لاہور کےضمنی الیکشن میں PTI نے TLP کی حمایت کیوں کی؟


معروف استاد اور تجزیہ کار ڈاکٹر پرویز ہود بھائی نے کہا ہے کہ تحریکِ لبیک کو مرکزی دھارے کی سیاست میں لانے کے نام پر بحال کرنے کا ایک بڑا مقصد اسے اگلے الیکشن میں تحریکِ انصاف کا اتحادی بنانا بھی ہو سکتا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی بریلوی مکتبہ فکر رکھنے والی تحریکِ لبیک کے ساتھ نظریاتی ہم آہنگی کی وجہ سے ایسا ہونا بالکل ممکن ہے۔
دوسری جانب یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تحریک انصاف اور تحریک لبیک نے عملی طور پر مل کر الیکشن لڑنے کی ابتدا کر دی یے اور پہلے مرحلے میں لاہور میں ہونے والے قومی اسمبلی کے حلقہ 133 میں تحریک انصاف نے تحریک لبیک کے امیدوار کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ سیٹ نون لیگی ایم این اے پرویز ملک کی اچانک وفات سے خالی ہوئی تھی جس کے بعد جمشید اقبال چیمہ کو تحریک انصاف کا امیدوار بنایا گیا تھا لیکن ان کے کاغذات نامزدگی مسترد ہو گئے جس کے بعد اب پی ٹی آئی تحریک لبیک کے امیدوار مطلوب احمد کی حمایت کر رہی ہے۔ پی ٹی آئی والوں کا کہنا ہے کہ اس حلقے سے ان کے اپنے امیدوار کی نااہلی کے بعد ہی ٹی آئی کے ووٹ ضائع کرنے سے بہتر تھا کہ کسی کی حمایت کی جاتی لہٰذا ہم نہ تو نون لیگ اور نہ ہی پیپلز پارٹی کا ساتھ دے سکتے تھے اس لیے لبیک کے امیدوار کی حمایت کا فیصلہ کیا گیا جو کہ نظریاتی طور پر بھی تحریک انصاف کے قریب ہے۔
اس حوالے سے ڈاکٹر پرویز ہود بھائی یاد دلاتے ہیں کہ اپریل 2021 میں عمران خان نے کہا تھا کہ TLP اور ہمارے مقاصد ایک ہی ہیں لیکن صرف طریقہ کار مختلف ہے۔ یسد رہے کہ دراصل تحریکِ لبیک اور تحریکِ طالبان دونوں پاکستان میں شریعت کا نظام نافذ کرنا چاہتی ہیں لیکن دونوں کا تصورِ نظامِ شریعت مختلف ہے۔ اب ان میں سے کون غالب آئے گا اس کا فیصلہ محض طاقت کے استعمال اور خانہ جنگی سے ہی ہو سکتا ہے۔ پرویز ہود بھائی کے مطابق تحریک انصاف حکومت کا کہنا ہے کہ وہ تحریکِ لبیک کے خلاف حالیہ مظاہروں کے دوران طاقت کا استعمال کرنا چاہتی تھی لیکن پاکستانی فوج نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔ یہ درست ہے یا نہیں، وثوق سے نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن یہ مکمل یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ پنجاب بھر میں بہت سی املاک کو نقصان پہنچا اور بہت سا خون بہا، کم از کم 8 قتل ہونے والے پولیس اہلکاروں کا تو ہمیں پتہ ہی ہے۔ دنگے، فساد اور قتل کے الزامات میں آٹھ ہزار TLP کارکنان گرفتار ہوئے لیکن بعد میں ہونے والے معاہدے کی رو سے ان کے خلاف مقدمات کو خارج کر دیا جائے گا۔ یوں پنجاب پولیس کی رٹ ختم ہو چکی اور اسکا اعتماد ہل کر رہ گیا ہے۔
پرویز ہود بھائی کہتے ہیں کہ ریاست پاکستان کا یہ عمل متشدد سوچ کے حامل شدت پسندوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے مترادف تھا۔ لیکن یہ عمل تحریکِ لبیک کو مرکزی دھارے کی سیاست میں لانے اور تحریکِ انصاف کا اتحادی بنانے کے لئے انتہائی مہارت سے چلی گئی ایک چال بھی ہو سکتا ہے۔ بقول ہود بھائی، تحریکِ لبیک کے لئے اپنی پسندیدگی کو واضح کرنے کے لئے حال ہی میں وزیر اعظم نے ‘توہین کا توڑ کرنے والی’ رحمت اللعالمینؐ اتھارٹی بنانے کا اعلان کیا تھا۔ تو کیا یہ محض ایک اتفاق تھا کہ TLP کا احتجاج لاہور کی رحمت اللعالمینؐ مسجد سے ہوا جہاں پر تحریک لبیک کا ہیڈ کوارٹر بھی واقع ہے۔
دوسری جانب افغان طالبان نے تحریکِ طالبان پاکستان سے خود کو الگ کرنے سے صاف انکار کر دیا اور پھر وہ ریاست پاکستان اور TTP کے درمیان ایک امن معاہدہ کروانے میں کامیاب ہو گئے۔ اس سے اگلا قدم انکے مرکزی دھارے میں آنے کا بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے لئے وزیر اعظم ایک بار پھر فوج کو الزام دینے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ اس پر البتہ ان کی ساکھ کا مسئلہ سامنے آ سکتا ہے کیونکہ وہ کبھی طالبان کے مظالم کی مذمت نہیں کرتے۔ ستمبر 2013 میں جب TTP کے پاکستان کے عوام، پولیس اور افواج پر خودکش حملے عروج پر تھے، عمران خان بطور PTI لیڈر کے نواز حکومت سے مطالبہ کرتے رہے کہ ان کے ساتھ جنگ بندی کی جائے اور انہیں ملک میں دفاتر کھولنے کی اجازت دی جائے۔ تحریکِ طالبان نے شکرگزاری کا اظہار عمران کو اپنی طرف سے حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے والی کمیٹی کا حصہ بننے کے لئے نامزد کر کے کیا تھا۔ ان کے علاوہ اس کمیٹی میں مولانا سمیع الحق اور مولانا عبدالعزیز لال مسجد والے بھی شامل تھے۔ پھر چند ہفتوں بعد TTP نے ایک ویڈیو ریلیز کی جس میں انہیں 23 ایف سی اہلکاروں کے سروں کے ساتھ فٹبال کھیلتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔ دسمبر 2014 میں اے پی ایس پشاور کا سانحہ پیش آ گیا۔ لیک جب اس واقعے کے ایک ماہ بعد عمران خان اور ان کی نئی نویلی دلہن ریحام خان نے اس سکول کا دورہ کیا تو ان بچوں کے والدین نے ان کا استقبال ‘گو عمران گو’ کے نعروں سے کیا۔
پرویز ہود بھائی کہتے ہیں کہ اب حال یہ ہے کہ دہشتگرد گروہوں پر پابندیوں کی باتیں ہوا میں تحلیل ہو چکی ہیں۔ TLP اور TTP کے بھارتی ایجنٹ ہونے کے الزامات بھی دھو دیے گے ہیں۔ لیکن ان فیصلوں کے نقادوں کو وزیر اعظم عمران خان اور ان کے ہمنوا ‘خونی لبرل’ کہہ کر رد کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ اصطلاح جسے عمران خان 20 سال سے استعمال کرتے آ رہے ہیں، دراصل ان تنظیموں پر عائد ہوتی ہے جنکے لئے عام معافی کا اعلان ہو رہا ہے اور جن کے ساتھ امن کے معاہدے کیے جا رہے ہیں۔ جس طرح بھاعتی وزیر اعظم مودی بھارت کو مسلمانوں سے پاک کرنا چاہتے ہیں، عمران بھی پاکستان کو اسی طرح لبرلز کے گند سے پاک کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن اہم سوال یہ یے کہ یہ مخلوق ہے کون، کتنی تعداد میں ہے، کیا چاہتی ہے، ہمارے وزیر اعظم اس سے نفرت کیوں کرتے ہیں، اور پاکستان کے مستقبل پر لبرل ازم یا آزاد خیالی کی شکست سے کیا فرق پڑے گا؟
ہود بھائی کہتے ہیں کہ مجھے بھی لبرل گند کا ایک چھوٹا سا حصہ سمجھیے کیونکہ کوئی بھی شخص جو دہشت گردوں کی اس ریاستی آؤ بھگت سے نالاں ہے، وہ لبرل ہے۔ ہماری کل تعداد کتنی ہے؟ کچھ عرصہ قبل ایک مشہور عالم نے ان خونی لبرلز کی تعداد 300 بتائی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ باقی پاکستانی اچھے مسلمان ہیں۔ لیکن اس وقت جتنی تعداد میں لوگ ان فیصلوں کی مخالفت کر رہے ہیں، لگتا ہے تعداد کئی ہزار گنا زیادہ ہے۔ پہلے لبرل کی تعریف کرنا ہی خاصہ مشکل کام تھا، لیکن اب خونی لبرل کی نشاندہی کرنا اور بھی مشکل ہو گیا ہے۔ تاہم اگر وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستانی لبرلز شخصی آزادیوں اور تمام انسانوں، مرد اور عورت، کی برابری میں یقین رکھتے ہیں۔ یہ لوگ ایک دوسرے سے ہر وقت لڑتے رہتے ہیں لیکن تنوع، اجتماعیت اور ایک ایسی جمہوریت کو مقدم جانتے ہیں جہاں آئین کی حکمرانی ہو۔ ان میں سے کچھ بہت مذہبی ہوتے ہیں، کچھ اس پر اتنا زور نہیں دیتے۔ جس طرح مذہبی لوگوں میں بھی بہت سے لوگ منافق ہوتے ہیں، لبرلز میں بھی بہت سے برے لوگ ہوتے ہیں۔ لہذا یہ کہنا مشکل ہے کہ عمران خان پاکستان کی ہر برائی کی جڑ لبرلز کو کیوں قرار دیتے ہیں۔ ان لوگوں کی سیاسی نمائندگی سرے سے ہے ہی نہیں۔ ان کے ‘موم بتی مافیا’ کے ہاتھوں میں کوئی ڈنڈے، بم یا سب مشین گن بھی نہیں ہوتیں جن سے TLP کے کارکنان ناموس کی حفاظت کرتے ہیں۔ لبرل تو دہشتگردوں کے ہاتھوں قتل ہوئے افراد یا کسی ریپ کے شکار انسان کے لئے بھی اظہارِ یکجہتی کی خاطر بمشکل چند درجن افراد ہی جمع کر پاتے ہیں۔
پرویز ہودبھائی کہتے ہیں کہ سوال یہ ہے کہ پھر بھی عمران کو ان لبرلز سے شدید چڑ کیوں ہے۔ عمران یہ کہانی کئی بار سنا چکے ہیں۔ مغرب میں ان کے رنگین ماضی جس کے بارے میں وہ زیادہ تفصیل میں نہیں جاتے، کے دوران انہیں ایک ایسی چیز نے لبھا لیا تھا جسے وہ ‘لبرل ازم’ کا نام دیتے ہیں، لیکن بالآخر مذہب نے انہیں بچا لیا۔ اصل ان جیسے کیسز کافی عام ہیں۔ بہت سے نوجوان پاکستانی مغرب میں جا کر غلط کاریوں میں پڑ جاتے ہیں۔ لیکن جب عہ پاکستان واپس آتے ہیں تو انہیں بہت ملال ہوتا ہے اور پچھتاوے میں سخت رجعت پسند بن جاتے ہیں۔ لبرل ازم کے خلاف عمران خان کی جذباتیت میں ان کے سکول کا بھی کردار ہے جو لاہور کا ایک اعلیٰ طبقے کا ادارہ ہے اور ایچیسن کالج کہلاتا ہے جہاں بقول ان کے انہیں کبھی اقبال کی شاعری نہیں پڑھائی گئی۔ وہ اقبال کے شعر بھی نہیں پڑھ پاتے گو کہ وہ انہیں اپنا آئیڈیل قرار دیتے ہیں۔ افسوس کہ انہیں ایسا لگتا ہے کہ لبرل اقبال کو پڑھ اور سمجھ نہیں سکتے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ عمران خان خود اردو پڑھنے میں دقت محسوس کرتے ہیں۔ بہت سے لوگوں نے تقریبِ حلف برداری میں انہیں حلف لیتے ہوئے غلطیاں کرتے دیکھا ہے۔ اس کا مداوہ کرنے کے لئے ہی شاید انہوں نے حال ہی میں تمام سرکاری تقریبات کی میزبانی اردو میں کیے جانے کا فرمان جاری کیا ہے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ ملول انہیں اس بات کا ہوتا ہے کہ اپنی واعظ نما تقریروں میں عہ قرآنی آیات اور احادیث کا ترجمہ تو سنا سکتے ہیں لیکن یہ سب عربی میں انہیں نہیں یاد۔ لہٰذا اسلام آباد کے تمام سکولوں میں عربی کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ یکساں قومی نصاب، ان کا ایک اور نظریاتی منصوبہ، بھی اسی کا نتیجہ ہے۔ اس نصاب کے تحت ہونے والی تعلیمی ‘اصلاحات’ نے تمام پاکستانی سکولوں کو مدرسوں کے ساتھ لا کھڑا کیا ہے، اور ان سب میں اب ایک ہی نصاب اور ایک ہی جیسے امتحانات ہوا کریں گے۔ یکساں قومی نصاب کو پڑھ کر بڑے ہونے والے طلبہ TLP اور TTP سے اور بھی دوستانہ مراسم رکھیں گے۔ لیکن بڑی تعداد میں پیدا کیے گئے یہ جہلا مسابقت پر مبنی عالمی معیشت میں کہیں ملازمت حاصل کرنے کے قابل نہیں ہوں گے۔
ڈاکٹر پرویز ہود بھائی کے مطابق جہاں ایک طرف ٹی ایل پی اور ٹی ٹی پی جناح کے پاکستان میں مسلسل عروج حاصل کر رہی ہیں وہیں اب میں سٹریم سیاسی جماعتیں خود کو لبرل کہتے خوف محسوس کر رہی ہیں، ریاست اور مذہب کو ایک دوسرے سے جوڑنے کا منصوبہ پوری رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے۔ پاکستانی غیر مسلم تو ظلم و شتم کا نشانہ بنتے ہی رہیں گے لیکن فرانس کے سفیر کو نکالنے کے مطالبے پر اصرار یہ واضح کرتا ہے کہ ٹی ایل پی کے مقاصد مقامی نہیں بلکہ عالمی سطح کے ہیں۔ جہاں تک ٹی ٹی پی کی بات ہے، افغانستان پر ایک نظر ڈال لیجیے آپ کو پتہ چل جائے گا یہ ہمیں کہاں لے جانا چاہتی ہے۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ ٹی ایل پی اور ٹی ٹی پی متشدد تنظیمیں ہیں۔ ایک بریلوی ہے اور دوسری دیوبندی۔ دونوں کے ماننے والوں کی بڑی تعداد ہے اور اب افغانستان میں فتح کے بعد ٹی ٹی پی کے ماننے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوگا۔ دونوں شریعت کا نظام چاہتی ہیں لیکن دونوں کا تصورِ نظامِ شریعت مختلف ہے۔ کون غالب آئے گا اس کا فیصلہ محض طاقت کے استعمال اور خانہ جنگی سے ہی ہو سکتا ہے۔ بقول ہود بھائی، ایسے میں عمران خان یقیناً ایک نیا پاکستان چھوڑ جائیں گے، لیکن یہ وہ نیا پن نہیں ہوگا جس کا انہوں نے وعدہ کیا تھا۔

Back to top button