فیصل واوڈا کو دوہری شہریت نااہلی کیس میں کون بچا رہا ہے؟


دوہری شہریت نااہلی کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا کی رسی دراز کرتے ہوئے انہیں نیا وکیل مقرر کرنے کے لئے ایک مہینے کی مزید مہلت دے دی۔ یاد رہے کہ دوہری شہریت نااہلی کیس میں فیصل واوڈا الیکشن کمیشن اور اسلام آباد ہائی کورٹ دونوں سے پچھلے ایک برس سے تاخیری ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے تاریخ پر تاریخ حاصل کرتے چلے آرہے ہیں۔
بارہ نومبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں فیصل واوڈا نے اپنا حتمی جواب جمع کروانے کی بجائے عدالت کو آگاہ کیا کہ وہ اپنا وکیل تبدیل کرنے جا رہے ہیں اس لیے انہیں اس مقصد کے لیے ایک مہینے کا وقت دیا جائے اور کیس کی سماعت ملتوی کی جائے۔ چنانچہ جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت ایک مہینے کے لئے ملتوی کردی۔
یاد رہے کہ اس کیس کی پچھلی سماعت پر بھی فیصل واوڈا کے تاخیری حربوں سے تنگ آکر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے تھے کہ فیصل واڈا الیکشن کمیشن کے روبرو نااہلی کیس میں یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ ان کا کیس اسلام آباد ہائی کورٹ میں لگا ہوا ہے اور جب یہاں ان سے پوچھا جاتا ہے تو وہ بتاتے ہیں کہ میرا کیس تو الیکشن کمیشن کے پاس زیر سماعت ہے۔ لیکن اب ایسے نہیں چلے گا۔
4 نومبر کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے نااہلی کیس میں فیصل واوڈا کی طرف سے جواب داخل نہ کرنے پر برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہا تھا کہ عدالت کے ساتھ چھپن چھپائی کا کھیل کھیلنا چھوڑ دیں، موصوف الیکن کمیشن میں کہتے ہیں کہ مقدمہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے اور یہاں جواب جمع کرانے سے انکاری ہیں، عدالت سے سیدھی بات کریں، یہ نہ ہو کہ عدالت موکل کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے دیں۔ واضح رہے کہ تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی فیصل واوڈا 2018ء کے عام انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کرواتے وقت امریکی شہری تھے اور ان کا الیکشن کمیشن میں جمع کرایا جانے والا حلف نامہ جعلی تھا کیونکہ اسمیں انہوں نے کہا تھا کہ ان کے پاس غیر ملکی شہریت نہیں ہے۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ 11 جون 2018ء کو کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت وہ امریکی شہری تھے۔ کاغذات کی اسکروٹنی کے وقت بھی ان کی امریکی شہریت برقرار تھی۔ فیصل واوڈا نے اپنے کاغذات نامزدگی میں حلفاً کہا تھا کہ وہ صرف پاکستانی شہری ہیں تاہم دستاویزات سے ثابت ہوا جب انہوں نے کاغذات جمع کرائے وہ امریکی شہری تھے۔
قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ثابت ہوجائے کہ کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت وہ امریکی شہری تھے تو واوڈا نااہل ہوجائیں گے۔ 4 نومبر کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں فیصل واوڈا کے وکیل نے بتایا تھا کہ ان کے مؤکل نے کارروائی روکنے کی درخواست کی ہے۔ عدالت نے فیصل واوڈا کی جانب سے جواب داخل نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا اور فیصل واوڈا کے وکیل سے سوال کیا کہ پہلے یہ بتائیں کہ ہمارے آرڈر کی روشنی میں جواب داخل کرادیا ہے؟ آپ نے الیکشن کمیشن کی آرڈر شیٹس درخواست کے ساتھ کیوں نہیں لگائیں؟ کورٹ کے ساتھ ہائیڈ اینڈ سیک نا کھیلیں۔ جسٹس عامر فاروق نے وکیل سے مکالمہ کیا کہ آپ الیکشن کمیشن میں بھی پیش نہیں ہورہے اور ادھر بھی جواب جمع نہیں کریا جا رہا اورالیکشن کمیشن جاکر کہتے ہیں کہ معاملہ ہائیکورٹ میں بھی چل رہا ہے۔
دورانِ سماعت الیکشن کمیشن کے وکیل نے فیصل واوڈا کے کاغذات نامزدگی کا ریکارڈ عدالت میں پیش کیا اور عدالت کو بتایا کہ ریکارڈ کے ساتھ دہری شہریت نا رکھنے کا فیصل واؤڈا کا بیان حلفی بھی دیا گیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ کیس یہ ہے کہ فیصل واوڈا کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت دہری شہریت رکھتے تھے، فیصل واوڈا نے ‏11 جون 2018 کو بیان حلفی میں کہا دوہری شہریت نہیں رکھتے جبکہ ‏شہریت چھوڑنے کی درخواست 25 جون 2018 کو منظور ہوئی، ‏اس کا مطلب یہ ہوا بیان حلفی کے وقت فیصل واوڈا امریکی شہری تھے، جسٹس عامرفاروق کا مزید کہنا تھا کہ ‏فیصل واؤڈا نے بیان حلفی میں کہا وہ غیرملکی شہریت نہیں رکھتے, نہ کبھی اپلائی کیا، ‏شہریت 25 جون کو چھوڑی, بیان حلفی میں کہا گیا کہ آپ امریکی شہری نہیں، جس پر فیصل واوڈا کے وکیل نے کہا کہ ‏یہ دستاویزات جعلی بھی ہوسکتی ہیں، جس پر عدالت نے ریمارکس دئیے کہ ‏آپ سے ایک سال سے جواب مانگ رہے ہیں، اصل حقائق پیش کر دیں ‏خود کو بند گلی میں نہ لےجائیں،اب رہ ہی کیا گیا، ‏عدالت سے سیدھی بات کریں، جسٹس عامرفاروق نے مزید کہا کہ ‏کیا آپ چاہتے ہیں فیصل واوڈا کو ذاتی طور پر طلب کرلوں، ‏آپ اپنے مؤکل سے ہدایات لیکر آئے ہیں، آپ نے ہی جواب دینا ہے۔ بعد ازاں عدالت نے فیصل واوڈا کے وکیل کی مہلت کی استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت 12 نومبر تک ملتوی لیکن اس روز عدالت کو بتایا گیا کہ فیصل واڈا نیا وکیل مقرر کرنا چاہتے ہیں لہذا جستس عامر فاروق نے کہا کی سماعت 15 دسمبر تک ملتوی کردی۔
واضح رہے کہ 2018 میں سپریم کورٹ نے ن لیگ کے سینیٹرز سعدیہ عباسی اور ہارون اختر کو کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت دہری شہریت پر نااہل قرار دیا تھا، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ واضح کر دیا تھا کہ کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت امیدواروں کے پاس غیر ملکی شہریت چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ ہونا چاہئے۔ اسی بات پر سپریم کورٹ نے کئی ارکان پارلیمنٹ کو نا اہل قرار دیا تھا۔ تاہم تاخیری حربوں کے ذریعے فیصل واوڈا ابھی تک الیکشن کمیشن اور اسلام آباد ہائی کورٹ کو اپنے نا اہلی کیس میں فیصلہ کرنے کا موقع نہیں دے رہے۔ لیکن اہم ترین سوال یہ ہے کہ فیصل واڈا کے پاس وہ کونسی طاقت ہے جو انہیں اس کیس میں بچائے چلے جا رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button