قرضوں پرسودکی ادائیگی اوردفاع پر3.2 ٹریلین روپے خرچ

پاکستان نے 2.5 ٹریلین روپے کی آمدنی کے مقابلے میں صرف قرضوں پر سود کی ادائیگی اور دفاع پر 3.2 ٹریلین روپے خرچ کردیے۔
باخبر ذرائع کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران قرضوں پر واجب الادا سود کے اخراجات2.57 ٹریلین روپے تک بڑھ گئے، جو کہ قرضوں کی ادائیگی کے سالانہ بجٹ کے 65 فیصد کے برابر ہے، جس نے حکومت کو ماسوائے دفاع کے دیگر اخراجات میں نمایاں کمی کرنے پر مجبور کردیا، رواں مالی سال میں جولائی تا دسمبر وفاقی حکومت کے قرضوں پر سود کے بوجھ میں 77 فیصد کا خطرناک اضافہ ہوا ہے۔ تازہ تفصیلات سے پتہ چلتا ہے کہ اس نازک صورتحال کی وجہ سے دفاع کے سوا دیگر تمام غیرترقیاتی اخراجات میں مجموعی طور پر 15 فیصد کمی کی گئی ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق دیگر اخراجات کے لیے گنجائش پیدا کرنے کی خاطر ترقیاتی اخراجات 50 فیصد گھٹائے گئے ہیں، وزارت خزانہ نے سود کی مد میں تقریباً 2.57 ٹریلین روپے ادا کیے، جو کہ 1.1 ٹریلین روپے یا 77 فیصد زیادہ ہیں۔ رواں مالی سال کے لیے حکومت نے سود کی ادائیگی کے لیے 3.95 ٹریلین روپے کا بجٹ رکھا تھا لیکن اب اس کا 65 فیصد صرف چھ ماہ میں استعمال ہو گیا ہے۔
وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اس ماہ کے اوائل میں کہا تھا کہ رواں مالی سال میں قرض کی ادائیگی کا حجم تقریباً 5 ٹریلین روپے تک بڑھ سکتا ہے جو اس سال کے 9.6 ٹریلین روپے کے کل بجٹ کے نصف سے زائد ہوگا۔
باخبر ذرائع نے بتایا کہ ریٹائرڈ فوجیوں کی پنشن اور مسلح افواج کے ترقیاتی پروگرام کے اخراجات کو چھوڑ کر گزشتہ 6 ماہ کے دوران دفاع پر 638 ارب روپے خرچ کیے گئے۔ یہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 118 ارب روپے یا تقریباً 23 فیصد زیادہ ہے۔ سالانہ دفاعی بجٹ 1.563 ٹریلین روپے ہے،قرض کی ادائیگی اور دفاع پر مجموعی اخراجات میں 3.2 ٹریلین روپے سے زیادہ کا اضافہ ہوا، جو وفاقی حکومت کی خالص آمدنی کے 128 فیصد کے برابر ہے۔
ذرائع کا کہنا تھا یہ ایک سنگین مسئلہ ہے کیونکہ ان دو سب سے بڑی مدوں میں ہونے والے اخراجات خالص وفاقی آمدنی سے 708 ارب روپے زیادہ ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان قرضوں کے جال میں ہی پھنسا رہے گا کیونکہ ٹیکس وصولی میں اضافے کے باوجود اخراجات میں کوئی کمی نہیں کی گئی،قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے تحت صوبوں کو ادائیگی کے بعد وفاقی حکومت کی خالص آمدنی 2.5 ٹریلین روپے تھی۔رواں مالی سال جولائی تا دسمبر کل اخراجات کا 69% صرف قرضوں پر سود کی ادائیگی اور دفاع کی مد میں خرچ ہوا، جس کے نتیجے میں عوام کی فلاح و بہبود اور ملکی ترقی پر خرچ کرنے کے لیے بہت کم فنڈز حکومت کے پاس بچے۔
باخبر ذرائع کے مطابق اعدادوشمار کے مطابق قرضوں کی ادائیگی اور دفاع پر 3200ارب روپے کے خطیر اخراجات کے مقابلے میں ترقیاتی کاموں پر صرف 147 ارب روپے خرچ ہوئے۔ ترقیاتی اخراجات پچھلے مالی سال کے مقابلے میں 141 ارب روپے یا 49 فیصد کم رہے۔
