فوجی املاک پر حملہ، عمران خان مرکزی ملزم نامزد

سابق وزیر اعظم عمران خان کیخلاف فوجی عدالت میں کارروائی کی راہ ہموار ہونے لگی۔پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان کو نو مئی کے واقعات میں پہلے سے درج 6 مقدمات میں نامزد کر دیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کو دہشتگردی ایکٹ کے تحت 6 مقدمات میں نامزد کیا گیا ہے۔ ان کے خلاف 3 مقدمات 9 مئی اور 3 مقدمات 10 مئی کو درج کیے گئے۔چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو فیصل آباد میں دو مقدمات اور راولپنڈی میں درج دو مقدمات میں نامزد کیا گیا جبکہ گوجرانوالا اور میانوالی میں بھی درج ایک ایک مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔

عمران خان کو فوجی ہیڈکوارٹر جی ایچ کیو اور خفیہ ادارے ‘آئی ایس آئی’ کے حمزہ کیمپ پر حملوں کے خلاف اسلام آباد کے دو مختلف تھانوں میں درج مقدموں میں نامزد کیا گیا ہے۔جی ایچ کیو پر شرپسندوں کے حملے کا مقدمہ اسلام آباد کے تھانہ آر اے بازار جبکہ آئی ایس آئی کے حمزہ کیمپ پر حملے کا مقدمہ تھانہ نیوٹاؤن میں درج ہے۔جی ایچ کیو حملے کے مقدمے میں سابق صوبائی وزیر راجہ بشارت سمیت 15 افراد پہلے ہی نامزد ہیں۔

خیال رہے کہ راولپنڈی پولیس نے جی ایچ کیو پر حملے کا مقدمہ 10 مئی کو درج کرلیا تھا جس میں سابق صوبائی وزیر راجہ بشارت سمیت درجنوں کارکنان نامزد کیے گئے تھے۔علاوہ ازیں جی ایچ کیو راولپنڈی پر حملے میں ملوث بیشتر شر پسندوں کی شناخت بھی ہوگئی تھی۔ جی ایچ کیو راولپنڈی پر حملے اور پُرتشدد کارروائیوں میں ملوث شر پسندوں کی شناخت کے بعد گرفتاریاں بھی کی گئیں۔پولیس نے ’جی ایچ کیو‘ کا گیٹ توڑنے اور توڑ پھوڑ کرنے کی تحقیقات کے لیے خصوصی انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی تھی۔’انویسٹی گیشن سپورٹ یونٹ‘ کی سربراہ ایس ایس پی ’انویسٹی گیشن‘ زنیرہ اظفر ہیں۔ یونٹ میں ’ایس ڈی پی او‘ کینٹ، ’ایس ڈی پی او‘ سٹی اور 3 ایس ایچ اوز شامل ہیں۔ ’جی ایچ کیو‘ پر حملے اور توڑ پھوڑ کا مقدمہ تھانہ آر اے بازار میں درج کیا گیا تھا جس میں سابق صوبائی وزیر راجا بشارت سمیت 15 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔

راولپنڈی پولیس کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ عمران خان کو ان درج مقدمات میں گرفتار ہونے والے افراد سے کی جانے والی تفتیش کے نتیجے میں نامزد کیا گیا ہے۔یہ دونوں مقدمات انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج کیے گئے ہیں اور ان مقدمات میں گرفتار ہونے والے متعدد افراد کو ضلعی عدالتوں نے فوج کے حوالے کیا ہے تاکہ ان کا ٹرائل وہاں چلایا جا سکے۔چیئرمین تحریکِ انصاف کو فیصل آباد میں آئی ایس آئی کے دفتر پر حملے سمیت میانوالی میں پاکستان ایئر فورس بیس پر چڑھائی اور گوجرانوالہ میں درج دہشت گردی کے مقدمے میں بھی نامزد کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ نو مئی کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکنوں نے ملک بھر میں احتجاج کیا تھا۔ پرتشدد مظاہرین نے اسی روز لاہور کے کور کمانڈر ہاؤس اور جی ایچ کیو سمیت فوج کی کئی تنصیبات اور کئی دیگر سرکاری عمارتوں میں توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کیا تھا۔جس کے بعد متعدد شرپسندوں کو گرفتار کیا گیا تھا جن میں سے بعض ملزمان کیخلاف انسداد دہشتگردی جبکہ 102 افراد کیخلاف فوجی عدالتوں میں کیس زیر سماعت ہیں جبکہ تازہ پیشرفت کے تحت عمران خان کی مرکزی ملزم کے طور پر نامزدگی کے بعد ان کا کیس بھی فوجی عدالت میں بھجوانے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ فوجی عدالتوں کے سامنے پیش ہونے کے لیے تیار ہیں اور وہ فوجی عدالت میں سماعت کیلئے کوئی وکیل بھی مقرر نہیں کرینگے بلکہ خود ہی تمام سازش کو بے نقاب کرینگےخیا ل رہے کہ سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائلز کیخلاف سماعت کیخلاف درخواستیں سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ میں پیش کیے گئے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اب تک 102 افراد کے مقدمات فوجی عدالتوں میں بھجوائے جا چکے ہیں جن میں جی ایچ کیو میں توڑ پھوڑ کرنے والے ملزمان بھی شامل ہیں۔

یاد رہے کہ عمران خان نے عام پاکستانی شہریوں (سویلینز) کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں چلانے کے حکومتی فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔سپریم کورٹ میں اس کیس میں ہونے والے آخری سماعت کے موقع پر وفاقی حکومت کے نمائندے یعنی اٹارنی جنرل نے بتایا تھا کہ جن افراد کے مقدمات فوجی عدالتوں میں بھیجے گئے ہیں ان کا ابھی ٹرائل شروع نہیں ہوا، جبکہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے چند روز قبل ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ ان افراد کے خلاف مقدمات کی سماعت فوجی عدالتوں میں شروع ہو چکی ہے۔

Back to top button