ثاقب نثار کس طرح اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں میں کھیلے؟

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار پر نواز شریف کی آخری حکومت برخاست کروانے اور انہیں جیل بھجوانے کے بعد بھی انہیں قید رکھنے کے لیے ججوں کو احکامات دینے کے تازہ انکشاف نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ بطور جج انصاف بانٹنے کی بجائے پاکستانی اسٹیبلشمینٹ کے دلال کا کردار ادا کرتے رہے اور اسی کے کہنے پر سزائیں دلوتے رہے۔
یاد رہے کہ گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس رانا شمیم نے ایک حلف نامے میں دعویٰ کیا ہے کہ نواز شریف کو اقتدار سے محروم کرنے کے بعد تب کے چیف جسٹس ثاقب نثار ان کی موجودگی میں ایک جج کو فون کر کے کہا کہ الیکشن 2018 سے پہلے نواز شریف اور مریم نواز جیل سے باہر نہیں آنے چاہیں۔
گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس رانا ایم شمیم نے اپنے مصدقہ حلف نامے میں کہا ہے کہ وہ اس واقعے کے گواہ تھے جب تب کے چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے ہائی کورٹ کے ایک جج کو حکم دیا تھا کہ 2018ء کے عام انتخابات سے قبل نواز شریف اور مریم کو ضمانت پر رہا نہ کیا جائے۔ سینئر صحافی انصار عباسی کی ایک رپورٹ کے مطابق گلگت بلتستان کے سینئر ترین جج نے پاکستان کے سینئر ترین جج کے حوالے سے اپنے حلفیہ بیان میں لکھا ہے کہ ’’جب جسٹس ثاقب نثار کو فون کے دوسری جانب موجود جج سے یقین دہانی مل گئی کہ نواز شریف اور مریم نواز عام انتخابات کے انعقاد تک جیل میں رہیں گے تو وہ پرسکون ہو گئے اور ایک اور چائے کا کپ طلب کیا۔ اس موقع پر انہوں نے مجھ سے مخاطب ہو کر کہا کہا کہ یوں سمجھیں جیسے آپ نے کچھ سنا ہی نہیں ہے۔
یاد رہے کہ جسٹس رانا شمیم نے یہ حلفیہ بیان اوتھ کمشنر کے روبرو 10؍ نومبر 2021ء کو دیا ہے۔ نوٹرائزڈ حلف نامے پر سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان کے دستخط اور ان کے شناختی کارڈ کی نقل منسلک ہے۔ نوٹری پبلک کی مہر کے ساتھ لکھا ہے کہ رانا شمیم نے حلفیہ میرے روبرو 10؍ نومبر 2021ء کو اس دستاویز پر دستخط کیے۔
انصار عباسی کے رابطہ کرنے پر رانا شمیم نے حلف نامے کے مندرجات کی تصدیق کی۔ اس حوالے سے جب جسٹس ثاقب نثار سے رابطہ کیا تو انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں ایسے احکامات دینے کے الزام سے انکار کیا اور ہمیشہ کی طرح سچ بولتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کبھی اپنے ماتحت ججوں کو کسی بھی عدالتی فیصلے کے حوالے سے کوئی احکامات نہیں دیے، چاہے وہ انواز شریف یا شہباز شریف کا کیس ہو یا پھر مریم نواز کا۔ دوسری جانب بتایا جا رہا ہے کہ رانا شمیم نے یہ حلف نامہ اپنی مرحوم اہلیہ کی آخری خواہش کی تعمیل میں تیار کیا ہے جسے اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کروایا جائے گا جہاں نواز شریف اور مریم نواز شرئف کی سزاؤں کے خلاف اپیلیں زیر سماعت ہیں۔ لندن میں مقیم سینئر صحافی اظہر جاوید نے ایک ٹویٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس کی اہلیہ نے مرنے سے پہلے اپنے شوہر سے وعدہ لیا تھا کہ وہ نواز شریف اور مریم نواز کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا پردہ چاک کریں گے۔
خیال رہے کہ رانا شمیم کے حلف نامے کے مطابق جب ثاقب نثار نے فون پر جج کو ہدایات دیں تو ان دونوں کی بیگمات بھی وہیں پر بیٹھی چائے پی رہی تھیں۔ اظہر جاوید کے مطابق رانا شمیم کا حلف نامہ جلد اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کروا دیا جائے گا اور نواز شریف اور مریم کی اپیلیں سننے والے بینچ کے ایک جج پر اعتراض بھی کر دیا جائے گا۔
گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس رانا شمیم کا ثاقب نثار بارے حلفیہ بیان کچھ یوں ہے: میں جسٹس ڈاکٹر رانا محمد شمیم، سابق چیف جج سپریم اپیلیٹ کورٹ آف گلگت بلتستان حلفیہ بیان دیتا ہوں کہ:۱) جولائی 2018ء میں جب میں چیف جج کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہا تھا، اس وقت کے چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار تعطیلات کے سلسلے میں اپنی فیملی کے 27؍ افراد کے ہمراہ گلگت آئے اور انہوں نے عدالت کے مہمان خانے میں قیام کیا۔
۲) جس شام کا یہ واقعہ ہے اس دن میں، میری مرحوم اہلیہ، جسٹس ثاقب نثار اور ان کی اہلیہ باغ میں چائے پی رہے تھے، میں نے دیکھا کہ چیف جسٹس پریشان تھے اور اپنے رجسٹرار سے مسلسل فون پر بات کر رہے تھے اور انہیں ہدایات دے رہے تھے کہ فلاں جج کی رہائش گاہ پر جاؤ اور ان سے درخواست کرو کہ ثاقب نثار کو فوراً فون کرے۔
۳) لیکن اگر فون کال نہ لگ پائے تو اُن کو میری طرف سے یہ پیغام پہنچانا کہ میاں نواز شریف اور مریم نواز شریف کو کسی بھی قیمت پر عام انتخابات سے قبل ضمانت پر رہائی نہیں ملنا چاہئے۔
۴) اس کے تھوڑی ہی دیر بعد اُن کا جج سے فون پر بات ہو گیا۔ ثاقب نثار نے جج کو کہا کہ میاں نواز شریف اور مریم نواز شریف کو عام انتخابات کے انعقاد تک جیل میں رہنا چاہئیں۔ دوسری طرف سے یقین دہانی ملنے پر وہ پر سکون ہوگئے اور خوشی سے چائے کا ایک اور کپ مانگا۔
۵) میں نے ان سے پوچھا کہ انہوں نے ماتحت جج کو یہ پیغام کیوں پہنچایا اور کس لیے۔ انہوں نے جواب دیا، رانا صاحب، آپ نہیں سمجھیں گے، آپ یوں سمجھیں جیسے آپ نے کچھ نہیں سنا ہے۔ میں نے جواب میں اُنہیں اپنی مرحومہ اہلیہ اور اُن کی اپنی اہلیہ کے روبرو کہا کہ نواز شریف کو پھنسایا گیا ہے اور ان کی سزا اور مریم نواز کی سزا کو دیکھ کر اور ان کی اپنی فون کال سن کر یہ سب واضح ہو جاتا ہے۔ بقول رانا شمیم، میری بات پر پہلے تو ثاقب نثار ناراض ہوگئے لیکن فوراً ہی لہجہ بدلتے ہوئے کہا کہ رانا صاحب، یاد رکھیے کہ پنجاب کی کیمسٹری گلگت بلتستان سے مختلف ہے۔
اپنے حلف نامے کے اختتام پر چیف جسٹس رانا شمیم نے لکھا ہے کہ جو کچھ میں نے بیان کیا ہے، وہ رضاکارانہ ہے اور مکمل طور پر سچ ہے۔ یاد رہے کہ نواز شریف اور مریم نواز کو اسکام آباد کی ایک احتساب عدالت نے 25 جولائی 2018ء کے عام انتخابات سے قبل کرپشن کے الزامات پر سزا سنائی تھی۔
تاہم سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے خلاف تازہ حلف نامے نے ایک مرتبہ پھر ان الزامات کو سچ ثابت کیا ہے کہ اپنے دور میں انصاف بانٹنے کی بجائے ثاقب نثار طاقتور اسٹیبلشمینٹ کے ہاتھوں کٹھ پتلی بن کر اسی کے کہنے پر سزائیں دلواتے رہے اور انصاف کا جنازہ نکالتے رہے۔
