قدوس بزنجو کے بعد رند بھی وزارت اعلی کے امیدوار بن گئے

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کو استعفیٰ دینے پر مجبور کرنے والے سابق اسپیکر عبدالقدوس بزنجو باپ پارٹی کی جانب سے وزارت اعلیٰ کے امیدوار تو بن گئے ہیں لیکن تحریک انصاف کے یار محمد رند بھی وطن واپس پہنچ کر اس عہدے کے لیے میدان میں اتر آئے ہیں۔
یاد رہے کہ 25 اکتوبر کے روز کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے طویل مشاورت کے بعد بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنماؤں نے سپیکر میر عبدالقدوس بزنجو کو بلوچستان اسمبلی میں قائد ایوان اور میر جان محمد خان جمالی کو بلوچستان اسمبلی کا اسپیکر نامزد کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ اس سے پہلے عبدالقدوس بزنجو نے اسمبلی اجلاس کے بعد گورنر بلوچدتان کو اسپیکر اسمبلی کے عہدے سے اپنا استعفیٰ پیش کیا تھا۔ بی اے پی کے بانی سینیٹر سعید احمد ہاشمی کی رہائش گاہ پر ہونے والے اجلاس میں پارٹی کے قائم مقام صدر میر ظہور احمد بلیدی، عبدالقدوس بزنجو، سردار محمد صالح بھوتانی، جان محمد خان جمالی اور دیگر اراکین نے شرکت کی اور اتحادیوں کے تعاون سے نئی حکومت کی تشکیل پر تبادلہ خیال کیا۔
باپ پارٹی کے اجلاس میں طویل بات چیت اور مشاورت کے بعد قائد ایوان کے عہدے کے لیے عبدالقدوس بزنجو کے نام پر اتفاق کیا گیا۔ اجلاس میں اسپیکر بلوچستان اسمبلی کے عہدے کے لیے جان محمد خان جمالی کے نام کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ قائد ایوان اور اسپیکر کے انتخاب کے بعد نئی کابینہ کے لیے ناموں کا فیصلہ اتحادی جماعتوں کی مشاورت سے کیا جائے گا جو مخلوط حکومت کا حصہ ہوں گی۔
دوسری جانب بی اے پی رہنماؤں نے عبدالقدوس بزنجو کی نامزدگی پر پارٹی میں اختلافات کی قیاس آرائیوں کو مسترد کیا ہے۔ ایک سینئر پارٹی رہنما نے دعویٰ کیا کہ ’ہم صوبے میں ایک مثالی حکومت بنائیں گے، ہمارے وفود پہلے ہی پی ٹی آئی، اے این پی اور ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے نمائندوں سے مل چکے ہیں، ہم انہیں دعوت دیں گے کہ وہ آئیں اور صوبے میں ایک نئی طرز حکومت متعارف کرانے میں حصہ ڈالیں جس میں تمام اراکین اسمبلی، صوبے کی فلاح و بہبود کے لیے کام کریں گے، عوام کی تکالیف اور صحت، تعلیم اور دیگر مسائل کا حل نکالیں گے‘۔
تاہم دوسری جانب تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس سردار یار محمد رند کی صدارت میں ہوا جس میں انہیں وزارت اعلی کا امیدوار بنانے کا فیصلہ ہوا۔ یاد رہے کہ سردار یار محمد رند چند روز پہلے تک امریکا میں تھے، اور اب اپنا دورہ مختصر کرکے کوئٹہ پہنچ چکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق لی ٹی آئی کے اجلاس میں صوبے کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ پی ٹی آئی، قائد ایوان اور اسپیکر کے عہدے کے لیے بھی اپنے علیحدہ امیدوار کھڑے کرے گی۔
اجلاس میں قائد ایوان کی نشست کے لیے یار محمد رند اور اسپیکر کے عہدے کے لیے ڈپٹی اسپیکر سردار بابر خان موسیٰ خیل کے نام کا فیصلہ کیا گیا۔ اسکے علاوہ نعمت اللہ زہری اور میر عمر خان جمالی پر مشتمل دو رکنی کمیٹی قائم کر دی گئی جو اتحادی جماعتوں سے مدد لینے کے لیے رابطہ کرے گی۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے بی اے پی کے ناراض گروپ کے ارکان نے جام کمال علیانی کے استعفیٰ کے تناظر میں ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس لے لی تھی۔ قدوس بزنجو نے ایوان کو بتایا کہ اس تحریک پر کوئی ووٹنگ نہیں ہوگی کیونکہ جام کمال علیانی نے استعفیٰ دے دیا ہے اور انکے استعفے کی منظوری کا نوٹی فکیشن گورنر ہاوس کی جانب سے پہلے ہی جاری کیا جا چکا ہے۔ 20 اکتوبر کو تحریک عدم اعتماد پیش کرنے والے سردار عبدالرحمٰن کھیتران نے تحریک واپس لینے کی اجازت مانگی جس پر ارکان نے انہیں تحریک واپس لینے کی اجازت دے دی۔ یاد رہے کہ جام کمال علیانی کی کابینہ کے جو ارکان اور ایم پی ایز ان کی حمایت کر رہے تھے، وہ 25 اکتوبر کو اسمبلی کے اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عبدالقدوس بزنجو باآسانی بلوچستان کے وزیر اعلیٰ منتخب ہو جاتے ہیں یا انہیں تحریک انصاف کے یار محمد رند کی جانب سے کسی چیلنج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
