یورپی یونین نے ایران کی اہم شخصیات کو بلیک لسٹ کردیا

آبنائے ہرمز کی بندش پریورپی یونین نے ایران کی اہم شخصیات اور اداروں کے اثاثے منجمد کرنے اور ویزا پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کردیا۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے رکن ممالک کی رضامندی کے بعد سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں  کہا کہ یورپی یونین کے فیصلے کے تحت ان ایرانی افراد اور اداروں کو نشانہ بنایا گیا ہے جن پر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی میں رکاوٹ ڈالنے یا اس سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔

پابندیوں کی فہرست میں پاسدارانِ انقلاب کی بحری شاخ کے ترجمان محمد اکبرزادہ بھی شامل ہیں ان کے علاوہ ایران کی آئل ایکسپورٹرز یونین کے نمائندے حمید حسینی کو بھی بلیک لسٹ کیا گیا ہے۔

ایران کی جانب سے تاحال یورپی یونین کی نئی پابندیوں پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ماضی میں ایسے الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے اور مؤقف اختیار کرتا ہے کہ وہ خلیج میں بحری سلامتی کے تحفظ کے لیے کردار ادا کر رہا ہے۔

کایا کالاس نے مزید کہا کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت نازک جنگ بندیوں اور امن مذاکرات کے مختلف مراحل سے گزر رہا ہے تاہم ایران کے ڈرونز اب بھی آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری ٹریفک کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ یورپی یونین کے رکن ممالک نے متفقہ طور پر ایران کی جانب سے سمندری راستوں کو متاثر کرنے والی سرگرمیوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے متعدد ایرانی شخصیات اور اداروں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔

 

Back to top button