قبائلی عوام کی جمہوری عمل میں شمولیت نئے پاکستان کی عکاسی کرتی ہے

وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا ہے کہ سابق فاٹا کے عوام کی قومی دھارے کے جمہوری عمل میں شمولیت نئے پاکستان کی عکاسی کرتی ہے اور وزیر اعظم ان قبائلی علاقوں کو ملک کے دیگر علاقوں کی طرح برابری کی سطح پر لانا چاہتے ہیں۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اطلاعات قبائلی عوام اس ملک کا حصہ تو تھے لیکن اس ملک کے مرکزی دھارے میں شامل نہیں تھے، ہماری حکومت نے اس کو بہت اہمیت دی کیونکہ یہ اضلاع خیبر پختونخوا کے ساتھ منسلک ہیں اور سابق فاٹا کے عوام کی قومی دھارے کے جمہوری عمل میں شمولیت نئے پاکستان کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دو یکساں نظاموں کی وجہ سے قبائلی علاقوں میں بالکل ترقی نہیں ہو رہی تھی، قبائلی عوام نے ہمیشہ اس ملک کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں لیکن انہیں باقی پاکستان کی طرح سہولیات نہیں مل رہی تھیں اور وہ ایسے قانون کے تحت رہ رہے تھے جس میں کچھ لوگوں کو تو فائدہ تھا لیکن اکثر عوام کو تکالیف تھیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے اس کو بہت توجہ دی اور طے پایا کہ 25ویں ترمیم کے تحت ان کو خیبر پختونخوا میں ضم کیا جائے تاکہ ان کو وہی سہولیات اور حقوق ملیں جو پہلے نہیں ملتے تھے، 25ویں ترمیم میں تمام جماعتوں کی منظوری شامل تھی اور سب اس پر رضامند تھے کہ اس کو ضم ہونا چاہیے۔ شبلی فراز نے کہا کہ وہاں الیکشنز کو ایک سال ہو گیا ہے لہٰذا میں سمجھتا ہوں کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے دن رات محنت کر کے اس منصوبے کو بڑی حد تک مکمل کر لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سب سے بڑا چیلنج وہاں عدالتی نظام کا قیام تھا اور اب قبائلی عوام کے مسائل اور تنازعات کے حل کے لیے عدالتی نظام قائم کیا گیا ہے اور تنازعات کے حل کے لیے طریقہ کار بھی وضع کیا گیا ہے جس سے قبائلی عوام کو پہلے کی نسبت انصاف کی فراہمی آسان اور سہل بنا دی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں میں لیویز فورسز ہوتی تھیں اور انہیں بھی خیبر پختونخوا کی پولیس میں ضم کیا گیا جو قابل ستائش کارنامہ ہے، ہماری خیبر پختونخوا کی حکومت روز بروز اس میں بہتری لا رہی ہے اور اقدام کا مقصد وہاں روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 28ہزار لیویز اور خاصہ دار کو خیبر پختونخوا پولیس میں ضم کردیا گیا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ قبائلی افراد اپنے علاقے کے مسائل اور روایات سے واقف ہیں کیونکہ قبائلی علاقوں کی اپنی تاریخ اور ثقافت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فاٹا کے سیکریٹریٹ بھی ختم کردیا گیا کیونکہ طاقت کے دو مرکز نہیں ہو سکتے اور صوبائی حکومت کے اختیار کو قبائلی علاقوں میں بھی توسیع دے دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں بہت پسماندہ ہیں اور انہیں باقی صوبوں کے برابر لانے کے لیے ایک تاریخ کا سب سے بڑا 100ارب کا پیکج دیا گیا جو اگلے 10سالوں تک چلے گا جس سے اسکول، کالجز اور ہسپتال بنائے جا سکیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں کے لیے جو فنڈ مختص کیے گیا تھا اس میں یہ طے ہوا تھا کہ تمام صوبے تین فیصد حصہ دیں گے لیکن بدقسمتی سے ابھی تک حکومت سندھ نے یہ وعدہ پورا نہیں کیا۔
اس دوران انہوں نے پریزنٹیشن کے ذریعے حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے چند اہم اقدامات کی بھی نشاندہی کرتے ہوئے اس کی تفصیل بیان کی۔ ان کا کہنا تھا کہ صحت انصاف وہاں کے عوام کے لیے بہت بڑی سہولت ہے کیونکہ وہاں غربت بہت زیادہ ہے اور اسی لیے وہاں صحت انصاف کارڈ متعارف کرایا گیا جو ہماری حکومت کا فلیگ شپ منصوبہ ہے کیونکہ اس کی بدولت لوگ اپنی استطاعت سے قطع نظر باآسانی علاج کی سہولت حاصل کر سکتے ہیں۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ اس کے علاوہ افغانستان کے ساتھ سرحدی تجارت کی بحالی، سڑکوں کی تعمیر اور بندوبستی علاقوں تک صوبائی شاہراہ سے منسلک کرنا، طورخم سرحد کو تجارت کے لیے 24گھنٹے کھلا رکھنا، کیڈٹ کالج کی منظوری، قبائلی اضلاع میں ٹی ایم اوز کا قیام اور ریسکیو 11 قیام جیسے اقدامات بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کان کنی اور معدنیات قبائلی علاقوں میں ایک متنازع معاملہ رہا ہے، ہمارے ملک کو کئی ایسی نعمتوں سے نوازا گیا ہے جس سے ہم استفادہ نہیں کر سکے، کچھ میں قانونی دشواریاں ہیں اور کچھ میں رٹ کا نہ ہونا جیسے مسائل شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے مائننگ ایکٹ نافذ کیا ہے اور اس میں سارے طریقہ کار موجود ہے اور مقامی لوگوں کی مشاورت سے تیار ہونے کی وجہ سے یہ قابل عمل بھی ہے۔ شبلی فراز نے کہا کہ وزیر اعظم کی سوچ ہے کہ ان قبائلی علاقوں کو ملک کے دیگر علاقوں کی طرح برابری کی سطح پر لانا ہے۔ قبائلی علاقوں میں چھاؤنیوں کے قیام کے حوالے سے سوال کے جواب میں شبلی فراز نے کہا کہ سرحدی علاقوں کے فوائد کے ساتھ ساتھ نقصانات بھی ہوتے ہیں، ہماری سرحد افغانستان سے منسلک ہے اس لیے ہم نے قومی سلامتی کو بھی مدنظر رکھنا ہے جبکہ ہمارا ملک دہشت گردی کا شکار رہا ہے جبکہ اسمگلنگ کے ناسور جیسی چیزوں کو بھی دیکھنا ہو گا۔
امن و امان کی خراب صورتحال کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنا 80فیصد سفر طے کر لیا ہے لیکن اب بھی اکا دکا واقعات پیش آتے رہتے ہیں، ہمارے فرد کی جان اہمیت کی حامل ہے، ہمارا ہدف یہی ہے کہ بہترین صورتحال ہو اور جو کسر رہ گئی ہے یہ بھی پوری ہو جائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button