عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 110 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئیں

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 110 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور افریقا میں خام تیل کے فزیکل کارگوز کی قیمتیں اس ہفتے بڑھ کر گزشتہ دو ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، جبکہ بعض کارگوز کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل کے قریب ریکارڈ کی گئی۔
قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ ایران اور یوکرین سے متعلق تنازعات کے باعث سپلائی میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں ہیں، جس کے نتیجے میں خریدار فوری فراہمی کے لیے متبادل ذرائع سے تیل حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
عالمی خام تیل کے بینچ مارک ڈیٹڈ برینٹ کی قیمت، جسے دنیا کے 60 فیصد سے زائد حقیقی خام تیل کے کارگوز کی قیمتوں کے تعین کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، ایل ایس ای جی کے اعداد و شمار کے مطابق 105.70 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
یہ سطح مئی کے آخر کے بعد بلند ترین رہی، جبکہ جون کے آغاز کے بعد پہلی مرتبہ برینٹ کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔
امریکا سے پیغامات کا تبادلہ جاری، ایران دباؤ قبول نہیں کرےگا، عباس عراقچی
ادھر مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے ساتھ قازقستان نے بھی بتایا ہے کہ بحیرہ اسود میں سی پی سی بلینڈ خام تیل کے اہم برآمدی ٹرمینل کو مبینہ یوکرینی ڈرون حملوں کے بعد عارضی طور پر بند کرنا پڑا، جس کے باعث تیل کی پیداوار میں کمی آئی ہے۔ذرائع کے مطابق قازقستان میں خام تیل کی یومیہ پیداوار کم ہو کر تقریباً 4 لاکھ 60 ہزار بیرل رہ گئی ہے۔
