لانگ مارچ پر کپتان حکومت کو مکافات عمل کا سامنا ہے

معروف صحافی اور تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ آج تحریک انصاف حکومت کو تحریک لبیک کے اسلام آباد مارچ کی صورت میں جس چیلنج کا سامنا ہے یہ دراصل مکافات عمل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں 2018 میں نون لیگ حکومت کا شدید ترین ناقد ہونے کے باوجود تحریک لبیک کا مذہبی کارڈ استعمال کرنے کا مخالف تھا کیونکہ میں اللہ اور اس کے رسول کے نام کو ذاتی اور سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنا گناہ عظیم سمجھتا ہوں۔ یہ وہ وقت تھا جب عمران خان، شیخ رشید، ابرارالحق، شہریار آفریدی اور اسیطرح کے دیگر لوگ تحریک لبیک کے دھرنے کو انکا آئینی اور قانونی حق گردانتے ہوئے اسکا لیگی حکومت کے خلاف مذہب کارڈ کے طور پر دفاع کر رہے تھے۔ آج مکافات عمل کے قانون کے تحت پی ٹی آئی حکومت کو اسی صورت حال کا سامنا ہے جس کا نون لیگ کو سامنا تھا لیکن نون لیگ کی بدقسمتی یہ تھی کہ تب ریاستی ادارے ان کا اور پولیس کا ساتھ دینے کی بجائے الٹ سمت میں جارہے تھے جبکہ پی ٹی آئی کی خوش قسمتی ہے کہ اس کے ساتھ ریاستی ادارے آج بھی بھر پور تعاون کررہے ہیں۔ تاہم صافی کہتے ہیں کہ میرا جو موقف تحریک لبیک کے دھرنے کے بارے میں نون لیگ کے دور حکومت میں تھا، وہی پی ٹی آئی کے دور میں بھی ہے۔ یعنی کہ اللہ اور اس کے رسول کا پاک نام سیاسی مقاصد کے لئے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سلیم صافی کہتے ہیں کہ اگرچہ نون لیگ کی حکومت نے عمران خان کی طرح ٹی ایل پی کے ساتھ تحریری معاہدے کرکے اس کی خلاف ورزی نہیں کی تھی لیکن میں کل بھی رحمت العالمین ﷺ کے نام پر ان کی امت کو تکلیف دینے اور قانون ہاتھ میں لینے کو ناجائز سمجھتا تھا ، اور آج بھی ناجائز سمجھتا ہوں۔ اس تناظر میں میری اپوزیشن جماعتوں بالخصوص جے یو آئی، جے یو پی، جماعت اسلامی، مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی سے اپیل ہے کہ وہ پی ٹی آئی کی سنت کو تازہ کرتے ہوئے اس موقع کو حکومت کے خلاف استعمال کرنے کی بجائے اس سے تعاون کریں۔ تمام دینی اور سیاسی شخصیات کا فرض بنتا ہے کہ وہ تیل چھڑکنے کی بجائے آگ کو ٹھنڈا کرنے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں۔ بقول صافی عمران خان اور ان کے سرپرستوں اور ہمنوائوں نے جو کیا ہے، اس کا کچھ صلہ ان کو مل گیا اور باقی مل جائے گا۔ لیخن ہم سب کا فرض ہے کہ اس مسئلے کو حل کرنے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں کیونکہ تحریک لیبک کے کارکن بھی مسلمان اور پاکستانی ہیں جبکہ پولیس اور رینجرز والے بھی نبی ﷺ کے عاشق اور پاکستانی ہیں۔ان کا ٹی ایل پی سے معاہدے میں کوئی کردار تھا اور نہ خلاف ورزی میں۔ یہ سب اپنے نبیﷺ سے اسی طرح محبت کرنے والے ہیں جس طرح ٹی ایل پی کے کارکن ہیں۔
اپنے ماضی کے ایک کالم کا حوالہ دیتے ہوئے سلیم صافی بتاتے ہیں کہ میں نے نواز شریف دور میں 2018 میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ختم نبوت ﷺ کے قانون کو متنازع بنانے والی حرکت تب کے وزیر قانون زاہد حامد سے سہوا ہوئی ہو گی اور مجھے یقین ہے کہ جو کچھ ہوا وہ سازش نہیں تھی۔ ممبران پارلیمنٹ کے حلف نامے میں تبدیلی کی جو غیرضروری حماقت کی گئی، اس کے اگر ذمہ دار ہیں بھی تو حکمران ہیں یا پھر ان کے اتحادی۔ لہازا اب جب یہ قانون واپس لے لیا گیا ہے تو لبیک والوں کو دھرنا ختم کر دینا چاہئیے کیونکہ اس معاملے میں اس مزدور کا تو ہرگز کوئی قصور نہیں جو روزانہ بچوں کا پیٹ پالنے کی خاطر اسلام آباد دیہاڑی لگانے جاتا ہے اور رستہ بند ہونے کی وجہ سے مزدوری نہیں کر پا رہا۔
اپنے ماضی کے کالم کا حوالہ دیتے ہوئے سلیم صافی کہتے ہیں کہ میں نے مزید لکھا تھا کہ کیا فیض آباد اوراس کے گردونواح کے علاقوں میں رہنے والے لاکھوں پاکستانی اس رحمۃللعالمین ﷺ کے امتی نہیں کہ جس کے نام کی آڑ لے کر ایک ہفتے سے ان سب کو گھروں میں محصور کردیا گیا ہے اور کیا روز قیامت ان لوگوں کے ہاتھ، حکمرانوں کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کے گریبانوں میں نہیں ہوں گے کہ جنہوں نے دھرنے کے ذریعے ان کا جینا دوبھر کردیا۔ سلیم صافی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آج بھی صورتحال 2018 جیسی ہی بنی ہوئی یے لیکن افسوس کہ تحریک لبیک والے لانگ مارچ ختم کرنے پر آمادہ نہیں حالانکہ اس سے لاکھوں لوگوں کی زندگیاں متاثر ہورہی ہیں۔ تاہم موجودہ صورت حال تحریک انصاف حکومت کے لیے بھی ایک مکافات عمل سے کم نہیں۔
