امریکا سے پیغامات کا تبادلہ جاری، ایران دباؤ قبول نہیں کرےگا، عباس عراقچی

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ جاری ہے لیکن ایران دباؤ قبول نہیں کرے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ امریکا کا دھمکی آمیز اور دباؤ پر مبنی رویہ ایران کے لیے قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران طاقت، دباؤ اور دھمکی کی زبان قبول نہیں کرے گا اور نہ ہی کسی دباؤ کے سامنے جھکے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنے مؤقف سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹے گا اور آبنائے ہرمز میں اپنے حقوق کا ہر قیمت پر تحفظ کرے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے زور دیا کہ ایران اپنے مؤقف پر قائم ہے اور آبنائے ہرمز سے متعلق اپنے مطالبات پورے ہونے تک جنگ بندی پر آمادہ نہیں ہوگا۔
علاوہ ازیں عباس عراقچی نے کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں شریک یا تعاون کرنے والے ممالک کو نتائج بھگتنا ہوں گے، جبکہ ایران کے خلاف استعمال ہونے والی سرزمین کو جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم کے خلاف ہر جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا اور شنگھائی تعاون تنظیم کو ایران کی خودمختاری کے احترام کے دفاع میں مضبوط آواز بننا چاہیے۔
عباس عراقچی نے کہا کہ عالمی قوانین اور ریاستوں کی خودمختاری کا احترام علاقائی اور عالمی امن کے لیے ناگزیر ہے، جبکہ رکن ممالک کو امریکی جارحیت کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے کبھی کوئی جنگ شروع نہیں کی، خطے میں پائیدار امن دہرے معیار کے خاتمے سے ہی ممکن ہے۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز کے انتظامات میں بیرونی مداخلت آبی گزرگاہ کی سلامتی کو متاثر کر رہی ہے اور ایران اپنے خلاف کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
ایران رابطے میں ہے، مؤقف سننے کے لیے تیار ہوں، ٹرمپ
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ میں دیرپا استحکام صرف علاقائی ممالک کے درمیان باہمی احترام، اعتماد اور تعاون سے ہی ممکن ہے۔
