پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کا انقلاب، کیا پیٹرول گاڑیوں کا دور ختم ہونے والا ہے؟

پاکستان میں مہنگے پیٹرول اور ڈیزل نے عوام کو متبادل ذرائع نقل و حمل کی تلاش پر مجبور کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ میں غیرمعمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ کراچی بندرگاہ پر پہلی بار تقریباً دو ہزار الیکٹرک گاڑیوں کی ایک ساتھ آمد اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ ملکی آٹو مارکیٹ ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ اگرچہ شہری علاقوں میں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن کے اخراجات میں نمایاں کمی اور ماحول دوست سفری سہولت کے باعث تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں، لیکن چارجنگ اسٹیشنز، بیٹریوں، سپیئر پارٹس اور بنیادی انفراسٹرکچر کی کمی جیسے چیلنجز اب بھی اس شعبے کی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مؤثر حکومتی پالیسی، مقامی اسمبلنگ اور جدید چارجنگ نیٹ ورک کی بدولت پاکستان نہ صرف اربوں ڈالر کا زرِمبادلہ بچا سکتا ہے بلکہ مستقبل میں الیکٹرک گاڑیوں کو عام آدمی کی پہنچ میں بھی لا سکتا ہے۔


ماہرین کے مطابق پاکستان کے آٹو سیکٹر میں ایک بڑی تبدیلی رونما ہو رہی ہے جہاں مہنگے پیٹرول، ڈیزل اور ایندھن کے مسلسل بڑھتے ہوئے اخراجات نے شہریوں کی توجہ الیکٹرک گاڑیوں کی جانب مبذول کرا دی ہے۔ کراچی بندرگاہ پر حالیہ دنوں میں تقریباً دو ہزار الیکٹرک گاڑیوں کی آمد اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں الیکٹرک وہیکل کلچر اب صرف ایک تصور نہیں بلکہ عملی حقیقت بنتا جا رہا ہے۔

کراچی، لاہور اور اسلام آباد سمیت بڑے شہروں میں شہری روزمرہ کے سفری اخراجات کم کرنے کے لیے الیکٹرک گاڑیوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔ مارکیٹ میں چھوٹی شہری گاڑیوں سے لے کر درمیانے درجے کی سیڈان، کراس اوور ایس یو ویز اور لگژری الیکٹرک گاڑیاں دستیاب ہیں، جن کی قیمتیں مختلف طبقوں کی ضروریات کے مطابق ہیں۔ خاص طور پر وہ گاڑیاں جو ایک مرتبہ چارج ہونے پر 300 سے 400 کلومیٹر تک سفر کر سکتی ہیں، تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔

آٹو ماہرین کے مطابق عالمی کمپنیاں پاکستان کو مستقبل کی ایک ابھرتی ہوئی مارکیٹ سمجھ رہی ہیں، تاہم صرف گاڑیوں کی درآمد کافی نہیں ہوگی۔ اگر ملک بھر میں فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز، بیٹری ری سائیکلنگ کا نظام، مقامی سطح پر اسمبلنگ اور بیٹریوں کی تیاری کے منصوبوں پر توجہ نہ دی گئی تو اس شعبے کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت اگر ٹیکسوں میں رعایت دے اور مقامی صنعت کی حوصلہ افزائی کرے تو الیکٹرک گاڑیاں عام شہری کی پہنچ میں بھی آ سکتی ہیں۔

گاڑیوں کے ڈیلرز کے مطابق پہلے صارفین الیکٹرک گاڑی خریدنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے تھے، لیکن اب صورتحال تبدیل ہو چکی ہے۔ شورومز میں نہ صرف خریداروں کی تعداد بڑھ رہی ہے بلکہ لوگ پیٹرول پر ہونے والے ماہانہ اخراجات کا موازنہ الیکٹرک گاڑیوں سے حاصل ہونے والی بچت کے ساتھ بھی کر رہے ہیں۔ تاہم بیٹریوں اور سپیئر پارٹس کی محدود دستیابی، تربیت یافتہ مکینکس اور جدید ورکشاپس کی کمی اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

الیکٹرک گاڑی استعمال کرنے والے افراد بھی اس تبدیلی کو خوش آئند قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شہر کے اندر سفر کے دوران انہیں ماہانہ پیٹرول کے اخراجات میں ہزاروں روپے کی بچت ہو رہی ہے جبکہ گاڑی کی دیکھ بھال کے اخراجات بھی نمایاں طور پر کم ہیں۔ دوسری جانب طویل فاصلے کے سفر کرنے والے صارفین کا کہنا ہے کہ موٹرویز اور قومی شاہراہوں پر فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز کی کمی، چارجنگ میں لگنے والا وقت اور رش ان کے لیے پریشانی کا باعث بنتا ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے سب سے بڑی ضرورت جدید چارجنگ انفراسٹرکچر، مستحکم بجلی کی فراہمی، مناسب نرخ، بیٹری ری سائیکلنگ کا محفوظ نظام اور تکنیکی مہارت رکھنے والے افراد کی دستیابی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ابتدائی خریداری لاگت کو کم کرنا بھی ضروری ہے تاکہ متوسط طبقہ بھی اس نئی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکے۔

معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر حکومت اپنی الیکٹرک وہیکل پالیسی پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کرے، مقامی صنعت کو فروغ دے اور نجی شعبے کے ساتھ مل کر چارجنگ نیٹ ورک کو وسعت دے تو پاکستان مستقبل میں ایندھن کی درآمد پر انحصار کم کرتے ہوئے اربوں ڈالر کا قیمتی زرِمبادلہ بچا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ الیکٹرک گاڑیاں نہ صرف ماحول دوست سفری سہولت کے طور پر سامنے آ رہی ہیں بلکہ ملکی معیشت کے لیے بھی ایک اہم موقع ثابت ہو سکتی ہیں۔

Back to top button