ماضی کے اتحادی، باہمی دست و گریبان کیوں ہو گئے؟

8 فروری کو ملک بھر میں الیکشن کی تاریخ کا اعلان ہوتے ہی ماضی میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا حصہ رہنے والی جماعتیں اور اتحاد کے عہد و پیماں کرنے والے سیاسی کھلاڑی سیاسی منظر نامے پہ گتھم گتھا نظر آرہے ہیں۔ نون لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان اختلافات کی خلیج مزید بڑھتی جا رہی ہے، جس کی ایک تازہ مثال بلاول بھٹو زرداری کا وہ بیان ہے جس میں انہوں نے پیش گوئی کی ہے کہ اگلا وزیراعظم لاہور سے نہیں ہوگا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ 2018 ء کی غلطیاں دہرا رہی ہے اور وہ صرف ایک جماعت کے لیے میدان کھلا رکھنا چاہتی ہے جبکہ دوسری جماعتوں کو ‘لیول پلیئنگ فیلڈ‘ نہیں دی جا رہی۔
بلاول بھٹو زرداری نے بھی اس بات کی شکایت کی کہ ان کی جماعت کو ‘لیول پلیئنگ فیلڈ‘ نہیں دی جا رہی ہے حالانکہ ان کے خیال میں اس بات کے واضح اشارے عوامی سطح پر انہیں مل رہے ہیں کہ مرکز و صوبوں میں پی پی پی اکثریت حاصل کرے گی۔بلاول بھٹو زرداری نے یہ بھی دعوٰی کیا کہ الیکشن جیتنے کے بعد وہ مرکز اور صوبوں میں حکومت بنائیں گے۔
دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ ن کے حوالے سے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس وقت اس کو اسٹیبلشمنٹ کی پشت پناہی حاصل ہے اور وہ انتخابات جیتنے کے لیے جی ایچ کیو کی طرف دیکھ رہی ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما اور سابق سینیٹر سحر کامران اس تاثر کو غلط قرار دیتی ہیں کہ پیپلز پارٹی اور نون لیگ میں کوئی سنگین اختلافات ہیں۔ تاہم وہ اس بات کا اعتراف کرتی ہیں کہ پیپلز پارٹی کو نون لیگ کے حوالے سے کچھ تحفظات ضرور ہیں۔ انہوں نے بتایا، ”نون لیگ الیکشن کے موڈ میں آ نہیں رہی۔ نون لیگ نے صرف نواز شریف کی واپسی کے لیے الیکشن میں تاخیر کروائی اور اب بھی وہ تاثر دے رہی ہے کہ وہ ایک سمجھوتے کے تحت آئی ہے۔‘‘تاہم پاکستان پیپلز پارٹی کے کچھ اور ذرائع کا دعوی ہے کہ پی پی پی اور نون لیگ میں اختلافات شدت اختیار کر رہے ہیں۔ پارٹی کے ایک رہنما نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا، ”یہ اختلافات اسی وقت ہی شروع ہو گئے تھے جب یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ پی ڈی ایم کی حکومت کی کامیابی ہے، جس نے عمران مخالف تمام عناصر کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر دیا۔‘‘ اس رہنما کے مطابق، ”اب یہ بات بڑی واضح ہے کہ نون لیگ پورے پاکستان میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سیاسی حریفوں کے ساتھ رابطے کر رہی ہے اور ان کے ساتھ مل کر پارٹی کے خلاف اتحاد بنا رہی ہے، جس کی ایک تازہ مثال نواز لیگ کی ایم کیو ایم کر رہنماؤں سے ملاقات ہے جس کے حوالے سے پارٹی میں شدید تحفظات ہیں۔‘پاکستان پیپلز پارٹی کی ایک اور رہنما اور سابق چیئرپرسن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام شازیہ مری نے اس حوالے سے کہنا ہے کہ، ” ان کی پارٹی کے لیے بالکل لیول پلیئنگ فیلڈ نظر نہیں آتی جبکہ نون لیگ کو اسپیشل ٹریٹمنٹ دیا جا رہا ہے۔‘‘
تاہم دوسری جانب موجودہ صورتحال بارے سینیئر تجزیہ نگار ڈاکٹر خالد جاوید جان کا کہنا ہے کہ جی ایچ کیو دوہزار اٹھارہ کی غلطی دہرارہا ہے، جس کی وجہ سے پی پی پی اور ن لیگ میں اختلافات بھی ہورہے ہیں۔ ” پہلے پی ٹی آئی کے علاوہ کسی پارٹی کو لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں مل رہی تھی اور اب نون لیگ کو بہت زیادہ رعایتیں مل رہی ہیں۔‘‘پاکستان میں یہ خیال عام ہے کہ پی ٹی آئی کو سیاست کے لیے کوئی جگہ نہیں دی جارہی۔ ڈاکٹر خالد جاوید جان کا کہنا ہے کہ پی پی پی کا اس حوالے سے اختلاف اصولی ہے۔ ” پی پی پی کا موقف ہے کہ پی ٹی آئی سمیت تمام جماعتوں کو لیول پلیئنگ فیلڈ یا سیاسی سرگرمیوں کے لیے مساوی مواقع ملنے چاہییں جس کے بغیر انتخابات کی شفافیت ممکن نہیں اور اس حوالے سے پی پی پی اگر پی ٹی آئی سے اتحاد بھی کرتی ہے تو یہ اصولی ہوگا۔‘‘
واضح رہے کہ انتخابات کے حوالے سے ن لیگ اور جے یو آئی ایف پی ڈی ایم حکومت کے ختم ہونے کے بعد بھی التوا چاہتی تھی اور پی پی پی اس التوا کی حامی نہیں تھی جبکہ پی ٹی آئی بھی انتخابات کا التوا اس وقت نہیں چاہتی تھی۔ تاہم ان اختلافات میں وہ شدت نہیں تھی جو کہ اب نظر آرہی ہے اور ممکنہ طور پر یہ بڑھ بھی سکتی ہے۔ اب ماضی میں پی ڈی ایم کے جھنڈے تلے متحد رہنے والی سیاسی جماعتیں تیزی سے تتر بتر ہوتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔
نون لیگ بھی اس ٹوٹ پھوٹ کا اعتراف کرتی دکھائی دیتی ہے۔ پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق گورنر خیبر پختون خوا اقبال ظفر جھگڑا کے مطابق ”اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پی ڈی ایم میں اتحادی رہنے والی جماعتوں میں اب اختلافات بڑھ رہے ہیں اور جیسے جیسے الیکشن قریب آئیں گے مجھے لگتا ہے کہ ان اختلافات میں مزید شدت آئے گی۔‘‘اقبال ظفر جھگڑا نے اس امر پہ افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی الزامات کی سیاست کر رہی ہے اور غیر منطقی طریقے سے یہ کہہ رہی ہے کہ اگلا وزیراعظم لاہور سے نہیں ہوگا۔ ”میرا خیال ہے کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان اس طرح کی باتیں اور بیان بازی نہیں ہونی چاہیے۔ کوئی کس طرح یہ پیش گوئی کر سکتا ہے کہ فلاں شخص وزیراعظم ہوگا اور فلاں نہیں۔ شفاف انتخابات ہونے چاہییں اور جس کو عوام مینڈیٹ دے اس کو وزارت عظٰمی کی کرسی پر ہونا چاہیے۔‘‘
