اپوزیشن کی اے پی سی کا انعقاد خطرے میں پڑ گیا؟

مولانا فضل الرحمان کی طرف سے اکیلے ہی حکومت مخالف تحریک چلانے کے اعلان اور اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی سے تحریری یقین دہانی مانگنے کے بعد اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد خطرے میں پڑ گیا. اپوزیشن کے پلیٹ فارم سے حکومت مخالف مشترکہ تحریک چلانے کے امیدیں بھی دم توڑنے لگی ہیں.
اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیزکانفرنس منعقد ہونے کے امکانات کم ہوگئے ہیں، مولانا فضل الرحمان نے 7 ستمبر کو اکیلے ہی پشاور میں جلسہ اور احتجاجی ریلی کا اعلان کردیا ہے. ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے پارلیمنٹ میں کردار نے مولانا فضل الرحمان کو ناراض کردیا ہے. اے پی سی کے حوالے سے ہونے والی حالیہ ملاقاتوں میں مولانا فضل الرحمان نے حکومت مخالف تحریک کیلئے دونوں بڑی جماعتوں سے تحریری معاہدہ مانگا تھا، ۔احتجاجی تحریک چلانے سے قبل مولانا فضل الرحمان نے مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی سے تحریری معاہدے کی شرط رکھی تھی۔ تاہم مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے مولانا فضل الرحمان کو تحریری معاہدے کی یقین دہانی کے بعد پارلیمنٹ میں قانون سازی میں نہ صرف حکومت کا ساتھ دیا بلکہ جے یو آئی کو فیصلے بارے اعتماد میں بھی نہ لیا.جس کے بعد مولانا نے دونوں جماعتوں کی قیادت کو ناراضی کا پیغام پہنچاتے ہوئے تمام رابطے منقطع کر لئے بعد ازاں جے یو آئی کے پلیٹ فارم سے 7 ستمبر کو پشاور میں جلسے اور احتجاجی ریلی کا اعلان کر دیا.
خیال رہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے مطابق عید کے بعد اے پی سی ایجنڈے کیلئے اپوزیشن کی رہبرکمیٹی کا اجلاس ہونا تھا۔لیکن پارلیمنٹ میں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے کردار نے مولانا فضل الرحمان کو ناراض کردیا ہے۔ واضح رہے پارلیمنٹ نے میوچل لیگل اسسٹنس کریمنل میٹرزترمیمی بل2020ء کثرت رائے سے منظور کیا گیا ہے۔ ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے ترامیم شامل کرنے پر بل کی حمایت جبکہ جے یوآئی ف ، میپ ، نیشنل پارٹی نے مخالفت کی تھی۔وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن سے اتفاق ہوچکا ہے، پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی ترامیم بھی بل میں شامل کرلی گئی ہیں۔پیپلزپارٹی کے آغا رفیع اور مسلم لیگ ن کے محسن شاہنواز رانجھا نے ترامیم شامل ہونے پر اپنی تجاویز واپس لے لیں۔ سینیٹ اجلاس میں جے یو آئی کے مرکزی رہنما مولانا عطاء الرحمان نے بل کے حق میں ووٹ دینے اور جمیعت علمائے اسلام کو اعتماد میں نہ لینے پر اپوزیشن جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اتحاد ختم کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم بعد ازاں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے نہ صرف اعتماد میں نہ لینے پر جے یو آئی کی قیادت سے معذرت کی بلکہ آئندہ تمام فیصلے مشاورت سے کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی تاہم اسمبلی فلور پر شہباز شریف کی یقین دہانی بھی مولانا فضل الرحمان کی ناراضی کو دور نہ کر سکی.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button