محسن داوڑ نے سیکولر نظام کے نعرے کے ساتھ نئی پارٹی بنا لی

پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے پاکستان میں سیکولر وفاقی جمہوری نظام کے قیام کی خاطر نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے نام سے اپنی علیحدہ سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کیا ہے۔ نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ یا قومی جمہوری تحریک کے نام سے بننے والی اس جماعت میں سینیئر سیاستدان شامل ہیں اور اس کے منشور میں خواتین اور نوجوانوں کے حقوق فراہم کرنے کے لیے کوششوں کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی 90 فیصد سے زائد آبادی کا مذہب اسلام ہے اور رہے گا لیکن وہ ایک ایسے سیکولر اور لبرل معاشرے کے قیام کی خاطر جدوجہد کریں گے جس میں تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کے حقوق کا تحفظ ہو گا۔
یکم ستمبر کو اپنی جماعت کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے محسن داوڑ نے کہا کہ ‘میرا تو پہلے دن سے یہی ارادہ تھا کہ پارلیمانی سیاست کروں گا اور پی ٹی ایم میں جانے سے پہلے بھی میں ایک سیاسی جماعت کا حصہ تھا، ہاں یہ ضرور ہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ پارلیمانی سیاست میں حصہ نہیں لے گی اور اب بھی وہ اس پر قائم ہیں، میں کبھی پی ٹی ایم کا عہدیدار نہیں رہا۔’
نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ یا قومی جمہوری تحریک کے قیام کا اعلان پشاور میں ایک تقریب میں کیا گیا جس میں سینیئر سیاستدان اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر لطیف آفریدی ایڈووکیٹ، افراسیاب خٹک، بشیر خان مٹہ، بشریٰ گوہر، اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔ محسن داوڑ نے تقریب کے بعد میڈیا سے خطاب میں کہا کہ ان کی سیاسی جماعت ملک میں حقیقی سیکولر جمہوری نظام کے لیے کوشش کرے گی جس میں تمام لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق حاصل ہوں گے۔
تقریب میں زیادہ تعداد ان نوجوانوں کی تھی جو عام طور پر پشتون تحفظ موومنٹ کے جلسوں میں موجود ہوتے ہیں۔ ان میں صوبہ سندھ، بلوچستان اور پنجاب سے بھی لوگ آئے تھے۔
محسن داوڑ نے کہا کہ جب پی ٹی ایم کی بنیاد رکھی جا رہی تھی تو اس وقت بھی وہ ایک سیاسی جماعت کا حصہ تھے اور پی ٹی ایم کے منشور کی تیاری کے وقت بھی یہ کہا گیا تھا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کا رکن پی ٹی ایم کا حصہ ہو سکتا ہے ۔پشتون تحفظ موومنٹ پارلیمانی سیاست کے ذریعے حقوق کے حصول کو قابل عمل نہیں سمجھتی اس وجہ سے پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین پارلیمانی سیاست میں حصہ نہیں لے رہے۔ محسن داوڑ نے بتایا کہ پی ٹی ایم کے بنیادی پانچ نکات وہی ہیں جو پہلے تھے اور وہ ان نکات پر پی ٹی ایم کے ساتھ کھڑے ہیں۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق محسن داوڑ کے ساتھیوں نے بتایا کہ وہ پی ٹی ایم سے الگ نہیں ہوئے بلکہ وہ اب بھی پی ٹی ایم اور منظور پشتین کے ساتھ موجود ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ منظور پشتین کو آپ لوگوں نے اکیلا چھوڑ دیا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہے وہ منظور پشتین کو اپنے ساتھ سمجھتے ہیں۔ انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس تقریب میں شرکت کی دعوت کیا منظور پشتین کو دی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جائیں گے منظور پشتین سے ملاقاتیں کریں گے اور پھر ہو سکتا ہے کہ میڈیا کو ساتھ لے کر جائیں گے۔
موجودہ حکومت کے خلاف جب حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر اکٹھی ہوئیں تو اس میں ابتدائی طور پر محسن داوڑ کو بھی دعوت دی گئی تھی اور وہ اس میں شرکت کرتے رہے لیکن پھر اچانک پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے محسن داوڑ کی شرکت پر اعتراض کیا اور یہ نقطہ اٹھایا تھا کہ محسن داوڑ کسی سیاسی جماعت کے سربراہ نہیں ہیں بلکہ ایک رکن قومی اسمبلی ہے اور انھیں اس اتحاد میں شرکت کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ایسی اطلاعات ہیں کہ اس کے بعد محسن داوڑ نے اپنی سیاسی جماعت کے لیے کوششیں تیز کر دی تھیں۔
کیا یہ پہلی سیکولر جماعت ہے؟اس نئی جماعت کے دستور میں پہلی سطر میں یہی لکھا گیا ہے کہ ‘ہم ایک سیکولر، وفاقی، جمہوری، پارلیمانی نظام کو فروغ دینے پر یقین رکھتے ہیں۔’اس بارے میں محسن داوڑ سے پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہے کہ یہ پاکستان کی کوئی پہلی سیکولر جماعت ہے بلکہ دیگر سیاسی جماعتیں بھی جمہوری سیاست کرتی ہیں جس میں تمام مذاہب کے ماننے والے افراد آزادی سے اپنے مذہبی فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس میں کوئی دوسری بات نہیں ہے کہ اس ملک 98 فیصد عوام کا مذہب اسلام ہے اور یہی رہے گا۔ ان کی جماعت برسر اقتدار آ کر تمام مذاہب اور عقائد کو بلا تعصب اور امتیاز تحفظ اور سہولیات پہنچائے گی۔ انھوں نے کہا کہ ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، ریاست اور مذہب کو الگ الگ رکھنا ہے۔ آئین میں درج ہے کہ قران اور سنت کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں ہوگی اور اس سے کسی کو کوئی انکار نہیں ہے لیکن ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہر مذہب اور اور ہر فرقے کو اپنی رسومات ادا کرنے کی آزادی حاصل ہو ۔
محسن داوڑ سے جب پوچھا گیا کہ پہلے ہی اتنی قوم پرست جماعتیں ہیں تو ان کی جماعت کیا کر لے گی اس پر انھوں نے کہا کہ وہ سیاسی جماعتیں اپنے طور پر کام کر رہی ہیں لیکن یہاں خلا ہے یہی وجہ ہے کہ کچھ عرصہ پہلے جو انتخابات ہوئے اس میں مسلم لیگ نواز اور دیگر جماعتوں نے ووٹ حاصل کیے اور پشتون قوم پرست جماعتیں کوئی زیادہ کارکردگی کا مظاہر نہ کر سکیں اس لیے ان کی جماعت اس میں اہم کردار ادا کرے گی۔ تاہم سیاسی حلقوں میں سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا یہ اتفاق ہے کہ محسن داوڑ نے اپنی جماعت کا اعلان ایسے دن پر کیا جس دن خدائی خدمت گار تحریک کی بنیاد آج سے تقریباً بانوے سال پہلے ڈالی گئی تھی اور یکم ستمبر کو اس تحریک کا یوم تاسیس ہوتا ہے۔
