بزدار،چیئرمین سینیٹ اور سپیکر کے خلاف عدم اعتماد کا فیصلہ

وفاقی حکومت کو دباؤ میں لانے کے لیے پارلیمنٹ میں موجود اپوزیشن جماعتوں نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ اپوزیشن ذرائع کے مطابق اب صرف یہ فیصلہ کرنا باقی ہے کہ پہلے عدم اعتماد کی تحریک کس کے خلاف اور کب لائی جائے گی؟
اسلام آباد میں جاری سیاسی سرگرمیوں سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ حکومت کے خلاف سڑکوں پر تحریک چلانے کی بجائے کپتان سے جلد از جلد چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے تحریک عدم اعتماد کا راستہ ہی اپنایا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے پہلے اپوزیشن جماعتوں کے کچھ تحفظات تھے لیکن اب لیفٹننٹ جنرل فیض حمید کے تبادلے کے بعد یہ گارنٹی دی جارہی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سیاست میں مداخلت نہیں کرے گی اور نیوٹرل رہے گی۔ شاید اسی لیے اپوزیشن کی جانب سے کوئی لمبی چوڑی حکومت مخالف تحریک چلانے کی بجائے عدم اعتماد کے ذریعے حکومت کو گرانے اور جلد از جلد نئے انتخابات منعقد کروانے کی راہ ہموار کرنا ضروری سمجھا جا رہا ہے۔
اس حوالے سے بلاول بھٹو اور شہباز شریف کے مابین ملاقاتیں ہوچکی ہیں لیکن اب مولانا فضل الرحمن اور نواز شریف کی بھی فون پر تفصیلی گفتگو ہو گئی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے ذرائع کے مطابق نواز شریف نے بھی اپنی جماعت کے کئی رہنماؤں سے اس معاملے پر بات کی ہے اور ان سے کہا ہے کہ وہ ایک ورک پلان بنا کر پیش کریں تا کہ جلد از جلد مستقبل کی حکمت عملی کو حتمی شکل دی جا سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے سینٹ، قومی اسمبلی اور وزیر اعلی پنجاب کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی تجویز دراصل پی ڈی ایم ٹوٹنے سے پہلے پیپلز پارٹی نے دی تھی لیکن نواز لیگ اس سے متفق نہیں تھی۔ لیکن اب نواز لیگ بھی اس تجویز سے متفق نظر آتی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں نواز شریف نے اس حوالے سے مرحلہ وار چلنے پر اتفاق کیا ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے ابتدائی طور پر چیئرمین سینیٹ، قومی اسمبلی کے اسپیکر اور وزیراعلیٰ پنجاب کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی لیے پارلیمنٹ میں دیگر اپوزیشن جماعتوں کو آن بورڈ لینے کا کام شروع کر دیا ہے۔ چنانچہ دیگر ملاقاتوں کے بعد مولانا فضل الرحمٰن اور بلاول بھٹو کی ملاقات بھی ہو چکی ہے جس کے بعد دونوں نے مشترکہ پریس کانفرنس بھی کی اور کہا کہ ’اپوزیشن پارلیمنٹ میں متحد ہے‘۔ یاد رہے کہ اپریل 2021 میں استعفوں کے معاملے پر اپوزیشن اتحاد سے اخراج کے بعد پی ڈی ایم کے سربراہ اور پی پی پی رہنما کے درمیان یہ پہلی ملاقات تھی۔ ملاقات کے بعد پی پی پی رہنما فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اگرچہ پی پی پی اس وقت پی ڈی ایم کا حصہ نہیں ہے لیکن پھر بھی پارٹی کا خیال ہے کہ حکمراں جماعت کو نکالنے کے لیے پہلا قدم پارلیمنٹ کے پلیٹ فارم سے ہی اٹھایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی تحریک عدم اعتماد ہی عمران خان کو بھی اقتدار سے نکالنے کا آئینی راستہ ہے۔
چنانچہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ چیئرمین سینٹ، اسپیکر قومی اسمبلی اور وزیر اعلی پنجاب کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے بعد قومی اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان کو بھی عدم اعتماد ہی کے ذریعے فارغ کیا جائے۔ اس دوران بلاول بھٹو اور مولانا فضل کی ملاقات کے بعد ایک بار پھر یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کو دوبارہ سے اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کا حصہ بنا لیا جائے گا۔ دوسری جانب اب عمران خان حکومت دفاعی پوزیشن میں ہے۔ گزشتہ دنوں ایک آئینی ترمیم پر ووٹنگ کے دوران اپوزیشن کی جیت اور حکومت کی ناکامی نے اپوزیشن کو یہ حوصلہ دیا ہے کہ اب پارلیمنٹ کے اندر عمران خان کی سیاست کو چیلنج کیا جائے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تجویز پر اتفاق رائے نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا کہ لانگ مارچ سے پہلے اسمبلیوں میں عدم اعتماد کا پیپلز پارٹی کا موقف درست تھا۔ یاد رہے کہ ماضی میں نواز شریف کی حکمت عملی یہ رہی ہے کہ اسمبلی کے اندر سے تبدیلی لانے کی بجائے نئے الیکشن کروائے جائیں۔ اسی چکر میں پی ڈی ایم کا شیرازہ بھی بکھر گیا تھا لیکن اب مسلم لیگ نون اور مولانا فضل الرحمن بھی اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ تحریک عدم اعتماد ہی عمران سے چھٹکارا حاصل کرنے کا واحد پارلیمانی اور جمہوری طریقہ ہے۔
