نئے انتظامی یونٹس کا قیام ملکی بقا کیلئےناگزیر ہے،مصطفی کمال

متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما اور وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے کہا ہےکہ نئے انتظامی یونٹس کا قیام ملک کی بقا کے لیے ناگزیر ہے۔
ایم کیو ایم کے تحت کورنگی میں رابطہ مہم سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہاکہ انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ 6 ہفتے بعد شارع فیصل پر ہر زبان بولنے والا اپنا انتظامی یونٹ مانگنے نکلے گا، سندھ کے ظالم اور متعصب حکمران ہمارا وجود تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔
مصطفیٰ کمال کاکہنا تھا کہ شہری کوٹے پر جعلی ڈومیسائل بنا کر کراچی کے نوجوانوں کا حق مارا جا رہا ہے، 18 سالوں میں پڑھے لکھے نوجوانوں کو ایک چپڑاسی کی نوکری تک نہیں دی گئی، 18 سالوں میں سندھ کو 22 ہزار ارب روپے ملے ہیں۔
وفاقی وزیر نے مزید کہاکہ 22 ہزار ارب روپے کی رقم سے 50 مرتبہ نیا سندھ بن سکتا تھا، سندھ کے کرپٹ حکمرانوں نےاس پیسہ سےدبئی، لندن اور امریکا میں جاگیریں بنائیں۔
واضخ رہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے حوالے سے کراچی سے اسلام آباد تک مارچ کا اشارہ دیا ہے۔
سندھ سمیت ملک بھر میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام اور بااختیار بلدیاتی نظام کے نفاذ کے لیے ایم کیو ایم پاکستان کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی سربراہ خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کراچی نے فیصلہ دے دیا ہے، تہذیب جیت گئی ہے اور بدتہذیبی ہار گئی، ایم کیو ایم کے کارکنوں نے ایک اور تاریخ رقم کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کراچی نے فیصلہ دے دیا ہے اور ہم نے اپنا کراچی واپس لے لیا ہے، یہ قافلہ جب کراچی سے اسلام آباد جائے گا تو پاکستان کا مقدر بن جائے گا، ہمارا مطالبہ یہی ہے کہ عوامی اور اشتراکی جمہوریت ہونی چاہیے۔
ریلی کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا آج کراچی والوں نے اختیارات کی منتقلی کے لیے ووٹ دے دیا ہے، آج سے شراکت داری کا دور شروع ہوگیا ہے، 18 سالوں کا صبر آج سڑکوں پر آیا ہے۔
