کئی ممالک کے سربراہان بھی آف شور کمپنیوں کے مالک نکلے

اردن کے بادشاہ اور جمہوریہ چیک کے وزیراعظم سمیت درجنوں ریاستوں و حکومتی سربراہان نے آف شور ٹیکس ہیونز میں کروڑوں کی دولت چھپا کر رکھی ہے ، پنڈورا پیپرز تحقیقات میں واشنگٹن پوسٹ ، بی بی سی اور گارجین سمیت لگ بھگ 600 صحافیوں نے کردار ادا کیا ہے۔
آئی سی آئی جے کی تجزیئے میں دستاویزات میں تقریباً 35 موجودہ اور سابقہ رہنماؤں کے نام شامل ہیں جن پر کرپشن، منی لانڈرنگ اور عالمی سطح پر ٹیکس چوری کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ کس طرح شاہ عبداللہ دوئم نے آف شور کمپنیوں کا نیٹ ورک بنایا اور ٹیکس ادائیگی کم کر کے ملیبو، کیلیفورنیا سے واشنگٹن اور لندن میں 10 کروڑ ڈالرز کی جائیدادیں بنائیں۔
بی بی سی نے شاہ عبداللہ کے وکیل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تمام جائیدادیں ذاتی دولت سے خریدی گئی ہیں اور یہ اعلیٰ عہدیداران کے لیے عام ہے کہ وہ رازداری اور سلامتی کی وجوہات کی بنا پر آف شور کمپنیوں کے ذریعے جائیدادیں خریدتے ہیں ، جمہوریہ چیک کے وزیر اعظم آندرے بابس نے فرانس کے جنوب میں 2 کروڑ 20 لاکھ ڈالر مالیت کا قلعہ خریدنے کے لیے استعمال ہونے والی آف شور کمپنی کو ظاہر نہیں کیا۔
آئی سی آئی جے نے مجموعی طور پر 336 اعلیٰ سطح کے سیاستدانوں، ملکی سربراہان، کابینہ کے وزرا، سفرا اور دیگر سمیت عوامی عہدہ رکھنے والوں کو آف شور ہیونز میں تقریباً ایک ہزار کمپنیوں سے منسلک پایا۔دستاویزات کے مطابق دو تہائی سے زائد کمپنیاں برطانیہ کے ورجن آئی لینڈ میں قائم ہیں۔
انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس نے زور دیا کہ بیشتر ممالک میں آف شور اثاثے رکھنا یا ملک کی سرحدوں سے باہر کاروبار کرنے کے لیے کمپنیاں بنانا غیر قانونی نہیں ہے تاہم اس طرح کے انکشافات کرپشن کے خلاف مہم چلانے والے یا اپنے ملک میں کفایت شعاری کی وکالت کرنے والے رہنماؤں کے لیے باعث شرمندگی ہیں۔
آذربائیجان کے صدر الہام علیوف کے اہل خانہ اور ان کے ساتھی بھی مبینہ طور پر برطانیہ میں خفیہ طریقے سے کروڑوں ڈالر مالیت کی جائیداد کے معاہدوں میں ملوث پائے گئے۔کینیا کے صدر اوہورو کینیاٹا اور ان کے خاندان کے 6 افراد پر مبینہ طور پر خفیہ طریقے سے آف شور کمپنیوں کے نیٹ ورک کی ملکیت کا الزام ہے۔روس کے صدر ولادی میر پوٹن بھی ساتھیوں کے ذریعے موناکو میں خفیہ اثاثے رکھنے والوں میں شامل ہیں۔
تازہ تحقیقات کی دستاویزات برٹش ورجن آئی لینڈ، پاناما بیلائز، قبرص، متحدہ عرب امارات، سنگاپور اور سوئٹزرلینڈ سمیت دیگر ممالک میں واقع مالیاتی خدمات انجام دینے والی کمپنیوں سے حاصل کی گئی ہیں۔
مقامی میڈیا پر جاری سرکاری خط میں پاناما نے خدشات کا اظہارکیا کہ نئے انکشافات کی اشاعت ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔پاناما حکومت نے قانونی فرم کے ذریعے ‘آئی سی جے آئی’ کو بھیجے گئے خط میں کہا کہ ‘یہ نقصان ناقابل تلافی ہو سکتا ہے۔
