قتل کیس: لیگی رہنما ناصر بٹ کو اشتہاری قرار دینے کے لیے کارروائی کا آغاز

راولپنڈی کی ایک مقامی عدالت نے پاکستان مسلم لیگ (ن) برطانیہ چیپٹر کے سینئر نائب صدر ناصر بٹ کو تقریباً 25 سال پرانے تہرے قتل کیس میں اشتہاری مجرم قرار دینے کےلیے کارروائی کا آغاز کردیا اور گرفتاری کےلیے ان کے دائمی وارنٹ جاری کردیے۔
ناصر بٹ جج ویڈیو کیس میں بھی مرکزی کردار ہیں جو احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کے اعتراف سے متعلق ہے کہ انہوں نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو دباؤ میں آکر سزا سنائی۔
راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اسرار الحق ملک کی شکایت پر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شاہد ضمیر نے وارنٹ جاری کرتے ہوئے ناصر بٹ کو مفرور مجرم قرار دینے کی کارروائی شروع کردی۔ اسرار الحق ملک نے اپنی شکایت میں کہا تھا کہ 15 اکتوبر 1996 کو ناصر بٹ نے راولپنڈی کے چاندنی چوک کے قریب ان کے بھائیوں اکرام الحق، نورالحق اور ان کے ملازم گلفراز عباسی کا قتل کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ملزم قتل کے بعد جائے وقوعہ سے فرار ہوگیا تھا اور بعد میں بیرون ملک فرار ہوگیا۔ مذکورہ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ ناصر بٹ کے خلاف کارروائی کرے۔
واضح رہے کہ درخواست گزار نے ناصر بٹ کے خلاف تقریباً 25 سال کے بعد ایک ایسے وقت میں درخواست دی جب اسلام آباد ہائی کورٹ نے حال ہی میں جج ویڈیو کیس کے اصل ملزم کو ضمانت پر رہا کیا تھا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے 2002 میں سابق احتساب عدالت کے جج کی فلم بندی کرنے والے طارق محمود کو رہا کیا تھا۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ اور سینئر جج قاضی جسٹس عامر فاروق پر مشتمل اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے طارق محمود کی جانب سے فلمائے جانے اور بلیک میل کرنے کے پر جج کی 19 سالہ خاموشی پر بھی سوالات اٹھائے۔ ناصر بٹ جج ویڈیو کیس میں ایک ملزم ہیں جنہوں نے احتساب عدالت کے سابق جج کی فلم بندی کی تھی۔
جج ارشد ملک نے العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کو مجرم قرار دیتے ہوئے انہیں آٹھ سال قید کی سزا سنائی ہے۔ اس سزا کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے ایک پریس کانفرنس کے دوران ایک ویڈیو جاری کی جس میں سابق جج ارشد ملک نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں دباو کے تحت ان کی مبینہ غیر اخلاقی ویڈیو کی وجہ سے سزا سنائی ہے۔ ایک بیان حلفی کے ذریعے جج نے ان الزامات کو مسترد کردیاتھا، حلف نامے میں سابق جج ارشد ملک نے ناصر بٹ پر ویڈیو کے انکشاف کے حوالے سے دھمکی دینے کا الزام عائد کیا تھا۔
مسلم لیگ (ن) کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ناصر بٹ جج کی رہائش گاہ پر ان کے ساتھ بیٹھے تھے اور دونوں العزیزیہ ریفرنس پر تبادلہ خیال کر رہے تھے۔ ابتدائی طور پر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم سرکل نے اس معاملے کی تحقیقات کی اور تین ملزمان ناصر جنجوعہ، خرم یوسف اور مہر غلام جیلانی کو گرفتار کیا۔ ابتدائی تحقیقات کے بعد ایف آئی اے نے انہیں الزام سے بری کردیا تھا۔
تاہم سابق جج ارشد ملک کی شکایت پر ایف آئی اے نے تفتیش کاؤنٹر ٹیررازم ونگ (سی ٹی ڈبلیو) کو منتقل کردی۔
سی ٹی ڈبلیو نے فیصل شاہین کو گرفتار کیا جس نے سابق جج ارشد ملک اور ناصر بٹ کے درمیان ملاقات کی فلم بندی کی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button