نوازشریف کو پاکستان میں ایک اور ویکیسن لگ گئی

لندن میں قیام پذیر سابق وزیر اعظم نوازشریف کو سائینو ویک کے بعد کین سائنو ویکسین کی ڈوز بھی لگ گئی ہے۔ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے ریکارڈ کے مطابق نواز شریف کو ویکسین نارروال کے ایک سکول میں لگائی گئی۔ یہ خبر سامنے آنے کے بعد ویکسینیشن کے سسٹم پر ایک بار پھر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ واضح رہے کہ پچھلے دنوں لندن میں قیام پذیر نواز شریف کو لاہور میں ویکسی نیشن لگائے جانے کی خبر پر محکمہ صحت پنجاب میں ہلچل مچ گئی تھی جس کی حکومتی سطح پر انکوائری کی گئی تھی اور دو ملازمین کے خلاف کارروائی کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ ہمیشہ کی طرح وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے اس واردات کا الزام بھی مریم نواز پر لگاتے ہوئے کہا تھا کہ جعلی ڈوز کا اندراج کرنے والے دونوں ملازمین ان کے حلقہ انتخاب سے تعلق رکھتے ہیں لہذا یہ معاملہ ملی بھگت کا یے تا کہ حکومت کو بدنام کیا جا سکے۔
معلوم ہوا ہے کہ اب نواز شریف کی ویکسینیشن کا اندراج نارووال کے ایک سکول میں کیا گیا ہے جہاں انہیں تین اکتوبر کو کاغذوں میں سائنو ویک کی ڈوز لگی ہے۔
یاد رہے کہ نواز شریف  طبی بنیادوں پر 2019 سے لندن میں مقیم ہیں مگر ریکارڈ کے مطابق انہیں 22 ستمبر 2021 کو لاہور میں کوٹ خواجہ سعید کے ویکسینیشن سینٹر میں سائنوویک کی پہلی خوراک دی گئی. پہلے تو محکمہ صحت پنجاب اس خبر کو بے بنیاد قراردیتا رہا مگر جب نوازشریف کے شناختی کارڈ کے ساتھ 1166 پر بجھوایا گیا پیغام سامنے آیا تو محکمے نے انکوائری کا اعلان کیا۔ اس سے پہلے بھی کئی شہروں میں ویکسین کے بغیر جعلی انٹریاں کرکے مختلف ویکسینز کے سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے اطلاعات سامنے آچکی تھیں۔
سابق وزیراعظم کے شناختی کارڈ پر لاہور میں انکی ویکسین نیشن ہونے کا جعلی اندراج نادرا کے پورٹل پر بھی اپ لوڈ ہو گیا تھا۔ 22 ستمبر کے اندراج میں نوازشریف کو سائنوویک کی پہلی خوراک لگائی گئی جبکہ سابق وزیر اعظم 2019 سے لندن میں مقیم ہیں. ترجمان محکمہ صحت پنجاب کی جانب سے بتایا گیا کہ نواز شریف کے شناختی کارڈ کا اندراج لاہور کے کوٹ خواجہ سعید ویکسینیشن سینٹر میں ہوا، نوازشریف کی ویکسینیشن معاملے کی چھان بین بھی کی گئی. محکمہ صحت پنجاب کا کہنا تھا کہ جعلی انٹری کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی کی جائے رہی ہے۔ تاہم اب نواز شریف کو دوبارہ سے کاغذوں میں کرونا ویکسین کی ایک اور ڈوز لگ گئی ہے جس سے حکومتی کرونا مخالف مہم کی ساکھ پر دوبارہ سوال اٹھ گئے ہیں۔

Back to top button