مودی علاقائی امن واستحکام کیلئے سب سےبڑاخطرہ ہے

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہےکہ دنیا اب تسلیم کررہی ہےکہ مقبوضہ کشمیراوربھارت میں جمہوریت دشمن اورنازی نظریہ مسلط کیا جارہاہے، یہ علاقائی امن اوراستحکام کےلیےسب سےبڑا خطرہ ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے اپنی ایک ٹوئٹ میں برطانوی جریدے دی اکانومسٹ میں بھارتی انتہاپسندی سےمتعلق شائع ہونے والی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئےمودی سرکارکو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی اقدامات علاقائی امن اوراستحکام کےلیے سب سےبڑاخطرہ ہیں۔ عمران خان نےمزید کہا کہ بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کی نازی نظریے پرمبنی پالیسیوں کی وجہ سے80 لاکھ کشمیری مسلمان پہلےہی اذیت کا شکارہیں۔
خیال رہے کہ دی اکانومسٹ میں شائع ہونےوالی رپورٹ میں بھارتی مسلمانوں کےخلاف شہریت کےمتنازع قانون پرتنقید کرتے ہوئےکہا گیا ہےکہ مودی حکومت کےاقدامات نےبھارت کوسیکولرکےبجائےجنونی ہندوریاست بنا دیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ تنگ نظراورمتعصب بھارت میں مودی کےفیصلوں سےتقسیم گہری ہورہی ہے، اب برسوں سےبھارت میں آباد 20 کروڑ مسلمانوں کوشہریت کا ثبوت دینا ہوگا۔
برطانوی جریدے کی رپورٹ میں بھارتی سپریم کورٹ سےمطالبہ کیا گیا ہےکہ وہ ہمت دکھاتےہوئےمودی سرکارکےاقدامات کو غیرآئینی قراردےاورمختلف ریاستوں میں ہونےوالےمظاہروں پربھی توجہ دے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ مودی حکومت کےاقدامات بھارت کے لیےسیاسی زہرثابت ہوں گے،ان کےفیصلوں سےبھارت میں خون خرابےکا بھی خطرہ ہے۔
واضح رہےکہ بھارت میں شہریت کے متنازع قانون کےخلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہےاورمختلف شہروں میں بھارتی شہری مودی سرکار کی متعصبانہ پالیسیوں کےخلاف احتجاج کررہے ہیں۔ اس متنازع قانون کے تحت پاکستان، بنگلا دیش اورافغانستان سے بھارت جانےوالےیرمسلموں کوشہریت دی جائے گی لیکن مسلمانوں کو نہیں۔ بھارتی شہری متنازع بل کےخلاف سراپا احتجاج ہیں جس میں خواتین کی بھی بڑی تعداد شریک ہے۔
