مدرسے سے یونیورسٹی تک لونڈے باز ایکشن میں


لاہور کے جامعہ منظورالاسلامیہ میں ایک باریش مہتمم کے ہاتھوں طالبعلم کے ریپ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد اب اسلام آباد کی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں ایک طالبعلم کے ریپ کی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیوز پاکستانی معاشرے کی من حیث القوم ذہنی پستی کی عکاس ہیں۔
اسلامک یونیورسٹی کے ہاسٹل میں 24 سالہ طالب علم کے ساتھ گینگ ریپ کے واقعے کو کئی گزر جانے کے بعد بھی وفاقی پولیس ملزمان کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج سمیت کوئی قانونی کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اگرچہ یونیورسٹی انتظامیہ بھی اس واقعے کی تصدیق کر چکی، میڈیا اور سوشل میڈیا پر بھی اس سے متعلق بات ہو رہی ہے اور یہ واقعہ اسلام آباد پولیس کے علم میں بھی ہے، مگر ابھی تک اس کی کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہو سکی۔ 19 جون کی شام سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کر رہی ہے جس میں ایک نوجوان یونیورسٹی انتظامیہ کو اپنے ساتھ پیش آنے والے مبینہ گینگ ریپ کی تفصیلات بتا رہا ہے۔ یونیورسٹی کے ترجمان کے مطابق یہ واقعہ 18 جون کی رات کو پیش آیا جب متاثرہ نوجوان یونیورسٹی کے طلبا کے ساتھ ہاسٹل میں آیا۔ ناصر فرید کے مطابق متاثرہ نوجوان نے یونیورسٹی انتظامیہ کو بتایا کہ تین سے چار افراد نے ہاسٹل کے ایک کمرے میں اس کے ساتھ ریپ کیا۔ صبح سکیورٹی گارڈز کو متاثرہ نوجوان کمرے کے باہر ملا جو اسے اسلام آباد کے پمز ہسپتال لے گئے۔ تاہم متاثرہ لڑکے نے ڈاکٹر کو میڈیکو لیگل رپورٹ بنانے سے یہ کہتے ہوئے روک دیا کہ وہ جان کے خوف سے کسی کے خلاف کارروائی نہیں کروانا چاہتا۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے لاہور کے جامعہ منظور اسلامیہ میں ایک طالب علم سے زیادتی کے الزام میں درج مقدمے میں نامزد مفتی عزیزالرحمان کو بالآخر میانوالی سے گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس نے اپنے جرم کا اعترافبھی کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم نے بیان دیا کہ یہ ویڈیو میری ہے جو صابر شاہ نے چھپ کر بنائی، اس نے کہا کہ میں نے طالبعلم صابر شاہ کو پاس کروانے کا جھانسہ دے کر ہوس کا نشانہ بنایا، ملزم نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ اپنے کیے پر شرمندہ ہے۔ تاہم یاد رہے کہ موصوف نے اپنے شاگرد کو ایک دو مرتبہ نہیں بلکہ کئی برس تک ذیادتی کا نشانہ بنایا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ دینی مدرسے میں تو بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات عام ہیں لیکن اسلام آباد جیسے بڑے شہر کی ایک بڑی یونیورسٹی میں ایک نوجوان کا ریپ ہونا اور بھی زیادہ تشویش ناک ہے۔
متاثرہ طالبعلم کے مطابق اُس کے ساتھ گینگ ریپ کا واقعہ تب پیش آیا جب وہ دیگر طلبا کے ساتھ اسلامک یونیورسٹی کے ہاسٹل میں رات گزارنے کے لیے آیا۔ ایس پی انڈسٹریل ایریا زون فدا حسین ستی کا کہنا ہے کہ متاثرہ طالب علم کو جب طبی معائنے کے لیے ہسپتال لے جایا گیا تو اس نے وہاں طبی عملے کو لکھ کر دے دیا کہ وہ ملزمان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرنا چاہتا۔ انھوں نے کہا کہ متعلقہ پولیس سٹیشن کا عملہ اب بھی متاثرہ طالب علم کے ساتھ رابطے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اس سے رابطہ نہیں ہوا۔ انھوں نے کہا کہ ’پولیس نے روزنامچے میں اس واقعے کو رپورٹ کیا گیا ہے مگر مقدمہ اس لیے درج نہیں کیا گیا کیونکہ متاثرہ طالب علم نے لکھ کر دیا ہے کہ وہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہیں چاہتے۔‘ ایک سوال کے جواب میں ایس پی فدا ستی کا کہنا ہے کہ پولیس اپنے تیئں اس واقعے کا مقدمہ درج نہیں کر سکتی کیونکہ ’یہ جرم ایک شخص کے خلاف ہوا ہے اور اگر متاثرہ شخص درخواست دے تب ہی ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ پولیس اس معاملے میں مدعی نہیں بن سکتی۔
جب پمز ہسپتال کے میڈیکو لیگل افسر ڈاکٹر ارشاد اور ایمرجنسی کے سربراہ ڈاکٹر فرخ کمال سے رابطہ کیا گیا اور پوچھا گیا کہ ان کی جانب سے کوئی میڈیکل رپورٹ کیوں نہیں مرتب کی گئی تو ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ ریپ کیس میں تفصیلی میڈیکل معائنہ اور پھر اس کی رپورٹ کے لیے متاثرہ شخص کی اجازت لازمی ہے۔ ڈاکٹر اس شخص کی مرضی کے بغیر اس کا معائنہ نہیں کر سکتا۔ دوسری جانب یونیورسٹی ترجمان کے مطابق تھانہ سبزی منڈی کے ایس ایچ او نے یونیورسٹی انتظامیہ سے رابطہ کیا گیا تھا تاہم یہ جاننے کے بعد کہ متاثرہ نوجوان ملزمان کے خلاف کارروائی نہیں کرنا چاہتا، پولیس نے مزید کارروائی نہیں کی۔ یونیورسٹی ترجمان کا کہنا تھا کہ ’پولیس نے نہ تو جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور نہ ہی کسی قسم کے شواہد اکھٹے کیے گئے۔‘ ترجمان کے مطابق یونیورسٹی نے بھی واقعے کی ایف آر درج نہیں کروائی کیونکہ متاثرہ نوجوان ایسا کرنا نہیں چاہتا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ نہیں جانتے کہ متاثرہ نوجوان کی ویڈیو کس نے سوشل میڈیا پر جاری کی۔
ناصر فرید کے مطابق جب یونیورسٹی کی جانب سے واقعے کی تحقیقات کروائی گئی تو معلوم ہوا کہ متاثرہ نوجوان کا تعلق اس یونیورسٹی سے نہیں ہے جہاں یہ واقعہ پیش آیا۔ انھوں نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کے بیان کے مطابق وہ اپنے دوستوں کے ساتھ رات گزارنے یونیورسٹی ہاسٹل آیا تھا اور اس نے اپنے ابتدائی بیان میں ملوث افراد کو اپنا دوست بتایا تھا۔ ترجمان کے مطابق واقعے میں مبینہ طور پر ملوث ایک شخص یونیورسٹی کے ملازم کا بھائی ہے۔ ’یونیورسٹی ملازم نے اپنے بھائی کو غیر قانونی طور پر ہاسٹل کے کمرے میں رکھا ہوا تھا اور اس کے ساتھ دو اور یونیورسٹی کے طلبا غیر قانونی طور پر وہاں رہائش پزیر تھے جبکہ انھیں بھی یہ کمرہ انتظامیہ کی جانب سے نہیں دیا گیا تھا۔‘ ترجمان کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کی سٹوڈنٹ ڈسپلن کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا جس نے یونیورسٹی ملازم کو فوری طور پر نوکری سے برطرف کر دیا جبکہ دو طلبا کا داخلہ معطل کر دیا اور اس کے علاوہ کوتاہی برتنے پر تین سکیورٹی گارڈز کو بھی معطل کر دیا گیا۔
یونیورسٹی ترجمان کے مطابق انھوں نے ’متاثرہ نوجوان کو ایف آئی آر درج کروانے میں مدد فراہم کرنے کی پیشکش کی اور اس کے لیے پولیس کی ہیلپ لائن ون فائیو پر بھی کال کی تاہم نوجوان نے کوئی بھی قانونی کارروائی کرنے سے انکار کر دیا۔‘ لیکن قانونی ماہرین اور وکلا اس بات سے متفق نہیں ہیں۔ ماہر قانون فرہاد علی شاہ کا کہنا ہے کہ ریپ کو ریاست کے خلاف جرم تصور کیا جاتا ہے جس کے لیے متاثرہ شخص کا خود ایف آئی آر درج کروانا لازمی نہیں بلکہ پولیس یا یونیورسٹی انتظامیہ خود اپنی مدعیت میں بھی اس کے خلاف مقدمہ درج کروا سکتی تھی۔ ایڈوکیٹ سپریم کورٹ ضیا اعوان کا کہنا ہے کہ ’اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ متاثرہ شخص نے کیا لکھ کر دیا ہے۔ اگر ایک ایسا فعل ہوا ہے جسے ریاست پاکستان ایک جرم مانتی ہے تو اس کی ایف آئی آر درج ہونا لازمی ہے۔ بظاہر یہ اس علاقے کے ایس ایچ او کی غفلت ہے کہ اس نے نہ تو اس کی ایف آر درج کی اور نہ ہی اس جرم کی تحقیقات کے لیے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور لوگوں سے تفتیش کی۔‘
ماہر قانون فرہاد علی شاہ کا کہنا ہے کہ متعدد کیسز میں عدالت یہ بات کہہ چکی ہے کہ جرم کی تحقیقات کرنا پولیس کا فرض ہے اور اس کے لیے ضروری نہیں کہ وہ کسی مدعی کے سامنے آنے کا انتظار کرے کیونکہ دیر اور شواہد ضائع ہونے کے صورت میں ذمہ داری پولیس کی ہوتی ہے۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں قانون کے ایسوسی ایٹ پروفیسر مشتاق احمد کے مطابق یونیورسٹی کی جانب سے واقعے میں ملوث افراد کو یونیورسٹی سے نکال دینا کافی نہیں کیونکہ یہ مبینہ جرم یونیورسٹی حدود میں پیش آیا ہے جس کی مکمل پولیس تحقیقات ہونی چاہیے اور ملوث افراد کو قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔ مشتاق احمد کا کہنا ہے کہ اکثر ریپ کا شکار ہونے والا شخص شرم یا صدمے میں ہونے اور دیگر وجوہات کی بنا پر پولیس رپورٹ درج کروانے سے کتراتا ہے لہذا اس کی ذمہ داری پولیس اور یونیورسٹی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اس واقعے کا مقدمہ درج کروائے۔ مشتاق کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں متعدد مبینہ جرائم سرزد ہوئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’پاکستان کے قانون کے تحت ریپ کا شکار ہونے والے شخص کی شناخت ظاہر کرنا جرم ہے جبکہ اس واقعے میں متاثرہ شخص کی مرضی کے بغیر اس کی ویڈیو بنائی گئی اور اسے سوشل میڈیا میں لیک کیا گیا اور اس کی تحقیقات بھی ہونی چاہئیں۔‘

Back to top button