی حمایت کرتی رہی ہیں۔ تاہم ناقدین کے مطابق انتظامی اختیارات کی حقیقی منتقلی اور آئینی پیش رفت نہ ہونے کے باعث یہ مطالبہ آج بھی اپنی جگہ برقرار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر جنوبی پنجاب کے عوام کو بااختیار انتظامی ڈھانچہ فراہم نہ کیا گیا تو صوبے کے قیام کی تحریک مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔
جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ میں نئی انتظامی تبدیلی نے ایک بار پھر اس بنیادی سوال کو زندہ کر دیا ہے کہ آیا حکومت واقعی اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنا چاہتی ہے یا پھر انتظامی فیصلوں کا مرکز بدستور لاہور ہی رہے گا۔ یہی سوال آنے والے دنوں میں جنوبی پنجاب کی سیاست اور انتظامی ڈھانچے پر بحث کا اہم محور بن سکتا ہے۔
