کمانڈر نیشنل سٹریٹیجک کمانڈ جنرل عامر رضا کون ہیں؟

فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے با اعتماد ترین ساتھی اور سابق چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل سید عامر رضا کو فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر کمانڈر نیشنل سٹریٹیجک کمانڈ مقرر کرنے کے فیصلے کو پاکستان کے دفاعی اور تزویراتی نظام میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، بنیادی وجہ یہ ہے کہ نیشنل سٹریٹیجک کمانڈ ملک کے جوہری اور سٹریٹیجک اثاثوں کی نگرانی، کمانڈ اینڈ کنٹرول اور طویل المدتی دفاعی منصوبہ بندی کا سب سے اہم ترین ادارہ تصور کیا جاتا ہے۔
وزیراعظم آفس سے جاری مختصر اعلامیے کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے جنرل عامر رضا کو نئی ذمہ داری سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور وسیع عسکری تجربے کی بدولت قومی دفاع کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ یہ تقرری گزشتہ برس ہونے والی آئینی اور قانونی اصلاحات کے بعد سامنے آئی ہے، جن کے تحت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا روایتی عہدہ ختم کرکے کمانڈر نیشنل سٹریٹیجک کمانڈ کا نیا ادارہ تخلیق کیا گیا تھا۔ اس نئے عہدے کو پاکستان کے جوہری اور تزویراتی اثاثوں کی نگرانی، کمان اور سٹریٹیجک منصوبہ بندی کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔
ترمیم شدہ قانون کے مطابق وزیراعظم، چیف آف ڈیفنس فورسز کی سفارش پر حاضر سروس جنرل کو تین سال کے لیے کمانڈر نیشنل سٹریٹیجک کمانڈ مقرر کریں گے، جبکہ قومی سلامتی کے تقاضوں کے تحت اس مدت میں مزید تین سال کی توسیع بھی دی جا سکتی ہے۔ قانون میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اس تقرری، دوبارہ تقرری یا مدت ملازمت میں توسیع کو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا، جبکہ اس منصب پر تعینات جنرل پر ریٹائرمنٹ کی معمول کی عمر کی پابندی بھی لاگو نہیں ہوگی۔
دفاعی مبصرین کے مطابق جنرل عامر رضا کی تقرری کی ایک اہم وجہ یہ بھی سمجھی جا رہی ہے کہ وہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے انتہائی قریبی اور قابل اعتماد ساتھیوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران انہیں مسلسل ایسی حساس ذمہ داریاں سونپی گئیں جو عسکری قیادت کے غیر معمولی اعتماد کی عکاس تھیں۔ تاہم حکومت یا پاک فوج کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا اور یہ تجزیہ دفاعی ماہرین کی آراء پر مبنی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جنرل عامر رضا اُن بارہ میجر جنرلز میں شامل تھے جنہیں اکتوبر 2022 میں سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی تھی۔ جنرل عامر رضا اور فیلڈ مارشل عاصم منیر دونوں کا تعلق آفیسر ٹریننگ سکول یعنی او ٹی ایس منگلا سے ہے، جبکہ نئی قانون سازی میں چیف آف ڈیفنس فورسز کے علاوہ بھی کسی جنرل کو فور سٹار رینک تک ترقی دینے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق 9 مئی 2023 کے پرتشدد واقعات کے بعد جب لاہور کور کے کمانڈر جنرل سلمان فیاض غنی کو ان کے عہدے سے ہٹایا گیا تو جنرل عامر رضا کو انتہائی حساس فور کور لاہور کا کور کمانڈر مقرر کیا گیا۔ اس تعیناتی کو عسکری قیادت کے مکمل اعتماد کا مظہر قرار دیا گیا کیونکہ اس وقت لاہور کور کو ملک کی حساس ترین فارمیشنز میں شمار کیا جا رہا تھا۔ کور کمانڈر لاہور کی حیثیت سے جنرل عامر رضا نے سکیورٹی صورتحال کو معمول پر لانے، فوجی تنصیبات کے تحفظ، نظم و ضبط کی بحالی اور ادارہ جاتی استحکام کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ بعد ازاں جنوری 2025 میں انہیں چیف آف جنرل سٹاف مقرر کیا گیا، جہاں وہ عسکری آپریشنز، انٹیلی جنس کوآرڈینیشن، جنگی تیاری، بین الخدماتی رابطوں اور اعلیٰ سطح کی اسٹریٹیجک منصوبہ بندی کے نگران رہے۔
جنرل عامر رضا کا تعلق پاک فوج کی آرمرڈ کور سے ہے اور وہ اپنے طویل عسکری کیریئر کے دوران متعدد اہم کمانڈ، سٹاف اور انتظامی ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں۔ فور سٹار جنرل بننے سے قبل وہ جی ایچ کیو میں چیف آف جنرل اسٹاف کے منصب پر فائز تھے، جبکہ اس سے پہلے ڈائریکٹر جنرل ویپنز اینڈ ایکوپمنٹ، چیئرمین ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا اور جی او سی انفنٹری ڈویژن کھاریاں کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے اپریل 2020 میں ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کی کمان سنبھالی، جبکہ اکتوبر 2022 میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی پائی۔ اس دوران انہوں نے دفاعی پیداوار، جدید عسکری سازوسامان اور اسٹریٹیجک منصوبوں کی نگرانی سمیت مختلف بریگیڈز اور فارمیشنز کی کمان بھی کی، جس کے باعث انہیں ایک تجربہ کار اور پیشہ ور عسکری افسر سمجھا جاتا ہے۔
تعلیمی اعتبار سے جنرل عامر رضا کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کے گریجویٹ ہیں، جبکہ برطانیہ سے ماسٹرز کی ڈگری بھی حاصل کر چکے ہیں۔ ان کی پیشہ ورانہ خدمات کے اعتراف میں انہیں ہلالِ امتیاز (ملٹری) اور ستارۂ بسالت جیسے اعلیٰ عسکری اعزازات سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق کمانڈر نیشنل سٹریٹیجک کمانڈ کا منصب پاکستان کے جوہری اور اسٹریٹیجک اثاثوں کی نگرانی کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ پہلے یہ ذمہ داریاں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے پاس تھیں، تاہم نئی قانون سازی کے بعد یہ تمام اختیارات نئے ادارے کو منتقل کر دیے گئے ہیں تاکہ دفاعی فیصلہ سازی اور کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
قانون کے مطابق کمانڈر نیشنل سٹریٹیجک کمانڈ کی ملازمت کی شرائط، اختیارات اور مراعات کا تعین وزیراعظم کریں گے، جبکہ قومی سلامتی یا ہنگامی حالات میں چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز کی سفارش پر اس عہدے کی مدت میں مزید تین سال تک توسیع بھی دی جا سکے گی۔ اس پورے عمل کو عدالتی کارروائی سے بھی استثنا حاصل ہوگا۔
دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ جنرل عامر رضا کے کیریئر میں آپریشنل کمان، انٹیلی جنس، سٹریٹیجک منصوبہ بندی، دفاعی پیداوار اور اعلیٰ عسکری انتظامی تجربے کا منفرد امتزاج موجود ہے۔ انکے نزدیک یہی خصوصیات انہیں اس حساس ترین منصب کے لیے موزوں بناتی ہیں، جبکہ ان کی فور اسٹار جنرل کے طور پر ترقی اور نیشنل سٹریٹیجک کمانڈ کی سربراہی یہ نشاندہی بھی کرتی ہے کہ پاکستان کی اعلیٰ عسکری قیادت مستقبل کی دفاعی حکمت عملی میں تجربہ، تسلسل اور باہمی اعتماد کو بنیادی اہمیت دے رہی ہے۔
