ملک بھر میں پبلک مقامات پر ماسک کا استعمال لازمی قرار

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹرظفر مرزا نے کہا ہے کہ مساجد، بازاروں اور دیگر پرہجوم مقامات پر ماسک پہننا لازم قرار دیا گیا ہے۔
ڈاکٹر ظفر مرزا نے اسلام آباد میں معاون خصوصی معید یوسف کے ہمزاہ پریس کانفرنس کرتےہوئے ظفر مرزا نے کہا کہ ‘جیسے کیسز اور اموات بڑھ رہی ہیں تو جو احتیاطی تدابیر دی گئی ہیں ان پر سختی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے اور خاص کرماسک کے استعمال کو لازمی قرار دے رہے ہیں’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘آپ دفتر یا باہر کہیں بھی ہوں اور سمجھتے ہوں کہ سماجی فاصلہ رکھنا ہے تو وہاں ماسک پہننا لازمی ہے، پرہجوم جگہوں پر ماسک پہننا ہم نے لازمی قرار دیا ہے’۔معاون خصوصی نے کہا کہ ‘مساجد، بازاروں، شاپنگ مالز، ذرائع آؐمد رفت چاہے جہاز، ریل، بس یا ویگن ہو یہاں ماسک پہننا لازم ہے’۔
مشیر قومی سلامتی امور معید یوسف نے کہا کہ سمندر پار پاکستانی جو واپس آنا چاہتے ہیں ان میں سے دنیا کے 55 ممالک سے 33 ہزار پاکستانیوں کو واپس لاچکے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ‘اس وقت لگ بھگ ایک ہزار پاکستانی روزانہ واپس آرہےہیں اور یکم جون سے 10 جون تک لگ بھگ 20 ہزار لوگ واپس آئیں گے یعنی روزانہ دو ہزار لوگ آئیں گے جو ہماری گزشتہ پالیسی کا دوگنا ہے’۔معید یوسف نے کہا کہ ‘ہمارا اصل مسئلہ خلیجی ممالک سے پاکستانیوں کی واپسی ہے، یکم جون سے 10 جون کے دوران متحدہ عرب امارات سے 8 ہزار، 4 ہزار سعودی عرب سے واپس لائیں گے کیونکہ اس دو ممالک میں بہت زیادہ دباؤ آرہا ہے’۔انہوں نے کہا کہ ‘بہت جلد ہم ایک نئی پالیسی لا رہے ہیں جس کے تحت سمندر پار پاکستانیوں کے لیے خوش خبری ہے کہ واپس لانے کی تعداد بڑھا رہے ہیں اورجو مسائل ہیں وہ بھی جلدختم ہوجائیں گے، اس حوالے سے تفصیلات چند روز میں جاری کریں گے’۔
پاکستان کی فضائی حدود پروازوں کے لیے کھولنے سے متعلق خبروں کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘سول ایوی ایشن نے صرف بیرونی ملک جانے والی پروازوں پر عائد پابندی ختم کردی ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ کل سےیہ تاثر دیا جارہا تھا کہ مکمل پابندی ہٹادی گئی ہے جو ہمارے لیےممکن نہیں ہے لیکن یہاں سے بھی جانے کے لیے پابندی تھی لیکن اب جو پرواز آنا چاہے گی وہ خالی آئے گی اور یہاں سے جو باہر جانا چاہتےہیں ان کو اجازت ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button