کانا عاشق

تحریر: عطا ء الحق قاسمی
بشکریہ: روزنامہ جنگ
گزشتہ روز ہماری ملاقات ایک عاشق زار سے ہوئی۔ جو بیک وقت دو محبوبوں کا ذکر کرکے ٹھنڈی آہیں بھرتا تھا۔ اور ساتھ ساتھ جیب سے کنگھی نکال کر بال سنوارتا جاتا تھا۔ ان ہر دو محبوبوں کا ذکر کرتے ہوئے اس پر رقت طاری ہو جاتی تھی اور پھر وہ (BRUT) میں ڈوبے ہوئے رومال سے آنکھوں کو تھپتھپانے کے بعد ٹائی کی ناٹ درست کرنے لگتا تھا۔ اسکے چہرے پر غم کی پرچھائیاں تھیں اور جوتے آئینے کی طرح صاف شفاف تھے۔ ہم نے اسکی یہ کیفیت دیکھی تو کہا:اے برادر! اگر تیرا عشق صادق ہے تو پھر تیرا حال عاشقوں جیسا کیوں نہیں؟اس نے رومال سے پسینہ پونچھنے کے بعد بغلوں میں (Deodrant) سپرے کرتے ہوئے پوچھا:کیا مطلب؟
ہم نے کہا:یہی کہ کسی ایک سے دل لگا۔ اس کے بعد شیو بڑھا۔ گریباں چاک کر اور سر پر خاک ڈال کر جنگلوں کی طرف نکل جا۔یہ سن کر اس نے ہماری طرف دیکھا اور کہا:اے برادر یوسف ! تو صاف صاف کیوں نہیں کہتا کہ میں تیرے حق میں ان سے دستبردار ہو جاؤں؟ہم نے اس شکی مزاج عاشق کو تاسف کی نظروں سے دیکھا اور اسے ملامت کرتے ہوئے پوچھا کہ اسکے ذہن میںایسی گھٹیا بات کیونکر آئی اور پھر اس نے اس قدر بد گمانی سے کیونکر کام لیا۔ کیا اگر وہ ایسا کر گزرے تو ہم نیکی کا بدلہ نیکی سے ادانہیں کریں گے؟جس پر شخص مذکور ہنسا۔ وان ہاؤزن شرٹ کے کالر پر سے گرد جھاڑی اور پھر بولا :نہ میں نے کوئی گھٹیا بات کہی ہے اور نہ کسی بدگمانی سے کام لیا ہے۔ اگر میں تمہارے مشورے پر عمل کرتے ہوئےشیو بڑھا لوں ۔ گریباں چاک کر بیٹھوں اور جنگلوں کی طرف نکل جاؤں تو ہفتے عشرے بعد تم ہر دو کے بارے میں اخباروں میںیہ خبر پڑھو گے کہ بے وفا محبو بہ اپنے کسی آشنا کیساتھ فرار ہو گئی اور عاشق غل غپاڑہ کرتے ہوئے پکڑا گیا۔جب ہم نے اس دیوانے کے منہ سے یہ فرزانوں والی بات سنی تو جھک کر اس کے پاؤں پکڑ لیے اور کہا:مرشد! دنیا بھر کے عاشقوں کیلئے کوئی پیغام دیتے جاؤ ۔
اس پر اس نے ہمیں شفقت سے پکڑ کر اٹھایا اور کہا:عاشقوں کیلئے میرا پیغام یہی ہے کہ وہ دوران محبت صرف ایک آنکھ بند رکھیں اور دوسری بہرصورت کھلی رہنے دیں۔ نیز وہ ایک متبادل محبوب کا بندوبست بھی ضرور کریں۔ جس نے دونوں آنکھیں بند کیں یا کسی ایک کا ہو کر رہ گیا وہ ہمیشہ خون کے آنسو رویا۔اس کیساتھ ہی اس نے اپنی اسپورٹس ماڈل کار اسٹارٹ کی اور فل ایکسی لیٹر دیتے ہوئے ایک کوچہ جاناں کو ہو لیا۔ اس ہوش مند عاشق کے جانے کے بعد ہم نے اسکی باتوں پر غور کیا تو انکی صداقت کچھ اور واضح ہوئی۔ ہم نےمحسوس کیا کہ ہمارے ارد گرد جتنے بھی کامیاب عاشق ہیں۔ یہ وہی ہیں۔ جنہوں نے اپنی ایک آنکھ کھلی رکھی ہوئی ہے اور ایک متبادل محبوب کا بندوبست بھی کیا ہوا ہے۔ مثلاً ہمارے ایک دوست ہیں۔ جو انقلاب کے عشق میں ہر وقت ٹھنڈی آہیں بھرتے ہیں۔ پتہ بھی کھڑکتا ہے تو انکی نظریں دروازے کی طرف اُٹھ جاتی ہیں کہ شاید وہ آ گئے ہیں مگر انہوں نے اس عشق میں اپنی دونوں آنکھیں بند نہیں ہونے دیں۔ بلکہ ایک کھلی رکھی ہے۔ جو ہر وقت ریڈیو ٹی وی پروگراموں پر لگی رہتی ہے۔
ایک مولانا سے ہماری یاد اللّٰہ ہے۔ دیندار بھی انکے پاؤں چومتے ہیں اور ہم ایسے دنیا کے کتے بھی ان کے در پر جانے کیلئے مجبور ہیں۔ کیونکہ انکی خدا تک رسائی ہے۔ ایک ایسے مخیر سرمایہ دار کوبھی ہم جانتے ہیں جس کا ایک ہاتھ ہمہ وقت سخاوت کرنے اور دوسرا ہاتھ ہمہ وقت یہ سخاوت واپس لینے میں لگا رہتا ہے۔ ایک ایسا حریت پسند ہماری نظروں میں ہے۔ جو گفتگو حکومت وقت کیخلاف کرتا ہے اور لکھتا اس کے حق میں ہے۔ ایک بزرگ شاعر کو ہم نے یہ کہتے سنا ہے کہ 1965ء کی جنگ میں انہوں نے جو ترانے لکھے وہ اس نوع کے تھے کہ پاکستان کے علاوہ ہندوستان میں بھی مقبول ہوئے۔
حزب اختلاف سے متعلق بعض لوگ حزب اقتدار کے دلوں میں اور بلوں میں بھی جگہ اور حصہ رکھتے ہیں۔ اور پھر انکے علاوہ ہمارے اردگردپھیلتے ہوئے کامیاب عاشقوں میں وکیلوں کا گروہ شامل ہے۔ جو قاتل اور مقتول دونوں کا مقدمہ بڑی کامیابی سے لڑتا ہے۔ استاد ہیں جو فرعون پر لعنت بھیجتے ہیں اور کالجوں میں موسیٰ کی پیدائش روکنے کا فریضہ بھی پوری دیانت داری سے انجام دیتے ہیں۔ کچھ علما ہیں جو حسین رضی اللّٰہ عنہ کا اسوہ بیان کرتے ہیں اور ہر دور میں یزید کی صفوں میں بھی نظر آتے ہیں بعض لیبر لیڈر ہیں جو لیبر افسر کے طور پر بھی کام کرتے ہیں اور کچھ صحافی ہیں جو اپنے اخبار اور اپنے محکمے کے لیے بیک وقت رپورٹنگ بھی کرتے ہیں۔ان سب عاشقوں نے متبادل محبوب کا انتظام کیا ہوا ہے۔ یہ ایک آنکھ کھلی رکھنے والے عاشق ہیں۔ یہ کانے عاشق ہیں۔
