کالعدم ٹی ٹی پی سے مذاکرات پر حکومت تنقید کی زد میں‌

اپوزیشن رہنمائوں کو اعتماد میں لیے بغیر کالعدم ٹی ٹی پی سے مذاکرات کرنے پر حکومت شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہے ، پی پی پی اور پاکستان مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے اراکین پارلیمنٹ نے مذاکرات کے یکطرفہ فیصلے پر تشویش کا اظہار کر دیا۔

پی پی پی کی سینیٹ میں پارلیمانی رہنما اور نائب صدر شیری رحمٰن نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اچھے طالبان سے مذاکرات سے کیا سیاسی حل نکالنا چاہتے ہیں کیونکہ دہشتگردوں سے لڑائی میں شہریوں اور فوجیوں کی بڑے پیمانے پر قربانیوں سے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

پی پی کی رہنما نے مزید کہا کہ خارجہ اور سیکیورٹی کی پالیسی، جو قومی یکجہتی کی بنیاد کا کام کرتی تھی ، اب باقاعدگی سے کابینہ کے اراکین کی جانب سے یکطرفہ اور متصادم اعلانات کا نشانہ بنی رہتی ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ کی چیئرپرسن نے کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی پاکستان کیخلاف بھارت میں پروان چڑھنے والے دہشت گرد گروہوں کے ہاتھوں میں ہیں تو دوسرے کہتے ہیں کہ اگر پر تشدد کارروائیاں ترک کردیں تو انہیں غیر مسلح اور دوبارہ آباد کرسکتے ہیں۔

دوسری جانب سابق صدر آصف علی زرداری نے شمالی وزیرستان میں فورسز کی گاڑی پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کا واحد علاج نیشنل ایکشن پلان ہے ، دہشت گردی کی نرسریوں کو تباہ کرنا ان لوگوں کا علاج ہے جو ریاست کی رٹ کو چیلنج کرتے ہیں۔

مسلم لیگ ن کے سینیٹر عرفان صدیقی نے ایک بیان میں کہا کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کو خفیہ رکھنا ’غیر منصفانہ‘ تھا۔

Back to top button