سہیل اصغر کس دوست کی موت کے بعد زندگی سے مایوس ہوئے؟


13 نومبر 2021 کو جہان فانی سے کوچ کر جانے والے لیجنڈ اداکار سہیل اصغر جگر کے کینسر میں مبتلا تھے لیکن انھوں نے زندہ رہنے کی امید اپنے قریب ترین دوست اداکار عابد علی کی موت کے بعد ختم کر دی تھی۔ یاد رہے کہ عابد علی بھی 2019 میں جگر کے کینسر کے باعث اس دنیا سے کوچ کر گئے تھے۔ سہیل اصغر اور عابد علی دونوں میں ایک بڑی مماثلت ان کی رعب دار اور گرجدار آواز تھی جو ان کی شخصیت کے سحر کو دوگنا کر دیتی تھی۔
عابد علی پاکستان میں ‘منی سکرین’ کے پہلے سپرسٹار تسلیم کیے جاتے ہیں۔ سہیل اصغر یوں تو عابد علی کے جونیئر تھے لیکن ان کے فن کی پختگی، برجستگی اور تنوع نے عابد علی کے دل میں ان کے لیے بہت پیار اور احترام بھر دیا تھا۔ بی بی سی کے لیے لکھی گئی طاہر سرور میر کی ایک رپورٹ کے مطابق سہیل اصغر 15جون 1954 کو ملتان میں پیدا ہوئے۔ سہیل کہا کرتے تھے کہ وہ نہیں بتا سکتے کہ انھیں اداکاری کا شوق کیسے ہوا، لیکن انھیں اتنا یاد ہے کہ وہ بہت چھوٹی عمر میں ہی دلیپ کمار، بلراج ساہنی اور اجمل خان جیسے عظیم فنکاروں سے متاثر تھے۔ ہیر رانجھا میں کیدو کا کردار ادا کرنے والے سینیئر اداکار اجمل خان کا سہیل اصغر کی زندگی بدلنے میں اہم کردار تھا۔ سہیل اصغر کے قریبی دوست نامور اور ڈرامہ نگار اصغر ندیم سید کا بھی ان کی زندگی میں بڑا اہم کردار رہا۔ اصغر ندیم نے 85 میں ڈرامہ سیریل ‘آسمان’ میں ایک چھوٹے سے کردار کے لئے سہیل کو کاسٹ کیا لیکن انہوں نے اس چھوٹے کردار میں بھی اپنے آپ کو بڑا کر کے دکھایا۔
اس کے بعد ڈرامہ سیریل ‘پیاس’ میں سہیل اصغر کا میچ عابد علی اور افضال احمد سے تھا۔ سہیل نے دونوں بڑے اداکاروں کے سامنے خود کو پوری طرح منوایا جن کے سٹارڈم کا جادو اس وقت سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ اس ڈرامے میں سہیل اصغر کا تکیہ کلام تھا ‘صدقے تھیواں، ہم آدمی ہیں ذرا وکھری ٹائپ کے۔’ سہیل نے اپنی زندگی مسلسل جدوجہد اور اصولوں کے ساتھ گزار کر یہ ثابت کیا ہے کہ واقعی وہ وکھری ٹائپ کے آدمی تھے۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ ‘صدقے تھیواں، ہم آدمی ہیں ذرا وکھری ٹائپ کے’ یہ تکیہ کلام اصغر ندیم سید نے لکھا نہیں تھا لیکن سہیل اصغر نے جب یہ فقرہ اس کردار کا نفسیاتی لاحقہ بنانا چاہا تو انھوں نے بخوشی اس کی اجازت دی اور یوں یہ کردار یاد گار بن گیا۔ سہیل اصغر نے ریڈیو، ٹی وی، تھیٹر اور فلم جیسے روایتی میڈیم میں معیاری کام کیا لیکن ٹیلی وژن ان کے محبوب میڈیم رہا۔ ان کے نمایاں ڈراموں میں اصغر ندیم سید کی ایک اور ڈرامہ سیریل ‘خواہش’ بھی شامل ہے۔ اس ڈرامہ میں انھوں نے سرکس سے وابستہ ایک کردار نبھایا تھا جس میں ان کے ساتھی فنکاروں میں رانی بیگم ، جاوید کوڈو، حنا شاہین اور سیمی راحیل شامل تھیں۔ سہیل اصغر کا یہ کردار بھی کئی سال تک لوگوں کے دل ودماغ پر چھایا رہا۔ مرحوم کے دیگر یاد گار ڈراموں میں چاند گرھن، آوازیں، منچلے کا سودا، آگ، تیری میری لو سٹوری، آپ کی کنیز، کیسی ہے دیوانگی، اوڑس پڑوس سمیت دیگر شامل رہے۔ ٹی وی میں غیر معمولی کامیابی کے بعد فلم والوں نے سہیل اصغر کی مقبولیت کو کیش کرانے کی غرض سے بعض فلموں میں کاسٹ کیا جن میں جنگجو گوریلے، اسلحہ، مراد اور ماہ نور شامل تھیں۔ سہیل اصغر کا شمار ان فنکاروں میں ہوتا تھا جو رائٹر کے لکھے سکرپٹ کے کردار میں رنگ بھرنے کے لیے اپنے پاس سے جو جزئیات شامل کرتے تھے ان کوششوں سے وہ کردار مزید نکھر جایا کرتا تھا۔

Back to top button