عمران خان کی فوری رہائی کی امیدیں ختم، اب نیب مقدمات کے فیصلے آئینی عدالت کرے گی

بانی پی ٹی آئی عمران خان کی فوری رہائی کی تمام امیدیں دم توڑ گئیں۔ سپریم کورٹ نے نیب مقدمات کے حوالے سے ایک اہم آئینی اور قانونی فیصلہ سناتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام اپیلوں، ضمانت کی درخواستوں اور دیگر کارروائیوں کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔ عدالت نے قرار دیا کہ نیب قوانین میں حالیہ ترامیم اور آئین کی متعلقہ شقوں کے بعد سپریم کورٹ کو ایسے مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا۔ اس فیصلے کے بعد نہ صرف زیرِ التوا نیب مقدمات بلکہ بانی پاکستان تحریک انصاف کی ضمانت کی درخواست بھی وفاقی آئینی عدالت میں سنی جائے گی۔
خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے نیب مقدمات سے متعلق دائرہ اختیار کے معاملے پر ایک اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو سے متعلق تمام اپیلیں، ضمانت کی درخواستیں اور دیگر قانونی کارروائیاں اب وفاقی آئینی عدالت کے دائرہ اختیار میں آئیں گی۔
جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو ان مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں، لہٰذا نیب سے متعلق تمام معاملات آئین کے آرٹیکل 175 اے اور 175 ایف کے تحت وفاقی آئینی عدالت کو منتقل شدہ تصور ہوں گے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو کی گئی ترامیم کے بعد اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کر دیا گیا تھا، اس لیے ان مقدمات کی سماعت اب سپریم کورٹ میں نہیں ہو سکتی۔
واضح رہے کہ یہ فیصلہ ایک ایسے مقدمے کی سماعت کے دوران سامنے آیا جس میں بنیادی سوال یہی تھا کہ نیب مقدمات کا مجاز فورم کون سا ہے۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ترمیم کے بعد بھی سپریم کورٹ نے ایک ضمانت کا مقدمہ سنا تھا، اس لیے موجودہ درخواست بھی سپریم کورٹ میں قابلِ سماعت ہے۔
دوسری جانب اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ نیب مقدمات کی تقسیم ممکن نہیں اور ایک ہی کیس کا کچھ حصہ سپریم کورٹ جبکہ باقی وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چل سکتا۔ نیب کے وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ تمام نیب مقدمات وفاقی آئینی عدالت میں ہی سنے جانے چاہییں۔ سپریم کورٹ نے حکومتی مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے قرار دیا کہ نیب مقدمات کے حوالے سے قانون میں واضح ترمیم کی جا چکی ہے، اس لیے اب ان مقدمات کا فورم وفاقی آئینی عدالت ہی ہے۔
مبصرین کے مطابق اس فیصلے کا براہِ راست اثر بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے مقدمات پر بھی پڑے گا۔ انہوں نے بھی ہائی کورٹ کے ضمانت فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، تاہم رجسٹرار سپریم کورٹ نے دائرہ اختیار سے متعلق اعتراضات لگا کر درخواست واپس کر دی تھی۔ تازہ فیصلے کے بعد اب ان کی ضمانت کی درخواست بھی وفاقی آئینی عدالت میں ہی سنی جائے گی۔
قانونی ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے نیب مقدمات کے حوالے سے دائرہ اختیار کا ابہام بڑی حد تک ختم ہو گیا ہے۔ اب مستقبل میں احتساب سے متعلق اپیلیں، ضمانت کی درخواستیں اور دیگر قانونی معاملات براہِ راست وفاقی آئینی عدالت میں دائر کیے جائیں گے، جس سے عدالتی کارروائی کا طریقہ کار بھی زیادہ واضح ہو جائے گا۔
