ملک میں ڈینگی سمیت مختلف وبائیں پھوٹ پڑیں

کرونا کیسز کی شرح میں‌ کمی ہوتے ہی ملک کے مختلف حصوں میں ڈینگی ، ٹائیفائیڈ‌ اور ملیریا جیسی بیماریاں ایک ہی وقت میں‌ پھوٹ‌ پڑی ہیں‌ ، ماہرین نے لوگوں کو پولی فارمیسی سے گریز کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں‌۔

سائنٹیفک ٹاسک فورس برائے کووڈ 19 کے رکن پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم نے بتایا حالانکہ کووڈ 19 کچھ حد تک کنٹرول ہوگیا ہے لیکن ڈینگی کیسز میں اضافے نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ، اس وقت ہمارے یہاں ڈینگی، کووڈ 19، ٹائیفائیڈ اور ملیریا سمیت متعدد انفیکشن موجود ہیں اور یہ سب ایک ہی وقت میں پھیل رہے ہیں۔

بیماریوں کے پھیلائو کے حوالے سے ڈاکٹر جاوید اکرم کا کہنا تھا کہ کرونا ، ڈینگی اور ٹائیفائیڈ کی علامات ایسی ہیں جس کی وجہ سے متعدد ڈاکٹر ایک ہی وقت میں تمام ادویات تجویز کردیتے ہیں۔ایک تربیت یافتہ معالج کو ادویات تجویز کرنے کے بجائے علامات سے بیماری کی درست تشخیص اور شناخت کرنے یا ٹیسٹ تجویز کرنے کا اہل ہونا چاہئے۔

خیال رہے کہ ڈینگی ایک مچھر کے ذریعے پھیلتا ہے اور اس کے مریض کو پلیٹلیٹس کی کمی کا سامنا ہوتا ہے جس کے نتیجے میں ٹرانسفیوژن کی ضرورت پڑتی ہے اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ بیماری جان لیوا ہیمرجک بخار میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

Back to top button