ٹرمپ نے سعودی عرب کے جوہری معاہدے کو معاہدۂ ابراہیمی سے مشروط کردیا

 

 

 

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کو معاہدۂ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر ریاض اس معاہدے کا حصہ نہیں بنتا تو امریکا اس کے ساتھ جوہری تعاون کا معاہدہ نہیں کرے گا۔

اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا تھاکہ سعودی عرب کو معاہدۂ ابراہیمی کا رکن ہونا چاہیے، اگر سعودی عرب اس معاہدے میں شامل نہ ہوا تو امریکا اس کے ساتھ جوہری معاہدہ نہیں کرےگا۔

ایران سے متعلق سوال کے جواب میں صدر  ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ابھی تک ایران پر بڑے پیمانے پر حملہ کرنے یا نہ کرنے کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا، کیونکہ تہران کے ساتھ جاری مذاکرات میں ایرانی حکام پہلے کے مقابلے میں زیادہ سنجیدگی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔

یاد رہے کہ کچھ روز قبل صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ سول جوہری پروگرام کے معاہدے کی باضابطہ منظوری دی ہے تاہم اسے کانگریس کی منظوری درکار ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھاکہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جارہا ہے،اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیرفوجی مقاصد کےلیے ہوگا،بالکل ویسا ہی جیسے ایران،متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام ہیں۔

ایران رابطے میں ہے، مؤقف سننے کے لیے تیار ہوں، ٹرمپ

ساتھ ہی امریکی صدر نے واضح کیا تھاکہ اس معاہدے کی منظوری دی جائےگی لیکن اس کی ایک بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت،کامیاب اور نہایت قابل احترام معاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں شامل ہو۔

 

Back to top button