حکومت کانوجوانوں کومصنوعی ذہانت کی ٹریننگ دینےکااعلان

وفاقی وزیرآئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ نے ملک میں ڈیجیٹل انقلاب اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کا عزم کرتے ہوئے 10 لاکھ نوجوانوں کو ’اے آئی‘ کی ٹریننگ دینے کا اعلان کیا ہے۔
شزا فاطمہ کاتقریب سے خطاب کرتے ہوئےکہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت سے آنے والے عالمی انقلاب کے باعث زندگی کے تمام شعبوں میں تیزی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں، اور پاکستان کو اس ریس میں پیچھے نہیں چھوڑا جا سکتا۔
وفاقی وزیر نے وزیراعظم پاکستان کے وژن کا ذکر کرتے ہوئے اعلان کیا کہ حکومت نے اگلے 3 سال کے دوران 10 لاکھ نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت کی جدید ترین تربیت دینے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے یہ تمام ٹریننگز بالکل ‘مفت’ فراہم کی جائیں گی تاکہ مالی وسائل کسی بھی طالب علم کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکیں۔
شزا فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ حکومت نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار باقاعدہ ’اے آئی پالیسی‘ منظور کر لی ہے۔ انہوں نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو ’پاکستانی نکتہ نظر‘، ہماری ثقافت، زبان اور مقامی ضروریات کے مطابق ٹرینڈ کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ ملکی مسائل کا مقامی سطح پر حل نکالا جا سکے۔
