ایران رابطے میں ہے، مؤقف سننے کے لیے تیار ہوں، ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران اس وقت امریکا سے رابطے میں ہے اور معاہدہ کرنا چاہتا ہے، جبکہ وہ ایران کا مؤقف سننے کے لیے تیار ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کوریسپونڈینٹس ڈنر کی سالانہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت معاہدے کے لیے مناسب وقت نہیں آیا، تاہم مذاکرات کے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔ ان کے بقول امریکی کارروائیوں سے ایران کی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے اور اس کی بحری و فضائی طاقت تقریباً ختم ہو چکی ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے سیکڑوں طیارے، کشتیاں، ریڈار اور ڈرون تباہ ہو چکے ہیں، جس کے باعث اس کے پاس محدود فوجی صلاحیت باقی رہ گئی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر ایران کو جوہری ہتھیار ملا تو وہ اسے استعمال کرے گا، اس لیے اسے ہر قیمت پر جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جائے گا۔
اس سے قبل امریکی صدر نے کہا تھا کہ ایران مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہے، تاہم ابھی ڈیل کے لیے تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران پر بڑے پیمانے پر حملے جاری رکھنے یا نہ رکھنے کا فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا، البتہ ایرانی حکام مذاکرات میں پہلے سے زیادہ سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے حوالے سے امریکا کے پاس دو راستے ہیں، یا تو کارروائیاں جاری رکھی جائیں یا کسی معاہدے پر پہنچا جائے۔ ان کے مطابق مشرق وسطیٰ کی صورتحال تبدیل ہو چکی ہے اور ایران کا علاقائی اثر و رسوخ کم ہوا ہے۔
الحدیدہ پر حملہ سنگین غلطی، سعودیہ کو بھاری قیمت چکانا ہوگی: حوثی وزارت خارجہ
ٹرمپ نے کہا کہ سعودی عرب کو ابراہم اکارڈ کا حصہ بننا چاہیے، بصورت دیگر جوہری معاہدہ نہیں کیا جائے گا۔
