کیا پاکستانی ثالثی میں ایران امریکہ مذاکرات کی بحالی ممکن ہے؟

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، آبنائے ہرمز کی بندش، بحیرۂ احمر میں حوثیوں کی کارروائیوں اور خلیجی سلامتی کو درپیش خطرات کے درمیان پاکستان ایک بار پھر اہم سفارتی کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسلام آباد، چین کی حمایت سے ایران اور امریکہ کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کے لیے سرگرم ہے۔ اگر یہ کوشش کامیاب ہوتی ہے تو نہ صرف خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے بلکہ عالمی توانائی کی منڈی، سمندری تجارت اور پاکستان سمیت خطے کے معاشی مفادات کو بھی بڑا ریلیف ملنے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات کی بحالی کے لیے پاکستان نے ایک بار پھر سفارتی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق اسلام آباد، چین کی حمایت سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی اور مذاکرات کی بحالی کے لیے ممکنہ راستے تلاش کر رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں ابتدائی مشاورت ایران کے وزیرِ داخلہ سکندر مومنی کے حالیہ دورۂ پاکستان کے دوران ہوئی، جہاں انہوں نے پاکستانی قیادت اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال، ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی اور مذاکرات کی بحالی کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ سفارتی کوشش ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں حالات مزید پیچیدہ ہو چکے ہیں۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش، یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان اور بحیرۂ احمر میں بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کو شدید متاثر کرنے کے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

پاکستانی حکام کے مطابق چین بھی موجودہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر دونوں اس کی عالمی تجارتی سپلائی چین کے لیے انتہائی اہم راستے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیجنگ سفارتی حل کی حمایت کر رہا ہے تاکہ خطے میں استحکام بحال ہو اور عالمی تجارت مزید متاثر نہ ہو۔

ذرائع کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے حالیہ دورۂ چین کے دوران بھی چینی قیادت سے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، ایران اور امریکہ کے تعلقات اور ممکنہ سفارتی اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ چین نے بھی باضابطہ طور پر پاکستان سمیت دیگر ممالک کی ثالثی کی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا۔

تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی بحالی کی راہ اب بھی آسان نہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان گزشتہ مہینوں میں ہونے والے بالواسطہ مذاکرات مطلوبہ نتائج نہ دے سکے، جس کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر معاہدوں کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے اور کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔

اس دوران یمنی حوثیوں کی جانب سے سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کے دعووں نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ پاکستان سمیت کئی ممالک کو خدشہ ہے کہ اگر بحیرۂ احمر میں بھی تجارتی راستے غیر محفوظ ہوئے تو عالمی تیل کی سپلائی، بحری تجارت اور توانائی کی قیمتوں پر اس کے سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔

پاکستانی حکام کے مطابق اسلام آباد نے ایرانی قیادت کو واضح پیغام دیا ہے کہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک پر حملوں کا خاتمہ کسی بھی نئے مذاکراتی عمل کی کامیابی کے لیے بنیادی شرط ہوگا۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ خطے میں کشیدگی کم کیے بغیر ایران اور امریکہ کے درمیان کسی پائیدار سفارتی پیش رفت کا امکان محدود رہے گا۔

سیاسی اور سفارتی مبصرین کے مطابق اگر پاکستان، چین اور دیگر علاقائی شراکت دار ایران اور امریکہ کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس سے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے بلکہ عالمی توانائی کی منڈی، تجارتی راہداریوں اور خطے کی معاشی صورتحال میں بھی مثبت تبدیلی آ سکتی ہے۔ تاہم موجودہ حالات میں اس سفارتی عمل کو متعدد سیاسی، عسکری اور علاقائی چیلنجز کا سامنا ہے، جن پر قابو پانا آئندہ پیش رفت کے لیے فیصلہ کن ہوگا۔

Back to top button