فضائی آلودگی سے لاہوریوں کی زندگی 4 سال کم ہو گئی

ایک تازہ بین الاقوامی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کے باعث ہر شہری کی زندگی اوسطا نو ماہ کم ہورہی ہے جبکہ لاہور کے رہائشیوں کی اوسطا زندگی چار سال کم ہو رہی ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے یہ انکشاف یونیورسٹی آف شکاگو کی جانب سے کی جانے والی ایک تازہ تحقیق کی بنیاد پر کیا ہے۔
صوبہ پنجاب میں رواں برس بھی موسم سرما کا آغاز ہوتے ہی سموگ نے ڈیرے ڈال لیے ہیں جبکہ لاہور میں فضائی آلودگی کی وجہ سے پیدا ہونے والے سموگ کی مقدار انتہائی خطرناک سطح پر پہنچ گئی ہے۔ تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق نومبر کے دوران لاہور شہر متعدد بار دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر رہا۔ ماہرین کے مطابق سموگ کی صورتحال موسم سرما میں شدت اختیار کر جاتی ہے مگر درحقیقت یہ وہ آلودگی ہے جو سارا سال فضا میں موجود رہتی ہے۔
یونیورسٹی آف شکاگو میں دنیا بھر کے ممالک میں پائی جانے والی فضائی آلودگی بارے ہونے والی ایک تحقیق کے سال 2021 کے اعداد و شمار کے مطابق لاہور میں رہنے والے افراد کی متوقع اوسط عمر ماحولیاتی آلودگی کے باعث چار سال کم ہو رہی ہے جبکہ پاکستان کے شہریوں کی زندگی میں اوسط نو ماہ کی کمی ہو رہی ہے۔ نزلہ، زکام، کھانسی، گلا خراب، سانس کی تکلیف اور آنکھوں میں جلن وہ ظاہری علامات ہیں جو سموگ کے باعث ہر عمر کے شخص کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ سموگ انسانی صحت کو ایسے نقصان بھی پہنچاتی ہے جو بظاہر فوری طور پر نظر تو نہیں آتے لیکن وہ کسی بھی شخص کو موذی مرض میں مبتلا کر سکتے ہیں، جیسا کہ پھیپڑوں کا خراب ہونا یا کینسر کا مرض۔
ڈاکٹروں کے مطابق بچے اور بوڑھے افراد سموگ سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور اس لیے جب سموگ بڑھ جائے تو انھیں گھروں میں ہی رہنا چاہیے۔ ماحولیات کے اُمور پر کام کرنے والے وکیل، کارکن اور ماہر رافع عالم نے انڈیا میں ہونے والی ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ دہلی میں تین سے 14 سال تک کے عمر کے بچوں پر ایک تحقیق کی گئی جس میں دیکھا گیا کہ سموگ ان کے پھیپڑوں پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہیں۔
اس تحقیق کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ ان بچوں میں نے 48 فیصد بچوں کے پھیپڑے کالے تھے یعنی بلیک لنگز۔ انکا کہنا تھا کہ ’اب آپ خود اس بات سے اندازہ لگا لیں کہ فضائی آلودگی کی یہ قسم کس حد تک انسانی صحت کے لیے خطرنات ہے۔‘
لاہور میں حالیہ سموگ اور فضائی آلودگی بارے گفتگو کرتے ہوئے رافع عالم نے بتایا کہ اس وقت شہر کا ہر باسی اس موذی سموگ سے متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سماگ دراصل وہ فضائی آلودگی ہے جو ہوا میں موجود مضر صحت گیسیوں کے اخراج اور ہوا میں موجود مٹی کے ذرات کے ملاپ سے بنتی ہے۔ ‘دراصل جب دھواں اور درجہ حرارت کم ہونےکے باعث بننے والی دھند آپس میں ملتے ہیں تو یہ سموگ بناتے ہیں۔ یہ ایسی فضائی آلودگی ہے جسے فوٹو کیمیکل سموگ بھی کہا جاتا ہے اور یہ تب پیدا ہوتی ہے جب نائٹروجن آکسائیڈز جیسے دیگر زہریلے ذرات سورج کی روشنی سے مل کر ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔’ یہ چھوٹے کیمائی اجزا سانس کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو کر صحت کے مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پی ایم 2.5 کے ذرات اس قدر چھوٹے ہوتے ہیں کہ وہ نہ صرف سانس کے ذریعے آپ کے جسم یں داخل ہو جاتے ہیں بلکہ آپ کی رگوں میں دوڑتے خون میں بھی شامل ہو جاتے ہیں۔
یاد رہے کہ نومبر میں لاہور کی ائیر کوالٹی کئی مرتبہ 300 سے 500 پوائنٹس کے درمیان جا چکی یے جو ہر عمر کے شخص کی صحت کے لیے خطرناک ہے۔ سموگ کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر حکومت پنجاب نے ضلع لاہور میں تعلیمی اداروں کو ہفتے کے تین دن بند رکھنے کا نوٹفیکیشن جاری کیا جبکہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے فضائی آلودگی کا سبب بننے والے افراد کے خلاف مشترکہ کارروائیاں بھی عمل میں لائی جا رہی ہیں جو فصلوں کی باقیات جلا کر فضا کو آلودہ کر رہے ہیں، دھواں چھوڑنے والے گاڑیاں چلا رہے ہیں یا پھر ایسی فیکٹریوں کے مالکان جن کے صنعتی یونٹ سے نکلنے والا دھواں فضا کو آلودہ کر رہا ہے۔
