کیا امریکہ پاکستانی ائیر کوریڈور کے لئے دباؤ بڑھا رہا ہے؟

https://youtu.be/Nk32EUNQNTU
امریکی سینیٹ میں افغان طالبان کو برسراقتدار لانے میں مدد کرنے پر پاکستان کے خلاف تحقیقات کرنے اور پابندیاں لگانے کا بل امریکہ کی جانب سے اسلام آباد پر دباؤ بڑھانے کا ایک حربہ قرار دیا جا رہا ہے جس کا بنیادی مقصد افغانستان میں فضائی حملوں کے لئے ایئر کوریڈور کی فضائی سہولت حاصل کرنا ہے۔
واضح رہے کہ افغانستان سے امریکی اور اتحآدی افواج کے مکمل انخلا کے باوجود امریکہ وہاں موجود داعش خراسان اور القاعدہ کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کیلئے پاکستانی ایئر کوریڈرو یعنی فضائی حدود استعمال کرنے کا خواہاں ہے۔ اس سے قبل امریکہ کی جانب سے پاکستان میں فضائی اڈوں کی فراہمی کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا تاہم حکومت نے افغان طالبان کے سخت ردعمل کے بعد ایسا کرنے سے انکار کردیا تھا۔ تاہم اب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغانستان میں القاعدہ کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کیلئے امریکا کو پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے پر بات چیت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو پاکستانی فضائی حدود کی فراہمی کی اجازت کا فیصلہ کابینہ کرے گی۔
یاد رہے کہ امریکہ نے فوجی انخلا کے باوجود افغانستان میں کارروائی کے لئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مینڈیٹ کو چھ ماہ تک توسیع دے دی ہے۔ یوں وہ اب بھی افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف فوجی کاروائی کرنے کی قانونی اجازت رکھتا ہے اور اسی مقصد کے لیے اسے پاکستانی ایئر کوریڈور درکار ہے۔ رپبلکن سینیٹرز کی جانب سے سینت میں پیش کیے گئے بل کو نہ صرف افغان طالبان بلکہ پاکستان کے لیے بھی خطرے سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ امریکی سینیٹ میں حزب اختلاف رپبلکن پارٹی کے سینیٹرز نے جو بل پیش کیا ہے اس کے تحت افغانستان میں طالبان کو ان کی کامیابیوں میں مدد فراہم کرنے والے افراد اور ممالک پر پابندیاں عمل میں آ سکتی ہیں، جس پر پاکستان نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مجوزہ بل کی منظوری کی صورت میں بائیڈن انتظامیہ کو کانگریس کی کمیٹی کے سامنے ایک رپورٹ پیش کرنا ہوگی، جس میں 2001 سے 2021 کے دوران طالبان کو کسی بھی قسم کی مدد فراہم کرنے والے افراد اور ممالک کی تفصیل ہوگی اور اس سلسلے میں پاکستان کا مشکوک ملک کی حیثیت سے ذکر موجود ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ نے اس بل میں پاکستان کے ذکر کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے تمام حوالہ جات پاک امریکہ تعلقات کی روح سے متصادم ہیں۔ دفتر خارجہ نے یہ بھی کہا یے کہ 2001 سے افغانستان کے ساتھ تعاون، بشمول افغان امن عمل کی سہولت اور افغانستان سے امریکی شہریوں کے حالیہ انخلا کے دوران پاکستان نے اہم ترین کردار ادا کیا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان پائیدار سکیورٹی تعاون خطے میں مستقبل میں دہشت گردی کے کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے اہم ہے اور اس طرح کی مجوزہ قانون سازی کے اقدامات غیر معقول اور غیر نتیجہ خیز ثابت ہوں گے۔
پاک امریکہ تعلقات پر نظر رکھنے والے کئی ماہرین رپبلکن سینیٹرز کے بل کو امریکہ کی اندرونی سیاست کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں جبکہ کئی اسے پاکستان کے لیے خطرے کی تلوار سے تعبیر کر رہے ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز اسلام آباد سے منسلک ریسرچ سکالر محمد علی بیگ اس بل کو پاکستان کے لیے ایک خطرہ تو قرار دیتے ہیں، تاہم ان کے خیال میں اس کا قانونی شکل اختیار کرنا بعید از قیاس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بل کو صرف 22 رپبلکن سینیٹرز کی حمایت حاصل ہے، اس لیے مجھے نہیں لگتا کہ یہ امریکی سینیٹ سے منظور ہوسکے گا۔ بین الاقوامی امور کے استاد پروفیسر ڈاکٹر رفعت حسین سمجھتے ہیں کہ اس بل کے قانون کی شکل اختیار کرنے کے امکانات بہت کم ہیں، تاہم واشنگٹن اسے اسلام آباد پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال ضرور کرے گا۔ ان کے خیال میں امریکہ افغانستان میں حملوں کی خاطر پاکستان کے ایئر کوریڈور یعنی فضائی راستے استعمال کرنا چاہتا ہے اور یہ مقصد رپبلکنز کے پیش کردہ بل کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ رفعت حسین کا کہنا ہے کہ سی آئی اے کے سربراہ ولیم برنز کے حالیہ دورہ پاکستان کا مقصد بھی ہوائی راستوں کے استعمال سے متعلق پاکستانی حکام سے بات کرنا تھا۔
تاہم نجم سیٹھی کے خیال میں اگر امریکہ میں طالبان اور ان کے حمایتیوں کو سبق سکھانے کا فیصلہ ہو چکا ہے تو بائیڈن کی ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز بھی اس بل کی حمایت کریں گے اور اسے ہر صورت منظور کروایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو افغانستان میں بڑی شرمندگی اٹھانا پڑی ہے اور انہیں ہر صورت اس ناکامی کے لیے کسی کو مورد الزام ٹھہرانا پڑے گا لہازا پابندیوں کے بل میں پاکستان کا نام ڈال دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پر پابندیوں کی صورت میں اس کے اہم ریاستی اداروں کے بعض عہدیداروں پر سفری پابندیاں بھی لگ سکتی ہیں۔ سیٹھی نے کہا کہ دوسرا امکان یہ ہے کہ پاکستان پر پابندیاں لگا دی جائیں لیکن انکو صدارتی سرٹیفیکیٹ سے منسلک کر دیا جائے، جیسا کہ 90 کی دہائی میں اسلام آباد پر پابندیاں تو لگا دی گئیں لیکن ان کو اس وقت کے امریکی صدر کی سالانہ یقین دہانی سے منسلک کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے ایسی صورت حال بھی مشکل ہو گی، کیونکہ وہ سب کچھ نہیں کر سکتا جو افغانستان کے حوالے سے اسلام آباد کو کرنے کا کہا جا رہا ہے۔
