قائداعظم محمد علی جناح کی 74 ویں برسی آج منائی گئی

بابائے قوم ، برصغیر پاک وہند کے مسلمانوں کے نجات دہندہ،بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی 74 ویں برسی آج انتہائی عقیدت واحترام سے منائی گئی۔

بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی برسی کے موقع پر مزار قائد پر پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، برسی کے موقع پر مزار قائد پر قرآن خوانی و فاتحہ خوانی کا اہتمام کیا، قائم مقام گورنر سندھ آغا سراج درانی، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ ،شہلا رضا اور ایڈیشنل آئی جی کراچی سمیت دیگر اہم سیاسی و سماجی شخصیات نے بھی مزار قائد پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قائد اعظم کی 74ویں برسی پر خراج عقیدت پیش کرنے آئے ہیں، قائد اعظم کے اس ملک کو ہم سب نے سنبھالنا اور سنوارنا ہے،شدید مشکل وقت ہے اور سیلاب کی زد میں پاکستان خاص طور پر صوبہ سندھ آیا ہے، سیلاب سے پورا سندھ ڈوب گیا ہے اور پوری دنیا نے مل کر اس کا مقابلہ کرنا ہے، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے یہ تباہی دیکھی ہے۔

مراد علی شاہ نے کہاوزیر اعظم اور وزیر خارجہ اقوام متحدہ میں اپنا مؤقف پیش کریں گے، کم از کم 50 ارب کا نقصان لائیو اسٹاک کا ہوا ہے جبکہ کراچی میں جو نقصان ہوا اس کے آپ سب گواہ ہیں، پانی نہیں رکا۔ سندھ میں 10 گنا زیادہ بارش ہوئی ہے تاہم ہم نے لوگوں کی بحالی کے لیے کام کرنا ہے، بہت بڑا انسانی المیہ ہے، پہلے بارش تھی اب سخت گرمی پڑ رہی ہے اور اس وقت لوگ بڑی تکلیف میں ہیں تاہم سیلاب زدگان کی بحالی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں اور کوشش ہو گی کہ نومبر دسمبر تک 75 فیصد علاقے کو ہم صاف کر لیں، اکتوبر میں گندم بھی کاشت ہو گی۔

شہر قائد میں بندرگاہ کے قریب واقع وزیر مینشن نامی عمارت میں 1876 کوجناح بھائی پونجا کے گھرآنکھ کھولنے والے محمد علی جناح آنے والے برسوں میں مسلمانان ہند کے میر کارواں بن گئے اور عرصہ دراز سے استحصال میں پھنسی قوم کو اپنی سیاسی بصیرت کی وجہ سے الگ مملکت کی شناخت دی۔

بانی پاکستان قائداعظم کو پاکستان کی آزادی کے لیے ان کی بے مثال خدمات پر خراج تحسین پیش کرنے کیلئے خصوصی پروگرام نشر کئے گئے۔

برصغیر میں ایک آزاد مسلم ریاست کے قیام کا وہ دیرینہ خواب جو اسلامیان ہند گذشتہ دو صدیوں سے دیکھتے چلے آرہے تھے 14 اگست کو شرمندہ تعبیر ہوا، قائد اعظم محمد علی جناح قوم کیلئے آزادی حاصل کرنے کے بعد 11 ستمبر 1948 کو انتقال کرگئے۔

قائد اعظم محمد علی جناح کی وفات کو کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود ا ن کے یوم وفات پر ہزاروں افراد کی ان کی لحد پر حاضری اور مختلف شہروں میں منعقد ہونے والی تقریبات اس امر کی گواہی دیتی ہیں کہ پاکستانی قوم ان سے آج بھی والہانہ عقیدت رکھتی ہے۔

Back to top button