کاکروچ پارٹی کا احتجاج مودی حکومت کے لیے بڑا خطرہ

بھارت میں امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے خلاف شروع ہونے والی لاکروچ جنتا پارٹی کی احتجاجی تحریک مزید شدت اختیار کرتے ہوئے مودی حکومت کے لیے ایک بڑا خطرہ بن گئی ہے۔
بھارتی حکومت کی جانب سے وفاقی سیکرٹری تعلیم اور دیگر اعلیٰ حکام کی جانب سے مذاکرات اور یقین دہانیوں کے باوجود مظاہرین نے دہلی میں اپنا دھرنا ختم کرنے سے انکار کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی جانب مارچ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے، جس سے وزیر اعظم مودی کی حکومت کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
احتجاجی قیادت نے واضح کیا ہے کہ جب تک ان کے بنیادی مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، اس وقت تک نہ دھرنا ختم کیا جائے گا اور نہ ہی احتجاجی مہم روکی جائے گی۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومتی وعدے ناکافی ہیں اور وہ عملی اقدامات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی چاہتے ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق نئی دہلی کے جنتر منتر کے علاقے میں احتجاجی کیمپ بدستور قائم ہے، جہاں مختلف ریاستوں سے آنے والے طلبہ اور نوجوان مسلسل موجود ہیں۔ حکومت اور احتجاجی رہنماؤں کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے، تاہم اب تک کوئی ایسا معاہدہ سامنے نہیں آ سکا جس کے باعث احتجاج ختم ہونے کے آثار نظر آئیں۔
یاد رہے کہ اس تحریک کا آغاز امتحانی نظام میں بے ضابطگیوں، پیپر لیکس اور سرکاری بھرتیوں میں شفافیت کے مطالبے سے ہوا تھا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ یہ صرف طلبہ کی تحریک نہیں رہی بلکہ ایک وسیع سماجی اور عوامی مہم کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ احتجاجی رہنماؤں کا مطالبہ ہے کہ بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی ہوں، پیپر لیکس کے ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، گرفتار مظاہرین کو رہا کیا جائے اور متاثرہ طلبہ کو انصاف فراہم کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف اصلاحات کے وعدے اب قابل قبول نہیں۔
دوسری جانب سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ محدود مطالبات سے شروع ہونے والی "کاکروچ جنتا پارٹی” کی تحریک غیر معمولی عوامی پذیرائی کے بعد ایک بڑی عوامی بغاوت کی شکل اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے، کیونکہ اس میں اب صرف طلبہ ہی نہیں بلکہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شریک ہو رہے ہیں۔
اس احتجاج کی سب سے منفرد بات اس کا انداز ہے۔ نوجوانوں نے روایتی نعروں کے بجائے طنزیہ میمز، پاپ کلچر، فلمی مکالموں، کرکٹ کے حوالوں اور سوشل میڈیا کلچر کو احتجاج کا ذریعہ بنایا ہے، جس نے اس تحریک کو عالمی سطح پر بھی منفرد شناخت دی ہے۔
احتجاج کے دوران ایسے پلے کارڈز بھی نمایاں رہے جن پر "میک اِن انڈیا اور "آئی پی ایل، یعنی انڈین پیپر لیک” جیسے نعرے درج تھے۔ بالی وڈ کی فلموں کے مشہور مکالموں، ریلیشن شپ میمز اور انٹرنیٹ کلچر کو بھی احتجاجی پیغامات کا حصہ بنایا گیا، جسے جین زی کی تخلیقی مزاحمت قرار دیا جا رہا ہے۔ مظاہرین کاکروچ کے ماسک پہن کر احتجاج میں شریک ہو رہے ہیں جبکہ بعض نے ڈائپرز پر اپنے مطالبات تحریر کر رکھے ہیں۔ کچھ مقامات پر کورونا وبا کے دوران برتن بجانے کی مہم کو بھی طنزیہ انداز میں دہرایا جا رہا ہے جس کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر لاکھوں افراد نے دیکھی ہیں۔
مودی مخالف احتجاجی تحریک کی ایک اور نمایاں خصوصیت عوامی تعاون ہے۔ دہلی میں دھرنے پر بیٹھے مظاہرین کے لیے ملک بھر سے فوڈ ڈیلیوری ایپس کے ذریعے کھانا، پانی اور دیگر اشیائے ضرورت مسلسل بھیجی جا رہی ہیں۔ کئی افراد خود احتجاج میں شریک نہ ہونے کے باوجود آن لائن آرڈرز کے ذریعے اپنی حمایت کا اظہار کر رہے ہیں۔ وہ رضاکار طور پر یہ کھانا احتجاجی کیمپس میں تقسیم کرتے ہیں۔ پیزا، برگر، گھریلو کھانے اور پانی کی اتنی بڑی مقدار دھرنے کے مقام پر پہنچ رہی ہے کہ بعض اوقات منتظمین کو مزید آرڈرز نہ بھیجنے کی اپیل بھی کرنا پڑتی ہے۔ فوڈ ڈیلیوری رائیڈرز بھی نوجوانوں کی اس تحریک سے اظہارِ یکجہتی کر رہے ہیں۔
ادھر حالیہ دنوں میں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے کی کوشش پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں، جبکہ سکیورٹی فورسز نے آنسو گیس، لاٹھی چارج اور سخت حفاظتی انتظامات کے ذریعے مارچ روکنے کی کوشش کی۔ اس کے باوجود احتجاجی رہنماؤں نے اعلان کیا ہے کہ ان کی جدوجہد جاری رہے گی اور وہ پارلیمنٹ کی جانب مارچ سے دستبردار نہیں ہوں گے۔
سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کے لیے یہ تحریک ایک نئے چیلنج کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ حکومت نے اگرچہ تعلیمی نظام میں اصلاحات اور پیپر لیکس کی روک تھام کے لیے اقدامات کا اعلان کیا ہے، تاہم مظاہرین ان یقین دہانیوں سے مطمئن نہیں اور عملی کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر حکومت جلد کوئی قابل قبول حل پیش کرنے میں ناکام رہی تو "کاکروچ جنتا پارٹی” کی یہ تحریک مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔ ان کے بقول نوجوانوں کی تخلیقی مزاحمت، سوشل میڈیا کی غیر معمولی طاقت، عوامی تعاون اور مسلسل دھرنے نے اس احتجاج کو صرف طلبہ کی تحریک نہیں رہنے دیا بلکہ اسے بھارت میں حکومتی جوابدہی اور شفافیت کے مطالبے کی ایک بڑی عوامی مہم میں تبدیل کر دیا ہے، جس کے باعث آنے والے دنوں میں مودی حکومت کو مزید سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
