فیض حمید کا سیاست میں نہ آنے کا دعویٰ سیاسی کیوں یے؟

اپنے فوجی کیریئر کے دوران وردی کے زور پر سیاست کرنے والے آئی ایس آئی کے متنازعہ ترین ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید نے اپنی سیاست میں شمولیت کی خبریں سامنے آنے کے بعد دعوی کیا یے کہ وہ کبھی سیاست میں نہیں آئیں گے اور اس حوالے سے خبریں بالکل بے بنیاد ہیں، انکا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق ریٹائرمنٹ کے بعد دو برس تک سیاست میں حصہ لینے پر پابندی ہوتی یے لیکن وہ اس کے بعد بھی سیاست میں حصہ نہیں لیں گے۔ لیکن تجزیہ کار فیض حمید کے اس موقف کو سیاسی بیان قرار دیتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ جو شخص پہلے بطور ڈی جی کاؤنٹر انٹیلی جنس، پھر بطور ڈی جی آئی ایس آئی اور پھر بطور کور کمانڈر برس ہا برس اور صبح و شام ملکی سیاست گھماتا رہا ہو، وہ ریٹائرمنٹ کے بعد غیر سیاسی کیسے رہ سکتا ہے خصوصا جب وہ خود کو عمران خان جیسے سیاست دان کا سیاسی اتالیق بھی قرار دیتا ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ فیض حمید نے تو پہلے غیر سیاسی تھے اور نا ہی اب ہیں اور عمران خان کے حکومت مخالف منصوبوں میں بھرپور مشورہ نویسی کر رہے ہیں۔ یہ بات نئی فوجی قیادت بھی جانتی تھی اور سی لیے فیض نے وقت سے پہلے ریٹائرمنٹ لینے کا فیصلہ کیا تا کہ کسی انضباطی کارروائی کی زد میں نہ آ جائیں۔
یاد رہے کہ 14 دسمبر کو فیض حمید کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں انہیں چکوال میں اپنے فارم ہاوس پر ایک سیاسی اجتماع میں شریک دیکھا جا سکتا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس اجتماع کا انتظام جنرل فیض کے بھائی سابق پٹواری نجف حمید نے کیا تھا جو پہلے ہی تحریک انصاف کا حصہ بن چکے ہیں۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جنرل فیض اس تقریب کے مہمان خصوصی ہیں اور مختلف مقررین ان کی شان میں تقریریں کر رہے ہیں۔ اس موقع پر ایک مقرر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم چاہتے تھے کہ آپ پاکستان کے آرمی چیف بنیں لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا۔ اگر ایسا ہو جاتا تو یہ ملک کی خوش قسمتی اور آپ کا بڑا کارنامہ ہوتا۔ لیکن اب ہمیں امید یے کہ آپ سیاست میں آ کر عوام کی خدمت کریں گے اور وہ عہدہ حاصل کریں گے جو آپ فوج میں حاصل نہیں کر پائے۔ اس فقرے پر جنرل فیض حمید نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر مقرر کا شکریہ ادا کیا۔
معروف بلاگر شمع جونیجو نے فیض حمید کے فارم ہاوس کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے ٹوئیٹ کی کہ عمران کیلئے اصل خطرہ پی ڈی ایم نہیں بلکہ ان کا اپنا ہی محبوب دوست جنرل فیض حمید ہے جو خان کی ممکنہ نااہلی اور گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کی باگ ڈور سنبھالنا چاہتا یے۔ لیکن سینئر صحافی انصار عباسی کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ ویڈیو فیض حمید کو بھجوا کر ان کے سیاسی عزائم کے بارے میں سوال کیا۔ ریٹائرڈ جرنیل نے یہ ویڈیو دیکھ کر کہا کہ میرا سیاست میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ دو سال کی پابندی ختم ہونے کے بعد بھی سیاست میں نہیں آئیں گے اور نہ ہی پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے آبائی گاؤں میں تھے جہاں ان کے رشتہ داروں اور مقامی افراد ان سے ملنے آتے ہیں۔ اس موقع پر ایک شخص نے ان سے درخواست کی کہ پاکستان کی ترقی کیلئے سیاست میں شمولیت اختیار کریں لیکن میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ لیکن سچ یہ ہے کہ وائرل ویڈیو میں مختلف لوگ تقریریں کرتے ہوئے کروڑوں روپے کے ترقیاتی فنڈز دلوانے پر فیض حمید کا شکریہ ادا کر رہے ہیں۔
انصار عباسی کا کہنا ہے کہ میڈیا عمومی طور پر فیض حمید کو عمران خان کا حامی اور پروموٹر سمجھتا ہے۔ فیض پر عموماً الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ آئی ایس آئی کی طاقت استعمال کرکے عمران کو ان کی سیاست میں فائدہ اور ان کے مخالفین کو نقصان پہنچانے رہے ہیں۔ سابق آرمی چیف جنرل باجوہ اور تب کے وزیراعظم عمران خان کے درمیان تعلقات کو تب نقصان پہنچا جب کور کمانڈر کی حیثیت سے پشاور ٹرانسفر ہونے والے فیض حمید کو خان نے بطور ڈی جی آئی ایس آئی سبکدوش کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ معاملہ عوامی سطح پر ایک بڑا تنازع بن کر سامنے آیا۔ بعد میں عمران نے فیض حمید کو ٹرانسفر کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی اور ان کی جگہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کو ڈی جی آئی ایس آئی لگا دیا گیا لیکن عمران اور باجوہ کے تعلقات میں پڑنے والی دراڑ گہری ہوتی چلی گئی جس کا نتیجہ حکومت کی فراغت کی صورت میں سامنے آیا۔
خان کے سیاسی مخالفین بالخصوص نون لیگ والے سیاسی معاملات میں مداخلت کرنے پر فیض حمید پر تنقید کرتے رہے ہیں۔عمران کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کیے جانے کے موقع پر نون لیگ والوں کو ایک خوف یہ بھی تھا کہ اگر عمران بدستور عہدے پر رہے تو وہ فیض کو نیا آرمی چیف لگا دیں گے جس کے بعد وہ اپنی حکومت کو طول دینے کیلئے آئندہ نتخابات میں ہیرا پھیری کرکے اپوزیشن کی طبعیت درست کریں گے۔ اسی لیے نومبر 2022 سے بہت پہلے عمران کو گھر بھیجنے کا منصوبہ تیار کر لیا گیا جو کامیاب بھی ہوا اور اب جنرل عاصم منیر نئے فوجی سربراہ بن چکے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ غیر سیاسی ہونے کا دعوی کرنے والے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید سیاسی کب ہوتے ہیں؟
