کیا فوج واقعی سیاسی اتفاق رائے کروانا چاہتی ہے؟


فوجی قیادت کی جانب سے پاکستانی اپوزیشن رہنماؤں کو افغانستان پر دی جانے والی ایک حالیہ بریفنگ کے دوران ملکی معاملات پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی اپیل نے ایک بار پھر یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ انتشار کا شکار ملکی سیاست میں اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کامیاب ہو سکے گی یا نہیں؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ راولپنڈی میں ہونے والی اس بریفنگ میں بھی وزیراعظم عمران خان شریک نہیں ہوئے اور بریفنگ فوجی قیادت نے دی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اہم ملکی معاملات پر حکومت اور اپوزیشن کے مابین اتفاق رائے بنانے کی بات فوجی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے آئی جسے اپوزیشن کی تمام بڑی جماعتیں کپتان حکومت کے ساتھ ایک فریق تصور کرتی ہیں۔ اسی وجہ سے اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) براہ راست فوجی قیادت پر سیاست میں ملوث ہونے اور اسلام آباد میں اپنی پسند کی حکومت قائم کرنے کا الزام بھی عائد کرتی چلی آ رہی ہے۔ تجزیہ کار یاد دلاتے ہیں کہ اس سے پہلے فوجی قیادت نے اتفاق رائے پیدا کرنے کے بات تب کی جب مودی سرکار نے جموں کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کردی تھی۔ بعد ازاں عمران خان نے نے مسئلہ کشمیر کی بنیاد پر ہی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو عہدے میں توسیع دینے کا فیصلہ کیا تھا اور اسی وجہ سے اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی نے بھی جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن دینے کی حمایت کی تھی۔ تاہم جنرل باجوہ کے عہدے میں توسیع کے بعد معاملات بدل گئے اور اپوزیشن کا یہ تاثر مزید پختہ ہوا کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ ان کے خلاف عمران خان کے ساتھ ایک فریق بن کر کھڑی ہے۔
لہذا افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلاء کے بعد فوجی قیادت کی جانب سے اپوزیشن جماعتوں کی قیادت کو دی گئی بریفنگ کے دوران اتفاق رائے پیدا کرنے کی اپیل کو حزب اختلاف کی قیادت زیادہ سنجیدگی سے نہیں لے رہی۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق فوجی قیادت کی کتاب سے طویل عرصہ تک ’سیاسی اتفاق رائے‘ کی یہ اصطلاح غائب رہنے کے بعد اگرچہ ایک مرتبہ پھر استعمال ہوئی ہے لیکن گذشتہ برسوں میں اپوزیشن کی سیاسی قیادت اور فوجی قیادت کے درمیان بدترین تلخی دیکھنے میں آئی ہے۔پی ٹی آئی حکومت گرانے کے لیے خاص طور پر گذشتہ دو برسوں میں چیف آف آرمی سٹاف اور ڈی جی آئی ایس آئی اپوزیشن کی لفظی گولہ باری کا بنیادی ہدف بنے رہے۔
وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اس بریفنگ کے بعد کہا کہ اتفاق رائے پیدا کرنے کی یہ کوشش کوئی نیا قدم نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں یہ حکومت کا وہی پرانا موقف ہے جس میں اپوزیشن جماعتوں کو دعوت دی گئی تھی کہ وہ آئیں اور عدالتی، سیاسی، معاشی اور خارجہ پالیسی کی اصلاحات کے لیے تعاون کریں۔‘ اس سوال کہ وزیر اعظم کی انتخابی اصلاحات پر اپوزیشن سے تعاون کی درخواست اور فوجی قیادت کی جانب سے ملکی معاملات پر سیاسی اتفاق رائے پیدا کی کوشش کو آپس میں جوڑا جاسکتا ہے، وزیر اطلاعات نے تیکھے انداز میں کہا: ’میں نہیں سمجھتا کہ اس میں کوئی نئی بات ہے۔۔۔ ہم یہ کہتے آرہے ہیں کہ ہم اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے اور بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘
دوسری جانب پیپلزپارٹی کے رہنما اور سابق وزیراطلاعات قمر زمان کائرہ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو براہ راست کہہ دیا گیا ہے کہ وہ اپوزیشن قیادت کے خلاف براہ راست توہین آمیز زبان استعمال نہ کریں۔ لہکن انھوں نے کہا کہ ’صرف اللہ تعالی ہی جانتا ہے کہ یہ سلسلہ کتنی دیر برقرار رہے گا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’میرا نہیں خیال کہ ہم ایک ایسی صورتحال کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں ہم خارجہ پالیسی اور سلامتی پر ایک قومی اتفاق رائے پیدا کرسکتے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ وزیراعظم اور ان کی جماعت کا رویہ ہے۔ ’تقریر اور پالیسی میں ان کا رویہ فسطائی ہے۔ وہ اپوزیشن کے لئے توہین آمیز زبان استعمال کرتے ہیں۔ آنے والے دن ہی ہمیں بتائیں گے کہ کیا وزیراعظم کا رویہ اور پالیسی تبدیل ہوئی کہ نہیں۔‘
تاہم اہم سوال یہ بھی ہے کہ فوج ایک بار پھر اتفاق رائے کے معمار کا رول کیوں اہنا رہی ہے؟ سیاسی تجزیہ کاروں کا موقف ہے کہ خارجہ پالیسی کے سنجیدہ مسائل سے نمٹنے کے لیے مکمل سیاسی اتفاق رائے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ خارجہ محاذ پر درپیش سنگین مشکلات سے نبردآزما ہونے میں اس کی سیاسی قدر و قیمت فطری ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سیاسی اور فوجی قیادت دونوں کے ایک ہی موقف کا اظہار کرنا لازم ہے۔ اس کے لیے مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی حکومت کو کریڈٹ دیاجاسکتا ہے کہ انہوں نے آل پارٹیز کانفرنس کا طریقہ کار وضع کیا تھا جس میں اعلی ترین فوجی اور سیاسی قیادت موجود ہوتی ہے۔ دوسری جانب دیگر سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ فوج پہلے ہی بہت مضبوط ہے کیونکہ نہ صرف پاکستان کے اندر سے بلکہ باہر سے بھی ان کو تائید و حمایت میسر ہے۔
سول ملٹری تعلقات پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستانی فوجی قیادت کو باہر کی دنیا سے جو سند جواز میسر ہے اس کا اندازہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے جی ایچ کیو میں وَن آن وَن ملاقات کرنے والے غیرملکی وزرائے خارجہ اور سفیروں کی تعداد سے لگایا جاسکتا ہے۔‘ انکا کہنا ہے کہ ماضی میں فوج قومی سلامتی کے اہم معاملات پر سیاسی اشرافیہ سے مشاورت کی کوئی زیادہ مشتاق نہیں رہی۔ لیکن یہ صورتحال اب بدل رہی ہے، اب وہ سیاسی قیادت سے مشاورت کی طرف مائل ہے۔ اندازِ حکمرانی بہتر ہوا ہے اور اب فوج سیاسی اشرافیہ سے مشاورت کے لیے زیادہ آمادہ و راغب نظر آتی ہے۔
دوسری جانب سیاسی قیادت خارجہ پالیسی اور سلامتی سے متعلق امور پر کارگزاری پر کم تنقید کر رہی ہے اور ان کی تنقید کا رخ حکومت کی طرف زیادہ ہے۔ تاہم دیکھنا یہ ہے کہ کیا فوجی قیادت واقعی پاکستانی اپوزیشن اور حکومت کے مابین اہم قومی معاملات پر اتفاق رائے سے میں سنجیدہ ہے یا نہیں؟

Back to top button