مشکلات کا شکار ٹک ٹاک نے پاکستانی صارفین پر فوکس کرلیا


بھارت کے بعد امریکہ میں پابندی کے خدشات کآ شکار معروف ویڈیو شئیرنگ اور سوشل نیٹ ورکنگ ایپ ٹک ٹاک نے ہر طرف سے گھر جانے کے بعد اب پاکستانی مارکیٹ کو اپنا ٹارگٹ بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور پاکستانی صارفین پر اپنی توجہ مرکوز کردی ہے۔ یاد رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے ٹک ٹاک کی انتظامیہ کو 45 دن کی ڈیڈ لائن دی ہے جس کے دوران وہ یا تو کمپنی امریکہ کو بیچ دے گی یا امریکہ میں اس پر مکمل پابندی عائد کردی جائے گی۔
اس سے پہلے چین اور انڈیا سرحدی کشیدگی کے بعد بھارت میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ ان حالات میں اب ٹک ٹاک کی انتظامیہ نے پاکستانی صارفین کے ساتھ اپنی امیدیں وابستہ کرلی ہیں۔ اب پاکستانی صارفین کو اپنی کمیونٹی گائیڈلائنز سے آگاہ کرنے کے لیے ٹک ٹاک نے اپنی پالیسیوں کو اردو زبان میں بھی جاری کر دیا ہے۔ کمپنی کے مطابق جولائی سے دسمبر 2019 کے دوران ایسا مواد تک ٹاک کے پلیٹ فارم سے ہٹایا گیا جو اسکی پالیسیوں کے خلاف تھا جبکہ مسلسل خلاف ورزی کرنے والے متعدد اکاؤنٹس کوبھی معطل یا ختم کیا گیا ہے۔ ٹک ٹاک کی جانب سے اردو زبان میں جاری کردہ گائیڈ لائنز میں بتایا گیا ہے کہ صارفین ٹک ٹاک میں کس قسم کی ویڈیوز کو اپ لوڈ کرسکتے ہیں اور کس قسم کے مواد کی اجازت نہیں ہے۔ کمپنی کے مطابق مواد کی جانچ پڑتال کی پالیسیوں پر عملدرآمد مختلف ٹیکنالوجیز اور اور ماڈریشن اسٹریٹیجز کے امتزاج سے کیا جاتا ہے تاکہ مسائل پیدا کرنے والے مواد اور اکاؤنٹس کی نشاندہی، اُن کا جائزہ اور مناسب سزائیں دی جاسکیں۔
ٹک ٹاک کمپنی کے مطابق ٹیکنالوجی کے شعبے میں ٹک ٹاک کے سسٹمز خود کار طریقے سے مواد کی ایسی مخصوص اقسام کی نشاندہی کرتے ہیں جو پالیسیوں کی خلاف ورزی پر مبنی ہو اور اس طرح فوری طور پر ایکشن لینا ممکن ہوتا ہے، تاکہ نقصان کو کم کیا جا سکے۔ ٹک ٹاک کے سسٹم ایسی چیزوں پربھی توجہ دیتے ہیں جن کا ایک مخصوص پیٹرن ہو یا ان میں رویوں سے متعلق سگنل موجود ہو تاکہ ممکن طور پر خلاف ورزی کرنے والے مواد کی نشاندہی کی جا سکے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ ‘آج کی ٹیکنالوجی اتنی ایڈوانسڈ نہیں کہ ہم پالیسیوں کے نفاذ کے لیے خود پر انحصار کرسکیں’۔ اس بات کا تعین کرنے کے لیے کہ کوئی ویڈیو گائیڈ لائنز کے خلاف تو نہیں، اس کا سیاق و سباق اہم ہوتا ہے۔ ٹک ٹاک کے پاس تربیت یافتہ ماڈریٹرز کی ٹیم موجود ہے جو مواد کا جائزہ لینے اور اُسے ہٹانے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ ٹک ٹاک نے کمیونٹی گائیڈ لائنز بارے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض معاملات میں ٹک ٹاک ٹیم تیاری کے مراحل میں موجود مواد یا خلاف ورزی کا انداز رکھنے والے مواد، مثلاً خطرناک چیلنجز یا نقصان دہ غلط اطلاعات، کو پبلک ہونے سے پہلے ہی ہٹا دیتی ہے۔
ٹک ٹاک کے مطابق ماڈریشن کے لیے ٹک ٹاک کو بھجوائی جانے والی رپورٹس کی بنیاد پر بھی ایکشن لیا جاتا ہے۔ اس کے لیے ایپ کے اندر ہی ایک سادہ رپورٹنگ فیچر موجود ہے جس کے ذریعے ٹک ٹاک استعمال کرنے والے ممکن طور پر غیر مناسب مواد یا اکاؤنٹ کے بارے میں ٹک ٹاک کو رپورٹ کر سکتے ہیں۔ اپنی حالیہ ٹرانسپیرنسی رپورٹ میں ٹک ٹاک نے ایسی ویڈیوز کے عالمی حجم کا تذکرہ بھی کیا گیا تھا جنہیں اس کی کمیونٹی گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی پر ہٹایا گیا۔ اس رپورٹ کے مطابق، پاکستان ان پانچ ممالک میں شامل ہے جہاں بہت بڑی تعداد میں ویڈیوز ہٹائی گئی ہیں۔ ٹک ٹاک کے مطابق مجموعی طور پر جولائی سے دسمبر 2019 کے دوران اس نے دنیا بھر میں 4 کروڑ 90 لاکھ سے زائد ویڈیو کو پالیسیوں کی خلاف ورزی پر ڈیلیٹ کیا ہے۔ کمپنی کی جانب سے سب سے زیادہ ویڈیوز بھارت میں ڈیلیٹ کی گئی جن کی تعداد ایک کروڑ 60 لاکھ سے زائد تھی، جس کے بعد امریکا دوسرے نمبر پر ہے جہاں یہ تعداد 46 لاکھ رہی۔ پاکستان اس فہرست میں تیسرے نمبر پر موجود ہے جہاں ٹک ٹاک نے 37 لاکھ 28 ہزار سے زائد ویڈیوز ڈیلیٹ کیں جبکہ برطانیہ میں 20 لاکھ اور روس میں 12 لاکھ سے زائد ویڈیوز کو صاف کیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button