رنگوں کے استاد کہلانے والے مصور اسمٰعیل گُل جی کی کہانی

رنگوں کے استاد کہلانے والے ’’گل جی‘‘ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں، وہ ایک ایسے مصور ہیں جنکی تخلیق ہزاروں کے مجمعے میں بھی دور سے پہچانی جا سکتی ہے، انکا اصل نام ’’عبدالحمید اسماعیلی‘‘ تھا لیکن دنیائے مصوری میں ان کو ’’ گل جی‘‘ کے طور پر جانا جاتا تھا، وہ پشاور میں 25 اکتوبر 1926 کو پیدا ہوئے، ان کی مصوری سے متعلق خاص بات یہ ہے کہ انھوں نے ساری زندگی مصوری کی کوئی رسمی تعلیم حاصل نہیں کی تھی لہٰذا ان کا شمار نیچرل مصوروں میں ہوتا ہے۔
لیکن افسوس کہ گل جی اور ان کی شریکِ حیات کو 16 دسمبر 2007 کو کراچی میں انکی رہائش گاہ پر قتل کر دیا گیا۔ تحقیقات سے علم ہوا کہ قتل ان کے گھر کے گارڈ اور ڈرائیور اکرم اور انوار نے ڈکیتی کے دوران کیے۔ زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ قتل کا بنیادی مقصد گل جی کی پینٹنگز چرا کر مارکیٹ میں فروخت کرنا اور پیسے کمانا تھا۔ پولیس نے سب سے پہلے شک کا اظہار گل جی کے اکلوتے بیٹے امین گل جی پر کیا جو اسی گھر کے دوسرے حصے میں مقیم تھے، تاہم بعد میں اصل سٹوری کھل گئی۔
گل جی ایک معصوم اور سادہ طبعیت شخص تھے۔ قتل کے وقت انکی عمر اگرچہ 81 برس تھی لیکن انکے اندر کا گُل جی کوئی پندرہ سولہ سال کا حساس بچہ تھا جو درخت پر کوکتی کوئل کی آواز پر بھی اور کسی وقت اذان کی آواز پر بھی رو پڑتا تھا۔ صوفیوں کی طرح رقیق القلب ایسا کہ بات بات پر گلا رندھ جاتا، وہ کسی پھول، کسی اڑتی ہوئی چڑیا، کسی تتلی، تانگے کے آگے جُتے ہوئے گھوڑے اور پنجرے میں بند طوطے تک کو دیکھ کر رو پڑتا تھا۔ سرخ و سفید چہرے، لمبے قد، مخروطی انگلیوں، چمکتی آنکھوں، والا گُل جی ساری زندگی رنگوں سے کھیلنے کے بعد منوں مٹی کے نیچے سو چکا ہے لیکن اس کی بنائی ہوئی پینٹنگز اور تصویریں اسے زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
گُل جی نے انجینرنگ کی تعلیم حاصل کی لیکن کمال اسے مصوری میں حاصل ہوا۔ وہ صرف رنگوں کو ہی زبان نہیں دیتا تھا، اسکی انگلیوں میں‘‘کن فیکون‘‘ کا اعجاز تھا۔ وہ کانسی جیسی دھات سے شاہکار تخلیق کرتا تھا، یہ فن اس کے بیٹے نے بھی سیکھا۔ گل جی پتھروں سے باتیں ہی نہیں کرتا تھا بلکہ انہیں زندگی بھی دیتا تھا۔ اُس میں تکبر ذرہ برابر نہیں تھا، وہ نہایت منکسر المزاج اور سادہ زندگی بسر کرنے والا فنکار تھا۔ گل جی نے ابتدائی اور اعلیٰ تعلیم، والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے حاصل کی جبکہ مصوری کا مزاج اپنے دادا کا اپنایا۔ ان کے دادا واٹر کلر پینٹ آرٹسٹ تھے۔ ان کے والد خود ایک انجینئر تھے لہٰذا گل جی کے لیے تعلیمی منصوبہ بندی کے طور پر انجینئرنگ کا انتخاب کی اگیا ،گل جی نے علی گڑھ یونیورسٹی سے بی ایس سی آنرز کیا۔ وہ ایک ذہین طالب علم تھے۔ لہٰذا والد کی وفات کے بعد بھی مشکل معاشی حالات ان کی اعلیٰ تعلیم کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے اور امریکا کی کولمبیا یونیورسٹی کی جانب سے سکالر شپ سے نوازا گیا جس کے بعد گل جی امریکا چلے گئے، کولمبیا یونیورسٹی سے ہائیڈرالکس انجینئرنگ میں ایم ایس سی جبکہ ہارورڈ یونیورسٹی سے سائل میکینیکس میں ایم ایس سی کیا۔
دوران تعلیم بھی گل جی کی توجہ کا مرکز ان کا فن اور پینٹنگ برش رہتا۔انھیں ایسا محسوس ہوتا کہ رات کی تاریکی کا پس منظر انھیں کسی اور دنیا میں لے جاتا ہے جہاں ان کا فن ابھر کر سامنے آتا ہے۔ اس تاریکی میں گل جی نے ایسے حیران کن فن پارے تخلیقی کیے کہ ہر پہلی نگاہ جھپکنا بھول جاتی تھی۔
اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بعد جب اسمٰعیل گل جی پاکستان لوٹے تو اوٹاوا سفارت خانے میں سیکریٹری کی حیثیت سے شمولیت اختیار کرلی۔ اسی سال 1950میں گل جی کی پہلی پینٹنگز اور تصاویر کی نمائش منعقد کی گئی۔ اس نمائش کے بعد گل نے اس مشغلہ کو ہی اپنا پیشہ بنالیا اور یہی پیشہ دنیا بھر میں ان کی مقبولیت کی وجہ بنا۔
ایک بار افغانستان کے بادشاہ ظاہر شاہ نے کراچی دورے کے دوران گل جی سے اپنا پورٹریٹ بنانے کی درخواست کی، اس پورٹریٹ کے ذریعے ظاہر شاہ گل جی کے فن سے اس قدر مسحور ہوئے کہ انھیں پورے شاہی خاندان کے افراد کے پورٹریٹ بنانے کیلئے افغانستان آنے کی دعوت دی۔ اس کے بعد انھوں نے پرنس کریم آغا خان چہارم، ایران کی ملکہ فرح، سلطان محمد شاہ، سعودی عرب کے شاہ فیصل، صدر رونلڈ ریگن، ذوالفقار علی بھٹو اور صدر ایوب خان جیسی نامور شخصیات کے پورٹریٹ بھی بنائے۔ یہ سلسلہ 1967 تک جاری رہا۔ اس کے بعد انھوں نے اسلامی خطاطی کی جانب توجہ مبذول کرلی اورکانسی، چاندی اور سونے سے ایسے مجسمے تخلیق کیے کہ دیکھنے والے ان کی صلاحیتوں کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ پاتے۔ ان کے تخلیق کیے گئے فن پارے آج بھی پاکستان کی مشہور عمارات فیصل مسجد اور پارلیمینٹ ہاؤس کی زینت بنے ہوئے ہیں۔فن خطاطی کے علاوہ گل جی موزیک اسٹائل میں فیروزہ، زمرد اور سنگِ مرمر سے تیارہ کردہ قدرتی منظر اور پورٹریٹ بنانے میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ گل جی کو ان کی بے شمار خدمات کے سبب حکومت پاکستان کی جانب سے پرائڈ آف پرفارمنس، ہلال امتیاز اور ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔
