قومی اسمبلی میں فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کے حوالے سے قرارداد پیش

حکومت اور کالعدم تحریکِ لبیک پاکستان کے درمیان ‘کامیاب مذاکرات’ کے بعد قومی اسمبلی میں ایک قرارداد منظور کی گئی ہے جس میں فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے معاملے پر بحث کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
حکومتی ارکان کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ ن اور جمیعت علمائے اسلام ف کے ارکانِ اسمبلی نے اس اجلاس میں شرکت کی ہے تاہم حزبِ اختلاف کی بڑی جماعت پیپلز پارٹی نے اجلاس میں شرکت نہیں کی ہے اور جماعت کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ یہ وزیراعظم عمران خان کا اپنا پھیلایا ہوا گند ہے جسے انہیں خود ہی صاف کرنا ہو گا۔ اجلاس کے آغاز پر تحریکِ انصاف کے رکن اسمبلی امجد علی خان نے قرارداد پیش کی جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ فرانسیسی سفیر کو ملک سے نکالنے کے مسئلے پر بحث کی جائے اور یورپی ممالک خصوصاً فرانس کو پیغمبرِ اسلام حضرت محمد ﷺ کے گستاخانہ خاکوں کے معاملے کی سنگینی سے آگاہ کیا جائے۔ قرارداد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی معاملات حکومت کو طے کرنے چاہییں اور کوئی فرد گروہ یا جماعت حکومت پر اس حوالے سے دباؤ نہیں ڈال سکتا۔ مذکورہ قرارداد میں اس معاملے پر اسپیکر سے خصوصی کمیٹی بنانے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ تحریکِ لبیک اور حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کے درمیان پیر کی شب اس بات پر اتفاق رائے ہوا تھا کہ منگل کو پاکستان کی پارلیمان میں فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے حوالے سے قرارداد پیش کی جائے گی اور گزشتہ دنوں کے دوران پرتشدد جھڑپوں کے بعد تحریکِ لبیک کے گرفتار کیے گئے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف درج مقدمات ختم کر کے انہیں رہا کر دیا جائے گا۔ قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل پاکستان تحریکِ انصاف کے علاوہ حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ کی پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس بھی منعقد ہوئے ہیں تاہم پیپلز پارٹی کے رہنما مصطفیٰ نواز کھوکھر نے تصدیق کی ہے کہ ان کی جماعت کے اراکینِ اسمبلی اس اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔ وفاقی وزیر شبلی فراز نے پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تحریکِ لبیک کے مطالبے سے ملک کو فائدہ ہوتا تو مان لیے جاتے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی اس سلسلے میں ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ تحریکِ لبیک سے کیا گیا معاہدہ پارلیمان میں نہیں لایا گیا اور نہ ہی وزیراعظم نے اس معاملے میں کسی بھی مرحلے پر پارلیمان کو اعتماد میں لیا اور اب پاکستان تحریکِ انصاف قومی اسمبلی کے پیچھے چھپنا چاہتی ہے۔ انہوں نے وزیراعظم کو مخاطب کرکے کہا کہ یہ آپ کا پھیلایا ہوا گند ہے، اسے صاف کریں یا گھر جائیں۔
نبی مکرم حضرت محمد ﷺ کے گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر فرانسیسی سفیر کو 20 اپریل تک ملک بدر نہ کیے جانے کی صورت میں اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی دھمکی دینے والے تحریکِ لبیک کے امیر سعد رضوی کو گزشتہ ہفتے لاہور میں پولیس نے حراست میں لیا تھا اور منگل کی دوپہر سے پاکستانی ذرائع ابلاغ میں سعد رضوی کی رہائی کی خبریں گردش کر رہی ہیں تاہم پولیس حکام نے بتایا ہے کہ ان کی رہائی فی الحال عمل میں نہیں آئی ہے۔ سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد تحریکِ لبیک کی جانب سے ملک کے متعدد شہروں میں پرتشدد احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ اس احتجاج کے دوران کم از کم چار پولیس اہلکار شہید جب کہ سینکڑوں اہلکار اور کارکن زخمی ہوئے تھے۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے قوم سے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ فرانس کے سفیر کو ملک سے نکال دینا مسئلے کا حل نہیں کیوں کہ مغرب اس معاملے کو اظہارِ رائے کی آزادی سے جوڑتا ہے۔ تاہم چند ہی گھنٹے بعد وزیرِ داخلہ نے مذاکرات کے بعد فرانسیسی سفیر کو ملک سے نکالنے کی قرارداد قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے کا اعلان کیا۔ وزیر داخلہ کی جانب سے یہ اعلان ملک بھر میں گزشتہ چھ روز سے جاری کالعدم تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایک پی) کے مظاہرے ختم کروانے کےلیے ہونے والے حکومتی مذاکرات کے بعد منگل کی صبح ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے کیا گیا۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں تحریکِ لبیک نے لاہور میں اپنے مرکز سمیت ملک بھر میں جاری احتجاجی دھرنے اور مظاہرے ختم کرنے کی حامی بھری تھی۔ فریقین کے درمیان بات چیت کا عمل گزشتہ ہفتے شروع ہوا تھا۔ پہلے دور میں اتوار کے روز لاہور میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے بعد یرغمال بنائے گئے پولیس اہلکاروں کی بازیابی کے حوالے سے اتفاق ہوا جبکہ دوسرے اور تیسرے دور کے بعد شیخ رشید کا یہ بیان سامنے آیا کہ تحریکِ لبیک کی جانب سے مظاہرے ختم کرنے کی بات کی گئی ہے۔ یاد رہے کہ شیخ رشید نے منگل کو سحری کے وقت جاری ہونے والے ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد یہ بات طے پا گئی ہے کہ آج قومی اسمبلی میں فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کی قرارداد پیش کریں گے اور تحریک لبیک مسجد رحمت اللعٰلمین سمیت سارے ملک سے دھرنے ختم کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بات چیت اور مذاکرات کا سلسلہ آگے بڑھایا جائے گا اور جن لوگوں کےخلاف شیڈول فورتھ سمیت مقدمات درج ہیں، ان کا اخراج کیا جائے گا۔ اس سے قبل تحریکِ لبیک کی مرکزی شوریٰ کے رکن اور جماعت کی طرف سے حکومت سے مذاکرات کرنے والے ڈاکٹر محمد شفیق امینی نے پیر کی رات اپنے ایک آڈیو پیغام میں ملک بھر میں اپنے پیروکاروں سے احتجاج ختم کرنے کی اپیل کی تھی اور کہا تھا کہ صرف لاہور میں ان کے مرکز رحمت العٰلمین میں پر امن احتجاج جاری رہے گا۔ فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے مطالبے پر احتجاج کے معاملے پر پیر کو پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے سے فرانس کو کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن اس اقدام سے پاکستان متاثر ہوگا۔ عمران خان نے کہا کہ 50 مسلمان ملک ہیں کوئی بھی یہ نہیں کہہ رہا کہ فرانس کے سفیر کو واپس بھجوائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف پاکستان کے بائیکاٹ سے مغرب کو کوئی فرق نہیں پڑے گا، تمام مسلم ممالک کو اس پر بات پر اتفاق کرنا ہوگا کہ مغرب کو یہ متفقہ پیغام دیں کہ اگر کسی بھی ملک میں اس طرح کی گستاخی کی گئی تو ہم سب اس سے تجارتی تعلقات منقطع کریں گے، تب جا کر انہیں احساس ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ انہیں افسوس ہے کہ ملک میں چند عناصر پاکستانیوں کی نبی مکرم ﷺ کےلیے عقیدت اور محبت کا غلط استعمال کرکے اپنے ہی ملک میں فساد پھیلا رہے ہیں۔ وزیراعظم نے ملکی صورت حال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تحریک لبیک پاکستان کا اور ان کی حکومت کا یکساں مقصد ہے کہ ’نبی ﷺ کی شان میں گستاخی نہ ہو‘ تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ طریقہ کار کا فرق ہے۔ تحریکِ لبیک کی جانب سے سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد گزشتہ ہفتے شروع ہونے والے مظاہروں میں پولیس اور شہری تنصیبات اور املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے پیر کو اپنے خطاب میں بتایا کہ اب تک ملک میں پولیس کی 40 گاڑیوں کو نذر آتش کیا جا چکا ہے جب کہ چار پولیس اہلکار شہید اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔ انہی مظاہروں کے بعد جمعرات کو حکومت نے تحریکِ لبیک پر پابندی کا اعلان کیا اور اگلے دن اسے کالعدم قرار دے دیا گیا۔ پھر اتوار کو لاہور میں پولیس کے مطابق تحریکِ لبیک پاکستان کے کارکنوں نے ایک ڈی ایس پی سمیت متعدد اہلکاروں کو اغوا کر لیا تھا جس کے بعد مظاہرین اور پولیس کے مابین پھر جھڑپیں ہوئیں۔ یہ تصادم ملتان روڈ پر واقع یتیم خانہ چوک میں کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے مرکز کے قریب ہوا۔ ان پرتشدد جھڑپوں میں کم از کم 15 پولیس اہلکار اور متعدد کارکن زخمی ہوئے جب کہ تحریکِ لبیک کی جانب سے کم از کم دو افراد کی انتقال کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے تاہم اس دعوے کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔ یاد رہے کہ اس سے قبل حکومت نے 16 نومبر 2020 کو اسلام آباد میں فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے مطالبے کے ساتھ دھرنا دینے والی تحریک لبیک پاکستان کے سابق سربراہ خادم حسین رضوی سے چار نکات پر معاہدہ کیا تھا جن کے تحت حکومت کو دو سے تین ماہ کے اندر پارلیمان سے قانون سازی کے بعد فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنا تھا۔ اس معاہدے پر عمل نہ ہونے کے بعد فروری 2021 میں مذکورہ جماعت اور حکومت کے درمیان ایک اور معاہدہ ہوا جس کے تحت حکومت کو 20 اپریل تک فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے وعدے پر عمل کرنے کی مہلت دی گئی تھی۔ اس کے بعد تنظیم نے 20 اپریل تک فرانس کے سفیر کی ملک بدری نہ ہونے کی صورت میں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم 12 اپریل کو احتجاج کا حالیہ سلسلہ تنظیم کے سربراہ سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد شروع ہوا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button