کیا کپتان نیب کے ذریعے چوہدریوں کو دبا پائے گا؟

باخبرذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ق کے کرتا دھرتا چوہدری برادران کے خلاف نیب کی جانب سے انیس سال پرانے کیس کو دوبارہ کھولنے کا بنیادی محرک گزشتہ دنوں سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی اور نون لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق کی ملاقات ہے جس کا وزیراعظم عمران خان نے سخت برا منایا تھا. یاد رہے کہ خواجہ سعد رفیق نے 2018 کے الیکشن میں لاہور کے انتخابی حلقے سے عمران خان کو شکست دی تھی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا کپتان نیب کے ذریعے چوہدریوں کو دبا پائیں گے یا نہیں؟
ذرائع کا کہنا ہے کہ پرویز اورسعد رفیق ملاقات اور ن اور ق لیگ کی بڑھتی ہوئی قربتوں نے کپتان کو عدم تحفظ کا شکار کیا جس کے بعد نیب کی جانب سے چوہدریوں کے خلاف انیس سال پرانا کیس دوبارہ کھول دیا گیا۔ تاہم چوہدری برادران کی جانب سے نیب کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کے بعد چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاویداقبال دفاعی پوزیشن پر آگئے ہیں اور انہوں نے وضاحت کی ہے کہ چوہدری برادران کے خلاف کوئی نیا کیس نہیں بنایا گیا صرف پرانے مقدمے کو نمٹانے کے لیے دوبارہ سے کھولا گیا ہے۔
خیال رہے کہ چودھری پرویز الٰہی نے بحیثیت سپیکر پنجاب اسمبلی اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز شریف اور نون لیگ سے تعلق رکھنے والے ایک اور رکن اسمبلی خواجہ سلمان رفیق کے بارہا پروڈکشن آرڈر جاری کیے حالانکہ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے انہیں ایسا کرنے سے منع کیا گیا تھا۔ صرف یہی نہیں بلکہ جب خواجہ برادران ضمانت پر رہا ہوئے تو دونوں بھائیوں نے سپیکر چوہدری پرویز الہی سے ملاقات کرکے ان کا بھرپورشکریہ ادا کیا جس کے بعد یہ چہ میگوئیاں ہونے لگیں کہ ن لیگ چوہدری برادران کی مدد سے تخت پنجاب پر قبضہ کرنے والی ہے۔
اگرچہ دونوں جانب سے اس قسم کے کسی بھی الائنس کی تردید کی گئی تاہم اس وقت سے تحریک انصاف حکومت اس خوف کا شکار ہوگئی کہ کہیں نون لیگ والے چوہدری برادران کے ساتھ درپردہ ہاتھ ملا کر عثمان بزدار کو گھر نہ بھجوا دیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے ایما پر چوہدری برادران کو سبق سکھانے اور دباؤ میں لانے کے لیے نیب کو متحرک کیا گیا۔ مبینہ طور پر چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے اس حوالے سے ڈی جی نیب لاہور میجر ریٹائرڈ شہزادہ سلیم کو خصوصی ٹاسک سونپا کہ وہ چوہدری برادران کے خلاف 19 برس پرانے آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے مقدمے کی ازسرنو تحقیقات شروع کریں تاہم دوسری جانب چوہدری برادران نے حکومت اور نیب کے دباؤ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے بھرپور مزاحمت کا اعلان کیا اور نیب کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر کر دی۔ چوہدری برادران نے موقف اختیار کیا کہ چئیرمین نیب کو 19 برس پرانے مقدمے کی انکوائری کا حکم دینے کا اختیار حاصل نہیں اور نیب ایک سیاسی انجینئرنگ کا ادارہ ہے لہذا ان کی دادرسی کی جائے۔
چوہدری برادران کے سخت ردعمل کے بعد جہاں ایک طرف تحریک انصاف کو سبکی کا سامنا ہے اور مسلم لیگ قاف کے ساتھ مرکز اور پنجاب میں اتحاد بھی خطرے میں پڑ گیا ہے وہیں دوسری جانب چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال بھی دفاعی پوزیشن پر آگئے ہیں اس حوالے سے گزشتہ روز نیب نے ایک وضاحتی پریس جاری کی جس میں کہا گیا کہ چوہدری برادران کے خلاف کاروائی آئین و قانون کے عین مطابق ہو رہی ہے ان کے خلاف کوئی نیا کیس نہیں بنایا گیا البتہ 19 سال سے لٹکے ہوئے کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے دوبارہ کھولا گیا ہے۔ نیب ترجمان نے وضاحت کی کہ نیب سیاسی انجینئرنگ کا ادارہ نہیں بلکہ احتساب کا قومی ادارہ ہے جو آئین و قانون کے عین مطابق کام کر رہا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت اپنے اتحادیوں سیاسی مخالفین کے خلاف نیب کے ذریعے پراکسی جنگ لڑ رہی ہے۔ مرکز اور پنجاب میں مسلم لیگ قاف کے ساتھ اتحاد کر نے کے پہلے روز سے ہی تحریک انصاف اور چوہدری برادران کے درمیان سب اچھا نہیں ہے۔ چوہدری مونس الہی کو وفاقی وزیر بنائے جانے کے حوالے سے گزشتہ ڈیڑھ سال سے دونوں جماعتوں کے درمیان واضح ڈیڈلاک موجود ہے۔ اس کے علاوہ وزیراعظم عمران خان کو چوہدری شجاعت کا یہ مطالبہ بھی پسند نہیں آیا جب انہوں نے کہا تھا کہ شدید علیل آصف علی زرداری کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کیا جائے اور نوازشریف کو علاج کیلئے لندن بھجوانے میں ایک لمحہ بھی تاخیر نہ کی جائے۔
