مریم بمقابلہ شہباز :سیاسی وراثت کی جنگ کون جیتے گا؟

موروثی سیاست کی بھی عجب کہانی ہے، امیدوار ایک ہو تو سب اچھا ہے لیکن اگر فیملی میں پھوٹ پڑ جائے تو قرعہ اسی کے نام نکلتا ہے جو اپنی بساط زیادہ چالاکی اور مہارت سے بچھاتا ہے اور اپنے مہرے آگے بڑھاتا ہے۔ شریف فیملی کی بھی آج کل کچھ ایسی ہی کہانی ہے۔ کرسی ایک اور امیدوار دو، مگر خاندانی وضع داری اور بھرم کی خاطر دونوں ہی کھل کر کھیلنے سے کترا رہے ہیں۔ آپ یقیناً جان گئے ہوں گے کہ یہاں بات ہو رہی ہے پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف اور سابق وزیرِاعطم نواز شریف کی گدی نشین مریم نواز کی۔
کہنے کو تو چچا بھتیجی میں بے مثال انڈرسٹیڈنگ ہے لیکن اصل میں ایسا ہے نہیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ان دونوں کے ستارے آپس میں نہیں ملتے؟ دیکھا جائے تو پاکستانی سیاست میں مریم نواز کی انٹری کبھی نہ ہوتی اگر بیگم کلثوم نواز “باؤ جی” پر دباؤ نہ ڈالتیں۔ وہ جانتی تھیں کہ بزنس میں زیادہ دلچسپی رکھنے والے ان کے دونوں لاڈلے بیٹے سیاسی طور پر فارغ ہیں۔ چنانچہ “باؤ جی” کی سیاسی وراثت کو اپنے دیور اور ان کے بیٹے سے بچانے کے لئے ان کے پاس اب ایک ہی راستہ تھا کہ مریم کو اکھاڑے میں اُتار دیا جائے۔ وہ اپنے اس مشن میں کتنی کامیاب ہوئیں؟ اس کا اندازہ مریم کی سیاسی سمجھ بوجھ اور داؤ پیچ سے بخوبی ہو جاتا ہے۔
تاہم ان کی والدہ کے اندازے کے عین مطابق، وہ پارٹی کے باقی لوگوں کو تو پچھاڑ لیں گی لیکن اپنے چچا شہباز شریف کی اس گھاگ اور شاطر نظر کا توڑ نہیں کر پائیں گی جو وہ بھتیجی کی ہر چال پر رکھے ہوئے ہیں۔ یہاں ابھی یہ بحث نہیں کہ بلاول بھٹو کی سیاسی اُڑان انھیں زمین پر قدم جمانے کاموقع دے گی بھی یا نہیں؟ خیر بظاہر بھتیجی کی محبت کا دم بھرنے والے شہباز شریف ان کی طرف سے ہمہ وقت کتنے چوکنّے رہتے ہیں؟ اس کا اندازہ ان کی حالیہ پاکستان واپسی سے بخوبی ہو جاتا ہے۔
جی ہاں، چچا شہباز کی اچانک وطن واپسی، کرونا سے بچاؤ پروگرام یا اپنے ہم وطنوں کی ہمدردی میں نہیں بلکہ مریم کی غیر معمولی سیاسی ہلچل کی وجہ سے ہوئی ہے۔ مہینوں بعد اپنی رائیونڈ رہائش گاہ سے نکلنا اور پھر اپنی سیادی سوچ کے حامل شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال سے اسلام آباد جا کر ملنا چچا شہباز کو کھٹک گیاتھا، انہی دنوں کرونا کی وباء پھوٹ پڑی اور چچا کو واپسی کا بہانہ مل گیا۔ چچا کے واپس آتے ہی مریم بھی ایک بار پھر اپنے شیل میں چلی گئی ہیں۔
دوسری طرف شہباز شریف لندن سے واپسی کے بعد مسلسل یہ راگ الاپ رہے ہیں کہ 2018 کے الیکشن کے بعد وزارت عظمی ان کے حصے میں آنی تھی اور اس حوالے سے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات بھی ہو چکے تھے لیکن پھر نواز شریف کے بیانیے نے سارا کھیل خراب کر دیا۔ مریم کیمپ سے تعلق رکھنے والے شاہد خاقان عباسی نے شہباز شریف کے پتے لیتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر سیاست کرنے کی مذمت بھی کردی ہے۔ لیکن مسئلہ یی بھی ہے کہ شہباز جونہی اسٹیبلشمنٹ سے اپنی دوستی کی کوئی کہانی سناتے ییں، نیب کا چھاپا پڑ جاتا ہے اور کپتان کے ایما پر ان کو پیشی کا بلاوا آ جاتا ہے۔
لیکن اس وقت سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر چچا اور انکی بھتیجی کی اپس میں کیوں نہیں بنتی، دونوں مل بانٹ کر کیوں نہیں کھا لیتے؟ کہیں اس میں ان دونوں کے ستاروں کا عمل دخل تو نہیں؟ یہ جاننے کے لئے ان کی اوریجنل ڈیٹ آف برتھ کا علم ہونا ضروری ہے۔ شہباز شریف 23 ستمبر 1951 کو پیدا ہوئے اور مریم نواز 28 اکتوبر 1973 کو پیدا ہوئیں۔ اس اعتبار سے چچا کا برج لِبرا یعنی میزان اور بھتیجی کا برج سکارپیو یعنی عقرب ہے۔ فرق صاف ظاہر ہے، ستاروں کے مطابق ایک کی پہچان ترازو اور دوسرے کی بچھو ہے۔ چچا اگر اپنے برج کے حساب سے مفاہمت پرست، مصلحت پسند، مادہ پرست، دل پھینک، بیرونی دنیا سے فوری متاثر ہونے اور دوسروں کی کمزوریوں پر نظر رکھنے والے ہیں تو قائدانہ صلاحیت رکھنے والی بھتیجی بااعتماد، سحر انگیز، دشمن کی چالوں کو سمجھنے والی، خوددار، ضدی، ہٹ دھرم، انتقام پسند اور دوسروں پر جلد بھروسہ کرنے والی ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ برج عقرب سے تعلق رکھنے والی عورت اور لِبرا سے تعلق رکھنے والا مرد کبھی اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ دونوں ایک دوسرے کو ہمیشہ شکی نگاہ سے دیکھتے رہیں گے اور دونوں میں سے کوئی دوسرے کے بنائے گئے اصولوں پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ لِبرا کو اگر لگتا ہے کہ عقرب بہت اگریسو اور ضدی ہے تو عقرب کو بھی لِبرا کی ہر چال میں بےایمانی اور دھوکہ نظر آتا ہے۔ دونوں کو لگتا ہے کہ دوسرا اپنے ٹارگٹ کو حاصل کرنے کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے، اس لئے دونوں ہی سیکنڈ آپشن ہمہ وقت تیار رکھتے ہیں۔ ان کے برج تو یہ بھی کہتے ہیں کہ دنیا اِدھر کی اُدھر ہو جائے، یہ ایک دوسرے کی توقعات پر کبھی پورے نہیں اُتر سکتے۔ ان دونوں کا تعلق آگ اور پانی کے ملاپ جیسا ہے۔ بظاہر ایک دوسرے سے شیر وشکر نظر آنے والے، دن رات اس کوشش میں رہتے ہیں کہ کس طرح دوسرے کو نیچا دکھایا جا سکتا ہے۔ اب چچا اور بھتیجی کا معاملہ ہی دیکھ لیں۔ بظاہر ان دونوں کے مابین اس وقت سب اچھا ہے۔ لیکن دراصل ایسا نہیں ہے۔ اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ چچا اور بھتیجی کے مابین اس وقت سیاسی وراثت پر قبضے کی پس پردہ جنگ میں تیزی آ چکی ہے۔ دیکھئے اب اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے؟
